آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان سی ٹی ڈی کے ہاتھوں پانچ افراد کی ہلاکت: ’ہمارے بچوں کو دو پیشیوں کے بعد مار کر لاشوں کو گھر پہنچا دیا گیا‘
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
’میٹرک کرنے کے بعد بڑا بیٹا ہونے کے ناطے سمیع اللہ ہمارے گھر کا سہارا بننے والا تھا لیکن آٹھ مارچ کو اچانک اُس کی لاش ہمارے گھر پہنچا دی گئی۔‘
’نہ صرف میرے بیٹے کی لاش آئی بلکہ اُس کے ماموں زاد بھائی جمیل احمد کو بھی اُس کے ساتھ مارا گیا تھا۔ بیک وقت دو نوجوانوں کی لاشوں سے پورے خاندان میں کہرام مچ گیا۔‘
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی رہائشی راج بی بی کی آواز یہ بتاتے ہوئے بھر آئی۔ اُن کے بیٹے سمیع اللہ اپنے ماموں زاد بھائی جمیل احمد اور تین دیگر افراد کے ساتھ سات اور آٹھ مارچ کی درمیانی شب کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں مارے گئے تھے۔
راج بی بی نے بتایا کہ ان کا بیٹا اور اس کا ماموں زاد بھائی پولیس کی تحویل میں تھے اور اُنھیں دوران حراست ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں حوالے کی گئیں۔
تاہم کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان کے مطابق ان کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے تھا اورایک ٹھکانے پر تنظیم کے دیگر عسکریت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہ دونوں بھی مارے گئے جہاں ان کو سی ٹی ڈی کی ٹیم نشاندہی کے لیے لے گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سمیع اللہ اور جمیل احمد کون تھے؟
سمیع اللہ اور جمیل احمددونوں کا تعلق بلوچ قبیلے پرکانی سے تھا اور وہ آپس میں قریبی رشتہ دار تھے۔ سمیع اللہ کوئٹہ شہر میں سبزل روڈ اور ان کے ماموں زاد بھائی جمیل احمد مشرقی بائی پاس کے علاقے بھوسہ منڈی کے رہائشی تھے۔
راج بی بی نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے گذشتہ سال ایک پرائیویٹ سکول سے میٹرک کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بیٹا اپنے ماموں کے گھر گیا تھا جہاں سے ہمیں معلوم ہوا کہ ان کو پولیس کے اہلکاروں نے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کے الزام میں پکڑ لیا تھا۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ ہمارے رشتے دار ان کی گرفتاری کے بعد متعلقہ تھانہ گئے تھے لیکن ان کو تھانے کے باہر سے ہی بھگا دیا گیا تاہم بعد میں پولیس کی جانب سے ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی اور ان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
’پولیس کی جانب سے گرفتاری ظاہر کرنے اور عدالت میں پیش کرنے پر ہم خوش ہو گئے کہ وہ چھوٹ جائیں گے کیونکہ دونوں بے قصور تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چار مارچ کو دونوں کو سیشن کورٹ کوئٹہ میں پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔ ’یہ ان کی دوسری پیشی تھی۔ پیشی پر سمیع اللہ کے والد عدالت گئے تھے اور ان کو دیکھا بھی تھا لیکن ان پولیس اہلکاروں نے ان کے والد کو ان سے بات چیت نہیں کرنے دی۔‘
’اگر ہمارے بچوں نے کوئی قصور کیا تھا تو عدالت میں ثبوت پیش کر کے ان کو سزا دلوائی جاتی لیکن ایسا کرنے کے بجائے ان کو مار کر ان کی لاشیں ہمارے حوالے کی گئیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ تین بیٹوں اور دو بیٹیوں میں سمیع اللہ سب سے بڑے تھے لیکن اُن کے مطابق جس قسم کا الزام ان پر عائد کیا گیا ہے ابھی تک ان کی عمر اتنی نہیں تھی کیونکہ سمیع اللہ نے ابھی تو میٹرک کیا تھا۔
سمیع اللہ اور جمیل احمد کی ہلاکت کی خبر سن کر ان کی پڑدادی سلطان بی بی 300 کلومیٹر دور نصیر آباد سے سمیع اللہ کے گھر آئی تھیں۔
ضعیف العمر ہونے کی وجہ سے ان کی نظر بہت کمزور تھی لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ اتنی دور سے اپنے پڑپوتوں کے آخری دیدار کے لیے آئیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں جب سردیاں ہوتی تھیں تو خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ یہ دونوں پڑپوتے بھی نصیر آباد آتے تھے لیکن اس سال گرفتاری کے باعث وہ نہیں آ سکے۔
اگرچہ جمیل احمد کا گھر سمیع اللہ کے گھر سے کافی دور ہے لیکن رشتے دار ہونے کے علاوہ ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہونے کے باعث جمیل احمد کو مشرقی بائی پاس کے علاقے میں دفن کرنے کے بجائے سبزل روڈ کے علاقے میں سمیع اللہ کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔
سمیع اللہ اور جمیل احمد کے خلاف ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
سمیع اللہ اور جمیل احمد کی گرفتاری کے حوالے سے سی ٹی ڈی تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی۔
مارے جانے والے دونوں افراد کے لواحقین سے ملنے والی ایف آئی آر کے نقل کے مطابق یہ سی ٹی ڈی تھانے میں 16 جنوری 2021 کو درج کی گئی تھی۔
