بلوچستان میں تیل کی سمگلنگ: ’یہاں پانی، بجلی سڑک نہیں لیکن سمگل شدہ ایرانی تیل کی فراوانی ہے‘

تیل سمگلنگ

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Nasir Kabdani

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشک

’سب سے پسماندہ علاقے میں خوش آمدید، یہاں پانی، بجلی سڑک نہیں ہے لیکن سمگل شدہ ایرانی تیل کی فراوانی ہے اور یہ ہی میرا کاروبار ہے۔‘

یہ کہنا ہے سعید مہر بلوچ کا جو بلوچستان کے ضلع واشک کی ایک چھوٹی تحصیل مشخیل (جسے مقامی طور پر ماشکیل کہا جاتا ہے) کے باسی ہیں اور جن کا خاندان گذشتہ چار پشتوں سے سمگل شدہ ایرانی تیل کے کاروبار سے منسلک ہے۔

مشخیل پاک ایران کی سرحد پر واقع ایک ریگستانی تحصیل ہے جہاں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پچاس ہزار افراد کی آبادی ہے اور یہاں ہر شخص کا ایک ہی ذریعہ معاش ہے: سمگل شدہ ایرانی تیل کی خرید و فروخت۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سمگل شدہ تیل کا کاروبار دہائیوں سے جاری ہے اور پاکستان کی حکومت نے ماضی میں متعدد بار ملک میں تیل کی سمگلنگ اور فروخت پر پابندی لگانے کے وعدے اور دعوے کیے ہیں لیکن آج تک اس کاروبار کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2014 میں حب روڈ پر دو مسافر بسوں اور دو ٹرکوں کے تصادم سے آگ لگنے کے باعث تقریباً 35 افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے تھے۔

تیل سمگلنگ

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Nasir Kabdani

جیسا کہ ہر حادثے کے بعد ہوتا ہے حکومت نے اس واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم جاری کر دیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئے کی مسافر بسوں میں سمگل شدہ ایرانی تیل ڈرموں میں بند کر کے سندھ اور پنجاب کے علاقوں تک پہنچایا جا رہا تھا۔

اس تحقیقات کے نتیجے میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں کافی شور برپا ہوا۔ مختلف اراکین اسمبلی کے درمیان تکرار بھی ہوئی۔ بلوچستان کے اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس تمام تر واقعے کی ذمہ داری سرحدی راستوں سے سمگل ہو کر آنے والے ایرانی تیل پر ڈالی اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایرانی پیٹرول کی فروخت بلوچستان کی کسی تحصیل یا ضلع میں نہیں ہونے دی جائے گی۔

اس واقعے کے ایک ماہ بعد ایک اخبار کے لیے کام کرتے ہوئے میری ملاقات ڈاکٹر مالک بلوچ سے تربت میں ہوئی۔

اس دوران تربت کے ائیرپورٹ روڈ پر ان کی رہائش گاہ پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان سے جرگہ کرنے کی غرض سے موجود تھی۔ انھوں نے بات کرتے ہوئے ریکارڈر سائیڈ پر کیا اور کہا کہ ’اگر میں نے سرحدی راستوں سے پیٹرول کی آمد و رفت روک لی، تو یہ لوگ بھوکے مر جائیں گے۔‘

تب کچھ نہیں ہوا تو اب کیا ہو سکتا ہے؟

حب حادثے میں ہلاک ہونے والے شاہ میر بلوچ کی والدہ سلمیٰ منیر نے بتایا کہ وہ اس حادثے کا الزام کسی پر عائد نہیں کرتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی پیٹرول کی سمگلنگ کی حقیقت کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ ہم لوگ اس سے پہلے بھی کئی دفعہ انہی راستوں سے، انہی بسوں میں سمگل شدہ پیٹرول یا ڈیزل کے ساتھ سفر کر چکے ہیں ۔اب چاہے کوئی کچھ بھی کہے، میرا بیٹا اور باقی لوگوں کے خاندان والے واپس نہیں آ سکتے۔ آج اس واقعے کو سات سال بیت چکے ہیں۔ تب کچھ نہیں ہوا، تو اب کیا ہو سکتا ہے؟‘

