آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نیوروسرجن آصف بشیر: مرگی کا پیچیدہ علاج کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر جنھوں نے اپنے ملک کو امریکہ پر ترجیح دی
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
پاکستان میں کئی ڈاکٹروں کا شکوہ رہتا ہے یہاں صحت کی جدید سہولیات کی فراہمی میں تاخیر ہوتی ہے۔ ایسے میں بعض ڈاکٹروں کو خود اس کا بیڑا اٹھانا پڑا ہے۔
نیوروسرجن آصف بشیر بھی انہی افراد میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہاں مرگی (اپی لپسی) کے علاج کا ایک پیچیدہ آپریشن کیا ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے اس ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ’میں امریکہ میں یہ آپریشن گذشتہ کئی برسوں سے کامیابی کے ساتھ کر رہا ہوں۔۔۔ میں اور میری اہلیہ نیورو فزیش ڈاکٹر ماہ رخ بشیر وہ سب جدید ٹیکنالوجی پاکستان میں متعارف کروانے کی کوشش کررہے ہیں جو امریکہ میں استعمال ہو رہی ہے۔‘
ڈاکٹر آصف بشیر اب گذشتہ چند برسوں سے پاکستان میں مقیم ہیں اور عملی طور پر نجی و سرکاری شعبے میں پریکٹس کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس آپریشن کے لیے دو بچوں کا انتخاب کیا جس میں ایک کا تعلق خیبر پختونخوا اور دوسرے کا بلوچستان سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس آپریشن کی کامیابی کتنی اہم ہے؟
ڈاکٹر آصف بشیر کا کہنا ہے کہ ’مرگی کا یہ حساس آپریشن صرف ایک گھنٹے کا ہوتا ہے۔ عموماً تین گھنٹے کے بعد ہم مریض کو گھر بھیج دیتے ہیں۔‘
اس میں گردن میں شہ رگ کے اوپر ایک ڈیوائس کو لگایا جاتا ہے جسے چھاتی کے اوپر ایک چھوٹی بیٹری کے ساتھ لگا کر منسلک کرلیا جاتا ہے اور اس کی پروگرامنگ کی جاتی ہے۔
’جب الیکٹرول متحرک ہوتا ہے تو وہ دماغ کو بھی متحرک کرتا ہے۔ اس طریقے سے مرگی کے مریضوں کے دورے کم ہوجاتے ہیں یا ختم ہوجاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ تاحال اس آپریشن کے بعد ڈیوائس کو آن نہیں کیا گیا اور ایسا دو ہفتوں بعد کیا جائے گا۔ ’آپریشن میں کامیابی کے چانسز پچاس فیصد ہوتے ہیں۔۔۔ (مگر) میرے کیے گئے کسی آپریشن میں آج تک کوئی بھی پیچیدگی پیدا نہیں ہوئی ہے۔‘
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کے شعبہ نیورالوجی کے سربراہ پروفسیر ڈاکٹر عتیق علی خان کے مطابق ان کوششوں سے پہلی مرتبہ مرگی کے آپریشن کی ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کی گئی ہے۔
’یہ ایک بڑا قدم ہے۔ مرگی کے آپریشن میں بڑی رکاوٹ ٹیکنالوجی ہی ہے۔ اگر یہ پاکستان میں عام ہوجائے اور سستی دستیاب ہو تو اس سے کئی مریضوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘
ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ مرگی کے پہلے کامیاب آپریشن کے بعد ملک میں اس مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے ’امید کی کرن پیدا ہوچکی ہے۔‘
آپریشن کا حصہ بننے والے ایک بچے کے والد، جو خود ڈاکٹر ہیں، نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر بتایا ہے کہ مرگی اور پھر اس مرحلے میں جس میں ادوایات سے بہتری نہیں آرہی تھی، اس میں صرف آپریشن ہی ممکن تھا۔
