آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیاسی سرگرمیوں کا محور پنجاب، اپوزیشن کے اگلے اہداف کیا ہیں؟
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اسلام آباد سے حزب اختلاف کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے تین دن کے اندر ہی وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کر لیا۔ اپوزیشن نے اس کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور اب اپوزیشن رہنماؤں کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے اگلے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پنجاب کے مرکز لاہور میں ڈیرے ڈال دیے۔ انھوں نے نو منتخب سینیٹر یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ اہم ملاقاتیں بھی کیں۔
جن اہم سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی گئی ہیں ان میں پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہیٰ، چوہدری شجاعت حسین اور پنجاب کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اعتماد کے ووٹ کے لیے دو ایم این ایز کو اغوا کر کے ایک ادارے کے کمپاؤنڈ میں رکھا گیا: مریم نواز کا الزام
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو ہی مسلم لیگ ن نے اہم مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا، جس کے بعد مریم نواز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں لانگ مارچ سمیت دیگر امور پر بات ہوئی ہے۔
مریم نواز نے کہا ہے کہ 'ہمارے علم میں آیا ہے کہ ایسے دو ایم این ایز کو گولڑہ کے ایک ادارے کے کمپاؤنڈ میں لے جایا گیا جو عمران خان کو اعتماد کا ووٹ دینے پر رضا مند نہیں تھے اور وہاں انھیں چار گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھ کر مجبور کیا گیا کہ وہ عمران خان کو ووٹ دیں۔'
انھوں نے کہا کہ 'جس طرح پاکستان کی خفیہ ایجنسیز کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا وہ قابل شرم بات ہے۔ کیا ان ایجنسیز کا یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ ایک نااہل شخص کے لیے اپنے ادارے کو سیاست میں جھونک دیں۔ اس کا جواب عوام کو چائیے اور اس کا جواب مسلم لیگ کو چائیے۔'
ان کے مطابق اپنے ہی پارٹی ارکان کی گردنوں پر بندوق رکھ کر اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔
ان کے مطابق 'جس طرح کل پاکستان کی ایجنسیز اور پاکستان کے اداروں کو استعمال کر کے اعتماد کا ووٹ لیا گیا، اس کی نہ صرف قانونی حیثیت ہے، نہ آئینی حثییت ہے، نہ کوئی سیاسی اور نہ اخلاقی حیثیت ہے۔'
'پورے پارلیمنٹ لاجز کو بنکر بنایا ہوا تھا۔ ڈرون کیمروں سے نگرانی کی گئی۔'
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا مریم نواز ان دو ایم این ایز کا نام بتائیں۔
ان کے مطابق جب سینیٹ میں اپوزیشن کا امیدوار کامیاب ہوا تو پھر کیا ہم اس وقت ان ایجنسیز کو استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کے موقف میں کوئی یکسانیت نہیں ہے۔
نئے چیئرمین سینیٹ کی دوڑ
اس وقت سب سے اہم سیاسی سرگرمی نئے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہے۔
حکومت نے 12 مارچ کو ہونے والے اس انتخاب کے لیے تین سال سے چیئرمین سینیٹ رہنے والے بلوچستان عوامی پارٹی کے صادق سنجرانی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ صادق سنجرانی کے خلاف بطور چیئرمین سینیٹ اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی جو ناکام رہی تھی۔ اس وقت بھی سینیٹ میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل تھی اور یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ صادق سنجرانی اکثریت نہ رکھنے کے باوجود کن ارکان سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن اتحاد کو اکثریت حاصل ہے مگر یہ انتخابات اس قدر دلچسپ ہوتے ہیں کہ یہاں اکثریت رکھنے کے باوجود شکست بھی مقدر بن جاتی ہے۔ شاید اس کی بڑی وجہ سینیٹ میں خفیہ رائے شماری کا طریقہ ہے۔
اس وقت اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر وزیر اعظم عمران خان کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دینے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم اس وقت یوسف رضا گیلانی کو نہ صرف اپوزیشن کا مکمل اعتماد حاصل ہے بلکہ ان کی جیت پر اپوزشین کی تمام جماعتیں جشن بھی مناتی نظر آ رہی ہیں۔
