آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ادریس خٹک کی طرف سے فوجی عدالت میں مقدمہ روکنے کی درخواست خارج
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل بنچ نے سماجی کارکن ادریس خٹک کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ روکنے کی درخواست خارج کر دی ہے اور اس کے ساتھ ان کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی ہے۔
یہ درخواست ادریس خٹک کے بھائی ڈاکٹر اویس کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
سماجی کارکن ادریس خٹک کے وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ادریس خٹک کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
ادریس خٹک کی جانب سے ان کے وکیل لطیف آفریدی ایڈووکیٹ، سجید آفریدی اور طارق افغان ایڈووکیٹ تھے۔ طارق افغان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹ میں مقدمہ درج ہے جو کہ غیر آئینی ہے کیونکہ ایک سویلین کے خلاف ملٹری کورٹ میں مقدمہ درج نہیں ہو سکتا۔
بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو طارق افغان ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایک درخواست یہ تھی کہ ادریس خٹک کو غیر قانونی اور غیر آیینی طور پر حبس بے جا میں رکھا گیا ہے کیونکہ انھیں کسی سول عدالت میں اب تک پیش نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایک سویلین کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں چلایا جا سکتا۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادریس خٹک کو نومبر 2019 میں پشاور موٹر وے پر صوابی انٹرچینج کے قریب سے اٹھایا گیا تھا۔ ادریس خٹک کے وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر اس کو خفیہ رکھا گیا تھا لیکن جب بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھا تو وزارت دفاع کی جانب سے تسلیم کیا گیا تھا کہ ادریس خٹک پر پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹ میں مقدمہ درج ہے۔
اس سے پہلے پشاور ہائی کورٹ میں جب پٹیشن دائر کی گئی تھی تو اس مقدمے کی سماعت سابق چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس ناصر محفوط کر رہے تھے۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس ناصر محفوظ نے 15 اکتوبر 2020 کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران ادریس خٹک کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا عمل معطل کر دیا تھا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک اس درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا ادریس خٹک کے خلاف منگلا میں فوجی عدالت میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی روک دی جائے اور صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے۔
ان کی گمشدگی کے سات ماہ کے بعد حکومت نے ان کے فوج کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی تھی۔ ادریس خٹک کے وکیل لطیف آفریدی نے اس وقت بتایا تھا کہ ان پر سکیورٹی اداروں کے بارے میں خفیہ معلومات رکھنے اور افشا کرنے کا الزام ہے اور ان کے خلاف سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی تھی۔
لطیف آفریدی کے مطابق 'پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی کی جانب سے لاپتہ افراد کے کمیشن میں جمع کروائے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ انگریزوں کے زمانے میں بنے قانون آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت ادریس خٹک پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔'
ادریس خٹک کون ہیں؟
ادریس خٹک نے روس سے اینتھروپالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور بطور محقق ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ اُن کی تحقیق کا ایک بڑا حصہ سابق فاٹا، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے جبری طور پر گمشدہ کیے گئے افراد رہے ہیں جبکہ وہ سماجی کارکن کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔
پاکستان میں وہ روس سے فارغ التحصیل طلباء کی تنظیم ’ایلومینی ایسوسی ایشن آف ریشیا گریجیویٹ ان پاکستان‘ کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ وہ اکثر اوقات روس کے سفارت خانے میں مختلف تقریبات میں جاتے رہتے تھے۔
وہ تعلیم کی غرض سے روس میں دس سال مقیم رہے اور تعلیم مکمل کر کے واپس آنے کے بعد وہ کبھی بھی دوبارہ روس نہیں گئے۔
انھیں اکثر اوقات اسلام آباد میں روس کے سفارت خانے سے مختلف تقریبات میں شرکت کے دعوت نامے ملتے رہے اور وہ ان میں شرکت کرتے تھے۔ ان پر اس سے پہلے کبھی بھی کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔
ادریس خٹک کی جبری گمشدگی کا پس منظر
13 نومبر 2019 کو دوپہر کے وقت ادریس خٹک کی گاڑی کو صوابی ٹول پلازہ سے گزرنے کے بعد روکا گیا۔ وہاں سے ادریس خٹک کو اُن کے ڈرائیور شاہسوار سمیت ایک اور گاڑی میں لے جایا گیا۔
پھر اگلی صبح ادریس خٹک نے اپنے ایک دوست کو فون کرکے اپنا لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک منگوائی تھی۔ چونکہ ادریس خٹک گھر بند کر کے گئے تھے تو اُن کے دوست کو گھر بلایا گیا اور تھوڑی دیر بعد دو لوگ اُن کے گھر کی چابی لیے پہنچے اور دوست کے ساتھ ادریس خٹک کے فون کے ذریعے نشاندہی کرنے پر اُن کا سامان لے کر چلے گئے تھے۔
دو دن گزرنے کے بعد ادریس خٹک کے ڈرائیور کو موٹروے پر اسلام آباد ٹول پلازہ کے نزدیک چھوڑ دیا گیا اور انھیں گاڑی واپس دے کر سیدھا گھر جانے کا کہا گیا۔ جس کے بعد وہ رات گئے گاؤں واپس آ گئے۔ اس کے بعد ڈرائیور شاہسوار نے انبر پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی۔
شاہسوار کی طرف سے تھانے میں درج شکایت کے مطابق 'صوابی ٹول پلازہ سے گزرنے کے فوراً بعد سادہ لباس میں ملبوس دو لوگوں نے اُن کی گاڑی کو رُکنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی رکتے ہی چار آدمی گاڑی کے اردگرد کھڑے ہو گئے جن میں سے دو نے ادریس خٹک اور شاہسوار کی آنکھوں پر پّٹی باندھ دی اور دوسری گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ادریس خٹک کے لاپتہ ہونے کو انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیا تھا۔ تنظیم نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 'ادریس خٹک کو سادہ لباس میں موجود افراد نے غائب کر رکھا ہے۔ ان کے حوالے سے ان کے خاندان کو معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں اور وہ تشدد یا اس سے بھی بدترین حالات کا شکار ہو سکتے ہیں۔'