تیل سمگلنگ

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Nasir Kabdani

سمگل شدہ تیل لانے والے نیلے پک اپ ٹرک

بلوچستان کے ڈسٹرکٹ واشک کی تحصیل مشخیل سے نزدیکی ایرانی علاقہ سراوان ہے، جہاں سے ہر روز نیلے پِک اپ ٹرک میں پیٹرول اور ڈیزل کے ڈرم آتے ہیں۔ ان پِک اپ ٹرک کا نام ’زمیاد‘ بتایا جاتا ہے جبکہ مقامی لوگ اسے ’زمباد‘ بھی کہتے ہیں۔

زمباد گاڑیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے مشخیل کے جہند خان نے بتایا کہ ’یہ گاڑیاں تہران میں بنتی ہیں اور تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ تک مل جاتی ہیں۔ جہاں تک اس کی یہاں آمد و رفت کی بات ہے۔ تو ان گاڑیوں پر درج نمبر کہیں بھی رجسٹر نہیں ہوتے، اس لیے یہ گاڑیاں اگر پکڑی بھی جائیں تو کسی اہلکار کو نہیں پتا چلتا کہ اس گاڑی کا مقدمہ کہاں درج کریں۔‘

جہند خان نے بتایا کہ 'دوسری جانب، تیل لانے والی گاڑیوں کے مالک مختلف ہوتے ہیں اور بلوچستان کے مختلف سرحدی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

یہاں ہر مالک کے پاس 20 سے 30 گاڑیاں ہیں۔ جو بارڈر سے شہروں اور چھوٹی تحصیلوں تک پیٹرول لے کر جاتے ہیں۔ مشخیل میں یا تو کچھ لوگ زمباد کا ٹھیکہ لے لیتے ہیں یا پھر تیل خرید کر دکان کھول لیتے ہیں۔ اس سے ماہانہ خرچہ اچھا مل جاتا ہے۔‘

مشخیل کے بازاروں میں روز مرہ کے استعمال کی ایرانی اشیا کے علاوہ سمگل شدہ پیٹرول بھی ایسے ہی بِکتا ہے جیسے کہ کھانے کی چیز ہو۔

ایک اندازے کے مطابق یہاں پر 85 فیصد لوگ تیل کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی نزدیکی دکان کی چھت یا چٹان سے اس علاقے کو دیکھا جائے تو تیل کی منڈی میں آنے والے تیل کے نیلے پِک اپ ٹرک ہر جگہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ جو مختلف دکانوں میں ڈرم پہنچا کر واپس سرحد کی طرف چلے جاتے ہیں۔

تیل سمگلنگ

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Nasir Kabdani

یہ کام اسی روانی سے چلتا رہتا ہے جب تک کوئی بندش نہیں آ جاتی۔ ایسی صورت میں گاڑیوں کی ایک لمبی قطار چِیدگی سرحد اور دیگر علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

مثلاً مشخیل دریا میں سیلاب آنے پر اکثر سرحدی راستہ اور علاقوں کے درمیان بندش آ جاتی ہے جس کی وجہ سے تاحدِ نگاہ صرف نیلی گاڑیاں ایک قطار میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔

اگر حکومت نے بارڈر بند کر دیا تو ہماری زندگی رک جائے گی

مشخیل میں آنے والے پیٹرول کے ہر ڈرم کی طرح اس کی خرید و فروخت میں ملوث ہر شخص سے بھی ایک کہانی جڑی ہے۔

سعید مہر بلوچ نے پچھلے 45 برسوں میں مختلف کاروبار شروع کرنے کی ناکام کوشش بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 میں تیل کی سمگلنگ کے علاوہ کوئی اور کام کرنے کا سوچا، تو زلزلہ آ گیا۔

'راستے بند ہو گئے اور اس دوران گھروں میں قحط تک کی صورتحال بن گئی۔ اس دوران اسی پیٹرول کو کسی طرح بیچ کر گزارا کیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد کھجوروں کا کام بھی نہیں چلا تو انھوں نے پہلے سے جاری کام، یعنی تیل کی خرید و فروخت کو جاری رکھا۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے پتا ہے کہ اگر کل کو حکومت نے یہ بارڈر بند کر دیا۔ تو ہماری زندگی رک جائے گی، ختم ہو جائے گی۔ ہماری زندگی کا تمام تر دارومدار اس سمگل شدہ پیٹرول پر ہے۔‘