مریم نواز کا کہنا ہے کہ پیر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اجلاس میں نئے چیئرمین سینیٹ کے بارے میں مشاورت کی جائے گی۔ ان کے مطابق لانگ مارچ پر بھی کل مشاورت کی جائے گی۔
اپوزیشن کا اگلا ہدف کیا ہو سکتا ہے؟
اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آخر اپوزیشن کا اگلا ہدف کیا ہو سکتا ہے اور وہ حکومت کو کہاں اور کس طرح کا اپ سیٹ دینا چاہتی ہے؟
حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد بلاول بھٹو نے واشگاف الفاظ میں بتایا کہ وہ وسیم اکرم پلس (وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار) کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ اراکین اسمبلی نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے لیے نہ مرضی سے ووٹ دیے اور نہ اعتماد کے لیے ووٹ مرضی سے دیے گئے۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ اگلا ہدف صرف لانگ مارچ تک نہیں بلکہ تین سال میں جو تباہی ہوئی اسے ٹھیک کرنا ہے۔
بلاول بھٹو وزیر اعظم کی طرف سے اعتماد کے ووٹ کو مسترد کرتے ہوئے پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ فیصلہ اپوزیشن نے کرنا ہے کہ عمران خان کب تک کرسی پر رہیں گے، قومی اسمبلی کے سپیکر کب تک اپنی کرسی پر براجمان رہیں گے اور یہ حکومت کب تک چلے گی اس کا فیصلہ حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے کرنا ہے۔
سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب وہ ہر جگہ حکومت پر ضرب لگانے کی کوشش کرے گی۔ ان کے مطابق اس کامیابی کے بعد اب آئندہ کے لائحہ عمل پر اپوزیشن جماعتوں میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔
ان کے مطابق اپوزیشن ایک جانب اپنا حمایت یافتہ چیئرمین سینیٹ لانے کی کوشش کرے گی تو دوسری طرف پنجاب میں تبدیلی بھی اس کے ایجنڈے پر شامل ہو گی۔
کیا پنجاب میں تبدیلی ممکن ہے؟
سیاسی تجزیہ کار اور سینیئر صحافی عارف نظامی نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب میں عثمان بزدار کی کمزوری اپوزیشن کے لیے سب سے بڑا فائدہ ثابت ہو رہی ہے۔ لیکن ان کے خیال میں فوج اس وقت عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے تو ایسی صورت میں اپوزیشن کو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکے گی۔
سہیل وڑائچ کے خیال میں اب حکومت کے لیے ایک مشکل سفر نظر آ رہا ہے۔ ان کے مطابق جب ایک بار شگاف پڑ جائے تو پھر بار بار اس پر وہیں وار کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق اپوزیشن اب اس بات پر متحد نظر آتی ہے کہ ہر محاذ پر حکومت کو ’ٹف ٹائم‘ دیا جائے۔ ان کے مطابق اپوزیشن اس مقصد کے لیے لانگ مارچ کے آپشن کی طرف بھی ضرور جائے گی۔
عارف نظامی کے خیال میں پنجاب جہاں بظاہر آسان لگ رہا ہے وہیں اب یہ اپوزیشن کے لیے اس وجہ سے بھی مشکل میدان ثابت ہو گا کہ اسٹیبلشمنٹ اب عمران خان کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں ق لیگ سمیت تمام اتحادی بھی عمران خان کی ہی حمایت کریں گے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ یہ تو اب ظاہر ہے کہ پنجاب میں تبدیلی ہونی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ جو نیا امیدوار ہو گا وہ عمران خان کی مرضی کا ہو گا یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ بھی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہیں۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے کچھ اسمبلی اراکین اگلے انتخابات کے لیے ن لیگ کے ٹکٹ کے بدلے اپوزیشن کی حمایت پر آمادہ ہوئے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق پنجاب میں اگلا الیکشن مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان ہونا ہے تو پھر مریم نواز کی اس بات میں وزن نظر آتا ہے کہ کچھ حکومتی اراکین ضرور ان سے رابطے میں ہوں گے۔
عارف نظامی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا اگلا ہدف وزیر اعظم پر عدم اعتماد کو یقینی بنانا ہو گا، جس کے لیے انھوں نے تیاریاں بھی شروع کر رکھی ہیں۔ ان کے مطابق سارے منظر نامے میں اب پاکستان پیپلز پارٹی بھی ایک نئے عنصر کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
’اس وقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے مگر پھر بھی معاملات گھمبیر ہیں۔‘