انسداد دہشت گردی کی مختلف دفعات کے تحت درج ہونے والی اس ایف آئی آر کے مطابق مخبرِ خاص نے اطلاع دی تھی کہ کالعدم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند اس روز کوئٹہ میں تخریب کاری کرنے والے ہیں۔ اس اطلاع پر ہزار گنجی روڈ پر ناکہ لگا دیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق اس دوران ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آئے۔ ان کو رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن اُنھوں نے موٹر سائیکل کو بھگانے کی کوشش کی تاہم ان پر قابو پا لیا گیا جنھوں نے اپنا نام جمیل احمد اور سمیع اللہ بتایا۔
ایف آئی آر کے مطابق تلاشی کے دوران دونوں سے ایک ایک ہینڈ گرینیڈ برآمد کیا گیا جن کو بم ڈسپوزل کے عملے نے ناکارہ بنا دیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ دونوں کو تفتیش کے لیے تھانے منتقل کیا گیا۔
سی ٹی ڈی کا مؤقف کیا ہے؟
پانچوں افراد کے مبینہ حراستی قتل کے الزام کے بارے میں بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن اُنھوں نے کال وصول نہیں کی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی بلوچستان اعتزاز گورایہ نے فون کال وصول تو کی لیکن یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ اس حوالے سے معلومات فراہم کی جائیں گی لیکن متعدد بار کال کرنے اور کئی گھنٹے انتظار کے بعد بھی ان کی جانب سے معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
تاہم سات اور آٹھ مارچ کی درمیانی شب کوئٹہ میں میڈیا کو سی ٹی ڈی کی جانب سے جو معلومات فراہم کی گئیں، ان کے مطابق ضلع مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک ٹھکانے پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا جس میں ’تنظیم کے پانچ عسکریت پسند‘ مارے گئے اور وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
محکمے کے مطابق اسے گرفتار ملزمان سے جو معلومات ملی تھیں، ان کے مطابق تنظیم سے تعلق رکھنے والے بعض مبینہ عسکریت پسند اسپلنجی میں ایک مکان میں چھپے ہوئے تھے اور اُنھوں نے کوئٹہ میں مستقبل قریب میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ بنا رکھا تھا۔
اس اطلاع پر سی ٹی ڈی کی ٹیم نے اس مقام پر کارروائی کی اور وہاں موجود مبینہ عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا گیا مگر اُنھوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اندھا دھند فائرنگ کی جس پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق جب فائرنگ رکی تو پانچوں مبینہ عسکریت پسند مارے گئے تھے جن میں وہ دو مبینہ عسکریت پسند بھی شامل تھے جنھیں سی ٹی ڈی کی ٹیم ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے لے گئی تھی۔
سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ’پہلے سے گرفتار جن دو عسکریت پسندوں کو نشاندہی کے لیے لے جایا گیا تھا ان میں سمیع اللہ پرکانی اور جمیل احمد پرکانی شامل تھے جبکہ مارے جانے والے تین دیگر عسکریت پسندوں میں شاہ نظر، یوسف مری اور عارف مری شامل تھے جو کہ کوئٹہ میں اسمنگلی روڈ پر مزدوروں پر دستی بم حملے، آزاد خان مری نامی شخص پر دیسی ساختہ بم حملے اور کوئٹہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر دستی بم حملوں کے واقعات میں ملوث تھے۔‘
سی ٹی ڈی کی معلومات کے مطابق ٹھکانے سے بعض مبینہ عسکریت پسند فرار بھی ہوئے جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ مذکورہ جگہ سے تین کلاشنکوف، 10 کلو دھماکہ خیز مواد اور دیگر تخریبی مواد بھی برآمد کیا گیا۔
تین دیگر افراد کون تھے؟
مارے جانے والے تین دیگر افراد میں عارف مری، یوسف مری اور شاہ نظر شامل تھے۔
قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ کے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عارف مری اور اُن کے چچازاد بھائی یوسف مری کا تعلق سبی کے علاقے جھالڑی سے تھا۔
بیان کے مطابق وہ علاقے میں مبینہ آپریشنوں کے باعث نقل مکانی کر کے کوئٹہ کے علاقے مری آباد منتقل ہوئے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یوسف مری کو 27 نومبر 2020 کو سبی میں کپاس کے کھیتوں میں مزدوری کے دوران حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا تھا۔
بی این ایم نے دعویٰ کیا ہے کہ عارف مری کو ہزارگنجی کوئٹہ سے پہلے بھی اٹھا کر کئی مہینوں تک مبینہ طور پر اذیت کا نشانہ بنانے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا لیکن دوسری مرتبہ اُنھیں 28 فروری 2021 کو دکان سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح شاہ نظر کو بھی پہلے ہی مبینہ طور پر ایک آپریشن کے دوران جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب سمیع اللہ اور جمیل احمد کی پڑدادی سلطان بی بی کہتی ہیں کہ ’لوگ کئی کئی قتل کرتے ہیں اور ان کی پیشیاں برسوں چلتی ہیں لیکن ہمارے بچوں کو دو پیشیوں کے بعد مار کر لاشوں کو گھر پہنچا دیا گیا۔‘