’یہ سہولت پاکستان میں دستیاب نہیں تھی۔ باہر کسی بھی ملک جانا اور پھر اس کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔ ایسی صورتحال میں اس کا آپریشن پاکستان میں ہوجانا ایک نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔ امید کرتے ہیں کہ دیگر مریض بھی اس طرح فائدہ سکیں گے۔‘
'امریکہ میں ایک گھنٹے کی پریکٹس پاکستان میں ماہانہ تنخواہ جتنی تھی'
پروفیسر ڈاکٹر آصف بشیر کا تعلق پنجاب کے شہر لاہور سے ہے۔ وہ اس شعبے میں دنیا کے جانے پہچانے نیورو اور سپائن سرجن میں سے ایک ہیں اور ان کے کئی ریسرچ پیپرز بھی شائع ہوچکے ہیں۔
1995 میں وہ لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ہوئے تھے۔ ان کے والد ڈاکٹر بشیر احمد پاکستان کے ابتدائی نیوروسرجن پروفیسرز میں سے ایک تھے۔ اپنے والد سے متاثر ہو کر ڈاکٹر آصف بھی اسی شعبے سے منسلک ہوگئے۔
کچھ عرصہ میو ہسپتال لاہور میں خدمات انجام دینے کے بعد وہ امریکہ چلے گئے جہاں پر انھوں نے نیورو اور سپائن سرجری کی تربیت حاصل کی۔ متعدد امریکی اداروں میں پڑھانے اور نئے سرجنز کو تربیت دینے کے علاوہ وہ وہاں پریکٹس کرتے رہے تھے اور سنہ 2015 میں انھیں امریکہ میں پروفسیر کا ٹائٹل دیا گیا۔
ڈاکٹر آصف بشیر کی اہلیہ ڈاکٹر ماہ رخ بشیر نیورو فزیشن ہیں۔ دونوں نے طویل عرصہ تک امریکہ میں پریکٹس کی ہے۔
لیکن چند سال قبل انھوں نے پاکستان لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے باقاعدہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان دینے کے بعد 2017 میں محکمہ صحت پنجاب میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
اس وقت وہ لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز اور لاہور جنرل ہسپتال میں نیوروسرجری کے شعبہ کے سربراہ ہونے کے ساتھ نجی حیثیت میں کام کر رہے ہیں۔
پاکستان کے علاوہ امریکہ میں بھی ان کی پریکٹس جاری ہے۔ ہر تین ماہ بعد وہ 10 دن کے لیے امریکہ جا کر مختلف قسم کے آپریشنز کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ان کا وطن واپسی کا مقصد ملک میں صحت کی سہولیات کو فروغ دینا اور ٹیکنالوجی منتقل کرنا ہے۔
’سیکھنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی نے یہ محسوس کیا کہ جو کچھ ہم نے سیکھا ہے اس کو اپنے ملک میں منتقل کریں۔‘
ڈاکٹر آصف بشیر کا کہنا ہے کہ پاکستان واپسی کا فیصلہ ’کوئی اتنا آسان کام نہیں تھا۔ ہم دونوں (ان کی اور ان کی اہلیہ کی) امریکہ میں پریکٹس جمی ہوئی تھی۔
’ہمارے پاس کئی کئی ہفتوں کے لیے وقت ہی نہیں تھا۔ مجھے وہاں پر ایک گھنٹے پریکٹس میں جو آمدن ہوتی تھی وہ پاکستان میں ماہوار تنخواہ جتنی ہی ہے۔ ایک نوجوان سرجن امریکہ میں ماہوار تنخواہ کم از کم پچاس ہزار ڈالر پاتا ہے۔‘
’مگر اس کے باوجود جب فیصلہ کیا تو سب کچھ چھوڑ دیا ماسوائے اس کے میں نے اپنے لیے امریکہ میں پریکٹس کا ایک دروازہ کھلا رکھا ہے کہ ہر تین ماہ بعد میں وہاں پر سرجری کرسکوں۔ اس کا مقصد بھی صرف یہ تھا کہ وہاں متعارف ہونے والی جدید ٹیکنالوجی حاصل کرسکوں۔‘
