چمن بم دھماکہ: چھ سالہ بچے سمیت کم ازکم تین افراد ہلاک، 13 زخمی

چمن دھماکہ

،تصویر کا ذریعہAsghar Achakzai

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل پر دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے تاج روڈ پر لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے قریب کھڑا کیا تھا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں ایک بم دھماکے میں کم ازکم تین افراد ہلاک اور13زخمی ہوگئے ہیں ۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چمن کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے بچے کی عمر 6 سال ہے۔

دھماکہ منگل کی شب چمن کی معروف شاہراہ تاج روڈ پر اس وقت ہوا جب پولیس کی ایک گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔ اس گاڑی میں چمن پولیس کے ایس ایچ او مقصود احمد سفر کر رہے تھے ۔

مقصود احمد نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل پر دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے تاج روڈ پر لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے قریب کھڑا کیا تھا۔

چمن دھماکہ

،تصویر کا ذریعہNoor Zaman Achakzai

انہوں نے بتایا کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ان کی گاڑی موٹر سائیکل کے قریب سے گزر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں وہ خود تو محفوظ رہے رہے تاہم گاڑی میں سوار ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 13 افراد زخمی ہیں۔ زخمی افراد کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن منتقل کیا گیا ہے۔

چمن دھماکہ

،تصویر کا ذریعہAsghar Achakzai

،تصویر کا کیپشندھماکہ منگل کی شب چمن کی معروف شاہراہ تاج روڈ پر اس وقت ہوا جب پولیس کی ایک گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چمن کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے بچے کی عمر 6 سال ہے۔

ہسپتال کے اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے میں نو افراد زیادہ زخمی تھے جن کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

چمن کہاں واقع ہے؟

چمن افغانستان سے متصل ضلع قلعہ عبداللہ کا ہیڈکوارٹر ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے چمن شمال میں اندازاً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

چمن کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

یہ نہ صرف افغانستان سے متصل ایک اہم سرحدی شہر ہے بلکہ یہ طورخم کی طرح افغانستان اور پاکستان کے علاوہ وسط ایشائی ریاستوں کے درمیان بھی ایک اہم گزرگاہ ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان آمدروفت اور تجارت کے لیے اہم گزرگاہ ہونے کے علاوہ قندہار اور افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں میں نیٹو فورسز کی رسد کی گاڑیوں کی آمدورفت بھی یہاں سے ہوتی ہے۔

چمن کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جس میں گزشتہ کئی سال سے بم دھماکوں اور بد امنی کے دیگر واقعات پیش آرہے ہیں۔

چمن میں گزشتہ سال اگست میں بھی ایک بڑا دھماکہ ہوا تھا جس میں 5 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تھے۔

تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں چمن اور گردونواح کے حالات میں بہتری آئی ہے۔