یونیورسٹی آف لاہور: ’اظہارِ محبت‘ پر نکالے گئے طلبہ کو فواد چوہدری کی حمایت حاصل، سوشل میڈیا پر بھی فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ

’لڑکی کو سرِعام ڈانٹنے، مارنے پر کوئی متوجہ نہیں ہوتا۔ پر پیار سے گلے لگانا بہت بڑا جرم ہے۔'

یہ الفاظ پاکستانی گلوکار شہزاد رائے کے ہیں جنھوں نے لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کی جانب سے ’محبت کے اظہار‘ کی بنا پر نکالے گئے دو طلبہ کی حمایت میں ایک پیغام جاری کیا ہے۔

اسی طرح پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مطالبہ کیا ہے کہ ’یونیورسٹی انتظامیہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، لڑکیوں کو پراپرٹی سمجھنا اسلام کے خلاف ہے۔‘

یاد رہے کہ چند دن قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب میں موجود ایک نجی تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف لاہور کے دو طلبہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں بظاہر وہ یونیورسٹی کے اندر ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک طالبہ نے ایک طالبِ علم کو سب کے سامنے گھٹنے کے بل جھک کر پھول پیش کیے، جس کے جواب میں لڑکے نے لڑکی کو گلے لگا لیا۔

یونیورسٹی نے اسے اپنے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا اور ان دونوں کو جامعہ سے خارج کرنے کا اعلان کیا گیا۔

فواد چوہدری سمیت کئی افراد نے اس جوڑے سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا اثر دو طلبہ کی پڑھائی پر نہیں پڑنا چاہیے۔

’کوئی چھوٹی سزا دے دیں، تعلیم حاصل کرنا تو بنیادی حق ہے‘

یونیورسٹی آف لاہور نے گذشتہ جمعے کو اپنے نوٹیفیکیشن میں کہا ہے کہ مذکورہ طلبا کو انضباطی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا گیا تھا مگر وہ پیش نہ ہوئے جبکہ انھوں نے ’یونیورسٹی کے ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

ان دونوں طلبہ کے یونیورسٹی آف لاہور اور اس کے تمام ذیلی کیمپسوں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بعض لوگ اس حکم کی مذمت کرتے نظر آئے تو کئی لوگوں نے انھیں سراہتے ہوئے یونیورسٹی پر تنقید کی۔

فواد چوہدری نے پیر کو اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’مرضی سے شادی ہر لڑکی کا بنیادی حق ہے، اسلام عورتوں کو جو حقوق دیتا ہے مرضی کی شادی ان حقوق میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے یونیورسٹی انتظامیہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، لڑکیوں کو پراپرٹی سمجھنا اسلام کے خلاف ہے۔‘

وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے سیاسی روابط شہباز گِل بھی ان طلبہ سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

انھوں نے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’یہ چھوٹے بچے ہیں۔ زندگی کی بہت ساری گھمبیرتوں سے ناواقف۔

’یہ درست ہے کہ انھیں اپنے کلچر تہذیب کو مد نظر رکھتے ہوئے یوں سماجی بغل گیری سے اجتناب کرنا چاہیے تھا۔ لیکن انھیں یونیورسٹی سے بے دخل کر دینا اس کا حل نہیں۔ کوئی چھوٹی سزا دے دیں۔ تعلیم حاصل کرنا تو بنیادی حق ہے۔‘

فواد چوہدری سے اتفاق کرتے ہوئے سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا ہے کہ ’یہ مؤقف جان کر خوشی ہوئی مگر بطور حکومت آپ کا کام نصیحت کرنا نہیں، قانون اور پالیسی سازی کرنا ہے تاکہ یونیورسٹیاں نئے قواعد و ضوابط کے پابند ہوں جس کی روح سے عورت کو پراپرٹی نہ سمجھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آف لاہور ’پاکستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ یونیورسٹی ہے۔ یہاں جو ہوگا وہ باقیوں کو بھی متاثر کرے گا۔‘

سندھ سے تعلق رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے بھی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے ’متاثرکن اور امید سے بھرپور‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

تاہم کچھ صارفین دونوں طلبا کی اب بھی مخالفت کر رہے ہیں۔

ساریہ چوہدری نامی صارف نے فواد چوہدری کے جواب میں لکھا کہ مرضی سے شادی کرنا بے شک لڑکی کا حق ہے مگر ان دونوں نے جو طریقہ کار اپنایا ہمیں اختلاف اس سے ہے۔

گل کاشف نے لکھا کہ 'بھائی مرضی کی شادی سے کس نے روکا ہے، بات تو جگہ اور طریقہ کار کی ہے۔ یہ حرکت یونیورسٹی کی بجائے کسی ریسٹورنٹ، گھر یا کسی اور پبلک پلیس پر کر لیتے۔'