سرجن آصف کی اہلیہ ڈاکٹر ماہ رخ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان منتقلی کا فیصلہ بڑا تھا، ذاتی زندگی کے علاوہ پیشہ ورانہ مسائل بھی تھے۔ امریکہ اور پاکستان کے صحت کے نظام میں میں بہت بڑا فرق ہے۔ وہاں پر کسی مریض کے علاج کے لیے پیسہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ مگر پاکستان میں مریض کے چھوٹے اور بنیادی ٹیسٹ کروانے پر بھی سوچنا پڑتا ہے کہ مریض کے لیے یہ کروانا ممکن ہے یا نہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ امریکہ کے ہر ہسپتال میں کسی بھی علاج اور آپریشن کے لیے تمام وسائل موجود ہوتے ہیں اور ان کا فی الحال پاکستان میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
’میں نیوروفزیشن ہوں مجھے ادوایات سے علاج کرنا ہوتا ہے۔ کئی ضروری ادویات دستیاب ہی نہیں ہیں اور جو دستیاب ہیں ان میں بھی مسائل موجود ہوتے ہیں۔‘
ڈاکٹر ماہ رخ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ان کے خاوند کو بغیر مناسب سہولیات اور ٹیکنالوجی، جان بچانے والے آپریشن کرنے میں دقت ہورہی تھی۔ ’وقت کے ساتھ ہم نے سیکھ لیا۔ ڈاکٹر آصف بشیر نے خود ہی ضروری ساز و سامان اور آلات سرجری خریدنا شروع کردیے تھے۔‘
ڈاکٹر آصف بشیر کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں مجھے کئی لوگوں نے کہا کہ سرکاری شعبے میں نہ جائیں بلکہ نجی پریکٹس کریں۔ میں نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ جتنی مجھے تنخواہ ملے گی وہ میرے امریکہ میں ایک گھنٹے پریکٹس سے بھی کم ہے۔ وہ میں اب بھی عطیہ کردیتا ہوں۔‘
اس وقت ان کے پاس کم از کم چالیس نیورسرجن زیر تربیت ہیں جن میں دس خواتین ہیں شامل ہیں۔
’ہم اپنے زیر تربیت سرجنز کو سکھاتے ہیں کہ کسی بھی مریض کا علاج کیسے کرنا ہے، جیسے ہم اپنے خونی رشتوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجہ کرتے ہیں۔‘
ڈاکٹر آصف بشیر کے مطابق ’ٹیکنالوجی میں، میں اس وقت خود کبھی نئے، استعمال شدہ اور عطیات میں حاصل کردہ آلات پاکستان لارہا ہوں۔ ان کی مدد سے جو ٹیکنالوجی امریکہ میں استعمال ہو رہی ہے اس ہی کو ہم پاکستان میں بھی استعمال کررہے ہیں۔‘
مگر وہ سمجھتے ہیں کہ سستا اور اچھا علاج فراہم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے کی ضرورت موجود ہے۔
پاکستان میں ’صحت کی سیاحت‘ کے فروغ کی کوششیں
پروفیسر ڈاکٹر آصف بشیر کا کہنا ہے کہ مرگی والا معاملہ تو مشہور ہوچکا ہے مگر اس سے پہلے ’ہم کئی شعبوں جیسے سپائن سرجری، ریشہ اور دیگر آپریشن بھی پہلی مرتبہ پاکستان میں کیے ہیں جو اس سے قبل پاکستان میں نہیں ہوئے تھے۔‘
’ہم نے جس طرح امریکہ میں نیورو سپائن انسٹی ٹیوٹ بنایا اسی طرح لاہور میں بھی قائم کیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کی اندازے کے مطابق پاکستان میں مرگی کے بہت زیادہ مریض ہیں۔ ’مجھے کسی نے بتایا تھا کہ پاکستان کی نامور کمپیوٹر سائنسدان ارفعہ کریم بھی مرگی سے دنیا سے چلی گئی تھی۔ اس ٹیکنالوجی کے متعارف کروانے سے امید ہے کہ چھوٹے، بڑے سب فائدہ اٹھا سکیں گے۔‘