سعید مہر بلوچ نے بات کرتے ہوئے سوال پوچھا کہ ’ہمارے لیے یہاں متبادل کام کیا ہے؟ پہلے ایک متبادل ذریعہ معاش شروع کرنے کی بات کی تھی۔ اسی طرح مًند، گبد اور ایران کے درمیان بارڈر مارکیٹ شروع کرنے کی بات کی گئی تھی۔ لیکن پھر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

مشخیل اور تفتان کے درمیان راستہ ریگستانی اور میدانی طرز کا ہے۔ پھر چِیدگی اور ایرانی بارڈر مند کی طرف جانے والا راستہ پہاڑی ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے یہ پیٹرول چھوٹے چھوٹے علاقوں تک پہنچتا ہے۔

تیل سمگلنگ

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Nasir Kabdani

ایرانی تیل کی سمگلنگ پر بات کرتے ہوئے پروفیسر اور محقق حفیظ جمالی کا کہنا ہے کہ 'ایران کی طرف سے سرحدی علاقوں سے بلوچستان آنے والے راستوں کے بیچ میں بیشتر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جیسے کہ چیک پوسٹ، سیلاب کو روکنے والے بند اور دیگر اور بندشیں لگائی گئی ہیں تاکہ سمگلنگ کرنے والوں کو سیدھا راستہ نہ مل سکے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ لیکن یہ گاڑیاں اپنا راستہ ڈھونڈتے ہوئے پہنچ جاتی ہیں۔ یہاں سے جتنے بھی نزدیکی سرحدی علاقے ہیں جیسے کہ نوکُنڈی، دالبندین، نوشکی، خاران، ان سب علاقوں میں یہی پیٹرول جاتا ہے۔ جہاں سے پھر مسافر بسوں، ٹرکوں اور گاڑیوں کے ذریعے اس کا رخ صوبہ سندھ میں کراچی کی طرف ہو جاتا ہے۔ اور دوسری طرف جنوب مغرب پنجاب اور وہاں سے خیبر پختونخوا پہنچایا جاتا ہے۔

تیل کے کاروبار کے بارے میں یہاں سب کو پتا ہے

مشخیل کے ہی ایک سابق حکومتی ارکان جو اب خود بھی سمگل شدہ پیٹرول کا کاروبار کرتے ہیں نے سرحد پر پہرہ دینے والے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے ہوئے نے بتایا کہ ’سرحدی علاقوں میں پہرے پر کھڑے اہلکاروں کو یہاں سے پیٹرول اور ڈیزل لانے لے جانے کی اچھی رقم دی جاتی ہے۔ جو یومیہ ڈیڑھ سے دو لاکھ کے برابر ہوتی ہے۔ یہ کہیں بھی درج نہیں ہوتا لیکن سب کو پتا ہے کہ اگر پیٹرول اپنے گھروں اور دیگر شہروں تک پہنچانا ہے تو ان پہرے داروں کو معاوضہ دینا ہو گا۔‘

تیل سمگلنگ

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Nasir Kabdani

ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں سرحدوں کے قریب موجود چیک پوسٹ پر ہر آنے جانے والی گاڑی سے پوچھا جاتا ہے کہ 'کہاں سے آ رہے ہو؟ کہاں جارہے ہو' یہی سوال ان نیلی گاڑیوں سے نہیں پوچھا جاتا۔ بلکہ زیادہ تر مقامات پر اہلکار اور گاڑی چلانے والے ڈرائیور ایک دوسرے کو سلام یا 'جوڑ وًش` بول کر کر آگے نکل جاتے ہیں۔‘

’میں کیوں 110 روپے فی لیٹر کا پیٹرول خریدوں؟‘

اسی سرحدی پٹی سے گوادر کی طرف سفر کے دوران کئی ایسے پمپس گزرتے ہیں جہاں سے ایرانی پیٹرول قدرے کم قیمت پر دستیاب ہوتا ہے۔ جہاں ملک بھر میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت اب 110 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، وہیں ضلع کیچ میں ایرانی سرحدوں سے آنے والا پیٹرول 77 روپے فی لیٹر تک مل جاتا ہے۔

تیل سمگلنگ

25 جنوری کو گوادر شہر اور آس پاس پھیلے ہوئے ایرانی پیٹرول بیچنے والوں کی دکانیں بند تھیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ حکومتی بندشوں کے نتیجے میں آج ہڑتال کا دن ہے۔

