کشمالہ طارق کے بیٹے پر مقدمہ: ’لواحقین نے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ دیکھنے کے بعد فی سبیل اللہ معاف کیا‘

    • مصنف, سارہ عتیق، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
    • عہدہ, محمد زبیر خان، صحافی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی محتسب برائے ہراسانی کشمالہ طارق کے قافلے میں شامل تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے چار افراد کے معاملے میں فریقین کے درمیان صلح نامہ ہو گیا ہے جبکہ کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

منگل کے روز ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم اذلان کے وکیل سعید خورشید نے بتایا کہ ان کا ہلاک ہونے والے دو نوجوانوں کے ورثا سے راضی نامہ ہو گیا ہے جبکہ تیسرے خاندان سے بات چیت جاری ہے۔

تاہم ملزم کے وکیل کی جانب سے ہلاک ہونے والے چوتھے نوجوان کے ورثا سے ہونے والی بات چیت کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔

عدالت کے استفسار پر ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ چونکہ لواحقین سے بات چیت جاری ہے اس لیے آج ملزم اذلان کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں کشمالہ طارق کے قافلے میں شامل تیز رفتار گاڑی ایک سنگل پر مہران گاڑی سے جا ٹکرائی تھی جس کے نتیجے میں مہران میں سوار پانچ میں سے چار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ یہ پانچوں نوجوان خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے ایک ہی علاقے کے رہنے والے اور قریبی دوست تھے۔

اس حادثے کے بعد یہ الزامات سامنے آئے تھے کے کشمالہ طارق کا بیٹا اذلان گاڑی چلا رہا تھا اور ان کے خلاف تھانہ رمنا پولیس نے دو فروری 2021 کو مقدمہ درج کیا تھا۔

ہلاک ہونے والے افراد میں سے ایک فاروق احمد کے والد کی جانب سے تحریری صلح نامہ عدالت میں جمع کروایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔

ہلاک ہونے والے فاروق احمد اور زخمی مجیب الرحمن کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ میں سکیورٹی گارڈ کے فرائض ادا کرتے تھے جبکہ محمد انیس، محمد عادل اور حیدر علی عرف سونی بہت ہی قریبی دوست اور طالب علم تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملزم اذلان کے وکیل سعید خورشید نے بتایا کہ یہ ایک حادثہ تھا جس میں ہلاک ہونے والے دو نوجوانوں کے لواحقین سے راضی نامہ ہو چکا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان بے گناہ ہیں کیونکہ ’وہ گاڑی نہیں چلا رہے تھے جبکہ ڈرائیور فیض الدین نے بھی پولیس کو بیان دیا ہے کہ حادثہ اُن سے ہوا۔‘

اس سوال پر کہ کیا لواحقین کو رقم ادا کی گئی ہے، ملزم کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ لواحقین نے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھنے کے بعد ’فی سبیل اللہ معاف کیا ہے۔‘

حادثہ کیسے پیش آیا تھا؟

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے سیف سٹی کیمرہ کی رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کو تیز رفتار لینڈ کروز نے بند اشارے پر ٹکر ماری تھی جس سے وہ الٹتی ہوئی دور جا گری تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ویڈیوز کے مشاہدے سے ظاہر ہوا ہے کہ غلطی لینڈ کروزر کی تھی کیونکہ اس کا سگنل بند تھا۔

رپورٹ کے مطابق لینڈ کروزر نے اس کے بعد ایک موٹر سائیکل کو بھی ٹکر ماری اور وہ بھی دور جا کر سڑک کے درمیان موجود سبزے والے حصے پر گری۔

حادثے کے مقام پر بائیں جانب موجود ایک کمیرے سے بنی واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ بظاہر اشارہ بند ہونے پر مہران گاڑی سڑک کے درمیان سے سپیڈ لین کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کا رخ چوک کی جانب سے اسی دوران سپیڈ لین میں آنے والی تیز رفتار گاڑی اسے ٹکر مار دیتی ہے۔