’پاکستان میں ہمارے پاس سرجری کی قیمت چالیس فیصد زیادہ ہے جس کی وجہ باہر سے منگوائی جانے والی مشینری پر 35 سے 40 فیصد امپورٹ ڈیوٹی ہے۔۔۔ اگر یہ امپورٹ ڈیوٹی کم ہوجائے تو ہم پاکستان میں بڑے پیمانے پر زرمبادلہ بھی لاسکتے ہیں۔ حکومت نے ہمیں مرگی والے پلانٹ پر رعایت دی تھی جس وجہ سے یہ ممکن ہوسکا ہے۔‘
پروفیسر ڈاکٹرآصف بشیر کا کہنا تھا کہ ایک بات ہم کو سمجھ لینا چاہیے کہ دنیا میں جہاں سرکاری شعبہ اپنے صحت کے شعبے میں خدمات انجام دے رہا ہے، وہاں پر نجی شعبہ بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ مگر وہ تب ہی کرسکتا ہے جب حکومت اس جانب توجہ دے اور ہمارے پاس ماہرین موجود ہوں۔
’ہمارے سامنے انڈیا کا ماڈل موجود ہے۔ اسی کی دہائی میں ایک انڈین ڈاکٹر امریکہ سے سیکھ کر انڈیا واپس گیا تھا۔ انھوں نے وہاں پر اوپالو کے مراکز قائم کیے تھے۔ اس وقت راجیو گاندھی وہاں پر وزیر اعظم تھے۔ انھوں نے ٹیکنالوجی، پلانٹس وغیرہ پر تمام ڈیوٹی ختم کردیں تھیں۔‘
پروفسیر ڈاکٹر آصف بشیر کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انڈیا میں نجی شعبے نے بڑے پیمانے پر کام کیا۔ ’جب لاگت کم ہوتی ہے تو اس کے اخراجات پر کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ انڈیا میں بھی ایسا ہوا ہے۔ اب وہ دنیا میں صحت کی سیاحت کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔‘
’میرا ایک مشن ہے کہ میں لاہور کے بعد اسلام آباد اور پھر کراچی میں صحت کے ایسے مراکز قائم کروں جہاں ں پر غیر ملکی علاج کے لیے آئیں۔ انھیں ہم باقی دنیا کے مقابلے سستی، اچھی اور معیاری سہولتیں فراہم کرسکیں۔ ایسا تب ہی ممکن ہے جب حکومت تعاون کرے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس سپائن سرجری کروانے کے لیے لوگ یورپ، امریکہ، عرب، افغانستان اور دیگر ممالک کے علاوہ انڈیا سے آئے ہیں۔ ان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔‘
پروفسیر ڈاکٹر عتیق علی خان کا کہنا تھا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ دنیا مانتی ہے کہ پاکستان کے سرجن اور ڈاکٹر دنیا کے بہترین سرجن اور ڈاکٹر ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی ڈاکٹرز کو انڈیا میں سرجری کی جدید ٹیکنالوجی پر لیکچر دینے کے لیے بلایا گیا تھا۔
’مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی اور مخصوص ماحول موجود نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے۔ اگر سستی جدید ٹیکنالوجی دستیاب ہوجائے تو ہمارے سرجن اور ڈاکٹر صحت کی سیاحت کا خواب بہت اچھے سے شرمندہ تعبیر دے سکتے ہیں۔‘
پروفسیر ڈاکٹر آصف بشیر کا کہنا ہے کہ ’اب جب میں امریکہ جاتا ہوں تو مجھے میرے ساتھی ملتے ہیں۔ وہ مجھے عطیات کے چیک دیتے ہیں، رابطے کرتے ہیں۔ ان سے میں کہتا ہوں کہ واپس اپنے ملک جائیں۔ وہاں پر ان کی ضرورت ہے۔ مگر ان کے پاس مواقع دستیاب نہیں ہیں۔‘
’اگر ہم صحت کی سیاحت میں مواقع پیدا کریں تو یقینی طور پر کئی نامی گرامی ماہرین واپس پاکستان آجائیں گے۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو نہ صرف قیمتی زر مبادلہ کما سکتے ہیں بلکہ اپنے لوگوں کے لیے روزگار کے کئی مواقع بھی پیدا کرسکتے ہیں۔‘