اسی شور شرابے کے دوران ایک دکان کھلی ہوئی تھی جہاں کے مالک نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور میرے پاس یہاں کوئی اور نوکری نہیں ہے۔ کسی نوکری کے لیے کراچی تک جانا پڑتا ہے۔ جو آٹھ گھنٹے کا سفر ہے۔ مجھے اس کام سے پیسے ملتے ہیں اور میرے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ میں کیوں 77 روپے کے پیٹرول کے بجائے 110 روپے کا پیٹرول خریدوں؟ پھر اوپر سے 300 روپے اضافی ٹیکس دوں۔ یہ تو میرے ساتھ نا انصافی ہے۔`

اسی طرح تیل کی فروخت کی طرح بلوچستان کے جنوبِ مغرب میں واقع شہروں جیسے کہ پسنی، پنجگور، گوادر اور تربت میں پہنچنے والی 75 فیصد بجلی بھی ایران سے آتی ہے۔ لیکن جہاں مقامی افراد ایران سے سستی بجلی اور تیل خریدنے پر راضی ہیں۔ حکومت اس بارے میں زیادہ مطمئن نظر نہیں آتی۔

حکومت تیل کی سمگلنگ کے روک تھام کے لیے کیا کرنا چاہتی ہے؟

ایک بار پھر وفاقی حکومت نے ایرانی پیٹرول کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے صرف بلوچستان میں 1800 ایسے پیٹرول پمپس کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سمگل شدہ پیٹرول فروخت کیا جاتا ہے۔

تیل سمگلنگ

یکم جنوری کو اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس میں انسداِد سمگلنگ اقدامات پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بتایا گیا کہ سمگل شدہ تیل کی فروخت سے ملکی معیشت کو 100 سے 150 ارب روپے سالانہ کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ جبکہ اس وقت ملک میں 2094 پیڑول پمپس سمگل شدہ تیل کی فروخت میں ملوث ہیں۔

پھر حال ہی میں وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے جاری ہونے والے مراسلے کے مطابق ملک بھر میں تیل سمگلروں کے خلاف مہم کے تحت 609 پٹرول پمپ سِیل کر دیے گئے ہیں اور تقریبا 45 لاکھ لیٹر سمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل ضبط کیا گیا ہے۔

یکم فروری کو سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی برائے پیٹرولیم نے حکومت کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سمگل شدہ تیل پر پابندی لگانے کے نتیجے میں حکومت کو 200 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ جس کو علاقہ مکینوں کے لیے متبادل ذریعہ معاش ڈھونڈنے کے لیے مختص کرنا چاہیے۔ دوسری جانب کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں 22 لاکھ افراد سمگل شدہ پیٹرول کی خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

تیل سمگلنگ

تاہم گوادر کے ڈی سی عبدالکبیر زرقون نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں جانب اشیا کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے سختی کی جا رہی ہے اور یہ چیز تقریباً ختم ہو گئی ہے۔

ن کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سرحدی علاقوں میں مارکیٹس بنانے کا ارادہ بھی ہے جس کی مدد سے ہر چیز اور سامان دونوں جانب سے لیا جا سکے گا۔

تاہم ماہی گیر اور کاروباری حضرات سے لے کر سیاح بھی اس بات کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی اور پمپس دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم بی بی سی سے گفتگو کرنے والے ماہی گیروں نے ڈیزل پر پابندی پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔

سمگل شدہ تیل کے بارے میں سینیٹر محسن عزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ پیٹرول لوگوں کا ذریعہ معاش ہے۔ اب یہ صحیح ہے یا غلط یہ دیکھا جائے گا۔ میں اسے ذریعہ معاش نہیں کہوں گا میں اسے چوری کہوں گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ایران کے ساتھ معاہدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ان پر امریکہ کی طرف سے پابندیاں عائد ہیں۔ ہماری توجہ اس وقت ان علاقوں میں متبادل ذریعہ معاش پیدا کرنے پر ہے۔‘

لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کاروبار میں ملوث بڑے کھلاڑیوں پر پابندی لگا رہے ہیں اور ان پر نہیں جو غریب ہیں۔ بڑے لوگوں پر پابندی لگے گی اور ان کو روکا جائے گا لیکن چھوٹے کاروبار کرنے والے متاثر نہیں ہوں گے۔‘