حادثے کے بعد الزامات

واضح رہے کہ حادثے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں حادثے کے مقام پر کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کو بھی دیکھا جا سکتا تھا جو گاڑیوں کے پاس کھڑے تھے تاہم ان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آیا وہ گاڑی چلا رہے تھے یا نہیں۔

پولیس کے تفتیشی افسر آصف خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حادثے کے بعد ایک ڈرائیور نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے گرفتاری دی تھی۔

ان کے بقول ’ابھی اس الزام کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا گاڑی کشمالہ طارق کا بیٹا چلا رہا تھا یا کہ ڈرائیور۔ ‘

آصف خان کا کہنا تھا کہ حادثے کہ وقت ایک سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی بھی سفید گاڑی کے ہمراہ تھی اور پولیس اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ گاڑی کون چلا رہا تھا سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس حادثے کے بعد کشمالہ طارق نے نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی گاڑی بھی اس قافلے کے ساتھ موجود تھی جس میں وہ اور ان کے شوہر موجود تھے۔ تاہم ان کا بیٹا پچھلی گاڑی میں تھا۔

انھوں نے حادثے میں جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگ حادثے کے بعد وہاں رکے تھے اور خود ایمبولینس منگوا کر زخمیوں کو ہسپتال بھیجا۔ انھوں نے ایسی اطلاعات کی تردید کی تھی کہ حادثے کے بعد ان کی گاڑیاں موقعے سے فرار ہو گئی تھیں۔

ہر وقت ساتھ رہنے والے دوست ایک ساتھ ہی دنیا سے چلے گئے

یہ دوست بہتر مستقبل کے خواب سجائے اپنے ایک دوست کی نوکری کے انٹرویو کے لیے مانسہرہ سے اسلام آباد آئے تھے۔

انھی میں سے ایک نوجوان محمد انیس کے کزن اور قریبی دوست محمد عثمان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے علاقوں میں کہرام مچ گیا ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ دوست جو ہر وقت ایک ساتھ رہتے تھے اس طرح ایک ساتھ ہی دنیا سے چلے جائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ محمد انیس تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی تلاش کر رہے تھے کیونکہ ان کے والد ایک سرکاری ادارے میں کلاس فور کی ملازمت کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا تھا ’یہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور اس کو اندازہ تھا کہ اس پر بڑا بھائی ہونے کے ناطے گھر کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔‘

محمد عثمان کا کہنا تھا کہ چاروں دوست ایک دوسرے کے مددگار تھے جنہیں اکثر علاقے میں اکھٹا دیکھا جاتا تھا اور وہ خوشی و غم کے موقعوں پر ایک ساتھ علاقے میں کام کر رہے ہوتے تھے۔

محمد انیس انسداد منشیات کے ادارے میں بھرتی کے لیے انٹرویو کی غرض سے اپنے دوستوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے تھے۔

محمد انیس کے ایک قریبی دوست محمد انس کا کہنا تھا کہ جانے سے پہلے وہ انھیں مل کر گیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں ’اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں نے اے این ایف (انسداد منشیات کا ادارہ) میں بھرتی ہونے کے لیے بہت تیاری کر رکھی ہے۔ اس نے پہلا امتحان پاس کر لیا تھا۔ منگل کو اس کا انٹرویو ہونا تھا۔‘

محمد انس کا کہنا تھا کہ ’میں ان سب کا بچپن کا دوست ہوں۔ ہم نے ایک ساتھ تعلیم حاصل کی۔ ایک ساتھ زندگی کے خوبصورت لمحات گزارے تھے۔ ہم سب کے اپنے اپنے مستقبل اور ایک دوسرے کے لیے بہت بلند عزائم تھے۔ ان کو حاصل کرنے کے لیے ہم سب دوست ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ مگر اب میرے چاروں دوست اس دنیا میں نہیں رہے جس کا بہت دکھ ہے۔‘

حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے فاروق کی نماز جنازہ مانسہرہ میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کے بعد ان کے ماموں چن زیب نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ فاروق کے والد کارپیٹنر ہیں۔ ’یہ دو بھائی اور ایک بہن تھے۔ فاروق سب سے بڑا تھا۔ اس نے کچھ عرصہ قبل ہی کنگ عبداللہ ہسپتال میں عارضی ملازمت حاصل کی تھی۔ جس کے بعد بھی یہ مستقل ملازمت کی تلاش میں تھا۔ اکثر مختلف جگہوں پر درخواستیں دیتا رہتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اینٹی نار کوٹیکس فورس میں جب بھرتیوں کے اشتہار آئے تو فاروق نے بھی اس کے لیے درخواست دی۔ ’وہ روزانہ دوڑ لگاتا تاکہ اس کا سٹیمنا بہتر ہو۔‘

فاروق کے ماموں کا کہنا تھا کہ بھرتی کے لیے جانے سے پہلے ’اس نے مجھے فون کیا تھا کہ میرے لیے دعا کریں کہ میں بھرتی ہو جاؤں۔ ’میں نے اس سے کہا کہ کرائے کے پیسے لے جاؤ تو اس نے جواب دیا کہ حیدر علی اپنی گاڑی لے کر جا رہا ہے اور وہ دیگر دوستوں کو بھی ساتھ لے جائے گا۔‘

فاروق کی والدہ جو اس کی شادی کی تیاریاں کر رہی تھی اپنے بیٹے کا جنازہ دیکھ کر بے ہوش ہوگئیں اور اس وقت وہ صدمے سے بے حال ہیں۔

آخری فیس بک لائیو

حیدر علی عرف سونو خان اپنے چار دوستوں اذان مجید، انیس شکیل، فاروق احمد، ملک عادل کے ساتھ بہتر مستقبل کے خواب سجائے نوکری کے انٹرویو کے لیے مانسہرہ سے اسلام آباد آئے اور ابھی اپنی منزل کی طرف رواں ہی تھے کہ حیدر کو اسلام آباد کی سڑکوں کا نظارہ اتنا بھایا کہ انھوں فیس بک لائیو کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا کے دوستوں کو اپنے سفر کا حصہ بنا لیا۔

اس لائیو ویڈیو پر 'خیریت سے سفر کرو' کمنٹ کرتے دوست یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ویڈیو حیدر کی زندگی کی آخری ویڈیو ثابت ہوگی اور اس ویڈیو کے اختتام کے چند لمحے بعد ہی حیدر کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی۔

پاکستان میں ٹریفک حادثات اور وی آئی پی کلچر پر بحث

اس حادثے کے بعد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بہت سے سوشل میڈیا صارفین پاکستان میں وی آئی پی کلچر پر بحث کرتے نظر آئے۔ صارفین کی جانب سے سرکاری پروٹوکول میں شامل گاڑیوں کا بے دریغ استعمال اور ان کے ڈرائیورز کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سوال اٹھائے گئے۔

ایک صارف ہیما بلوچ کا کہنا تھا کہ ’اس ملک میں طاقتور ہی برتر ہے‘ جبکہ ارسلان کا کہنا ہے کہ ’اس حادثے پر خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ملک کہ امرا کوئی بھی جرم کر کے بچ سکتے ہیں۔‘

جبکہ ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ ’سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر میں اتنے سی سی کیمرہ لگائے گئے ہیں لیکن اب تک ایک بھی کیمرے کے ذریعے یہ پتہ نہیں لگایا جا سکا کہ آیا اس حادثے میں ملوث گاڑیوں کو کون چلا رہا تھا۔‘

جبکہ ماریہ چودرھری نے پوچھا کہ (قصوروار) کو ’قانون کے مطابق سزا ملے گی یا معاملے کو ایک بار پھر رفع دفع کر دیا جائے گا؟‘