ہزارہ یونیورسٹی کا نیا ڈریس کوڈ: ’لڑکیاں جینز نہ پہنیں، لڑکے پھٹی پتلون سے باز رہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردر ڈاٹ کام، اسلام آباد
موسم سرما کی چھٹیوں کے اختتام کے بعد جب پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی ہزارہ ہونیورسٹی کے طلبا واپس لوٹیں گے تو انھیں اپنے حلیے اور لباس کا خاص خیال رکھنا پڑے گا کیونکہ یونیورسٹی حکام کی جانب سے نہ صرف طلبا بلکہ اساتذہ اور عملے کے لیے بھی نئے ڈریس کوڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس نئے کوڈ کے تحت طالبات کو جینز اور ٹائٹس پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔
طالبات کو زیادہ میک اپ اور زیورات پہننے سے بھی منع کیا گیا ہے جبکہ طلبہ کے لیے بھی مختصر لباس جیسا کہ شارٹس، کانوں میں بالیاں، پاؤں میں چپپل اور سینڈل پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یونیورسٹی کے جانب سے سامنے آنے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ طالبات کو صرف مخصوص رنگ کے عبایا، دوپٹے اور سکارف پہننے کی اجازت ہو گی جبکہ طلبہ کو صرف پینٹ شرٹ اور قمیض شلوار پہننے کی اجازت ہو گی۔
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے ترجمان شاہد ربانی کا کہنا ہے کہ اس نئے ڈریس کوڈ کا مقصد مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبا میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے تاکہ کم آمدنی والے گھرانوں سے آنے والے طلبا کسی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جینز کا تعلق کسی طبقے سے نہیں
تاہم طلبا کے امور کی ماہر ثمانہ قسیم کا کہنا ہے کہ اس نئے ڈریس کوڈ میں طبقاتی فرق ختم کرنے سے زیادہ ایک خاص قسم کے لباس کی تشہیر زیادہ نظر آتی ہے۔
’اس نوٹیفیکیشن سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبا کو اخلاقیات کا سبق سکھا رہی ہے، جس میں مذہبی پہلو زیادہ ہے کیونکہ آج کل کم آمدنی والے خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکے لڑکیاں جینز اس لیے پہنتے ہیں کیونکہ یہ سستے داموں دستیاب ہیں اور یہ دیرپا چلتی ہیں نہ کہ دکھاوے کے لیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ثمانہ قسیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں آنے والے طالب علم بالغ ہوتے ہیں اس لیے انتظامیہ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس حد تک جا کر طلبا کے معاملات میں دخل اندازی کریں کہ وہ یہاں تک فیصلہ کریں کہ طالبات کتنا میک اپ کریں، کتنے زیورات پہنیں اور کون سا بیگ لیں۔
'یونیورسٹی انتظامیہ کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ طلبا کی زندگیوں میں ضرورت سے زیادہ سختی اور دخل اندازی ان کو باغی بنا سکتی ہے۔‘
اگر انتظامیہ کا مقصد طلبا میں تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے احترام اور احساس پیدا کرنا ہے تو وہ اور بھی طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے خاص قسم کے لباس پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت نھیں۔'
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستان میں کسی یونیورسٹی کی جانب سے اس قسم کے ڈریس کوڈ کا اطلاق کیا گیا ہو۔ اس سے قبل اسلام آباد کی بحریہ، محمد علی جناح اور نسٹ یونیورسٹی کی جانب سے بھی ڈریس کوڈ کا اطلاق کیا گیا، جس میں طالبات پر ٹائٹس اور جینز کے ساتھ چھوٹی شرٹ پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
یونیورسٹیاں خودمختار ہیں جیسے بھی چاہیں قوائد بنائیں
یونیورسٹیوں کو ریگیولیٹ کرنے والے ادارے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی ترجمان عائشہ اکرام کا کہنا ہے کہ ہر یونیورسٹی اس معاملے میں خود مختار ہے کہ وہ نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے اپنی مرضی کا ڈریس کوڈ اور دیگر قوائد بنائے۔
'ایچ ای سی کا کام یونیورسٹیوں کو فنڈ فراہم کرنا اور اس کی نصابی سرگرمیوں کو ریگیولیٹ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ہر یونیورسٹی ایک خودمختار ادارہ ہے، وہ اپنی مرضی کا ڈریس کوڈ لاگو کر سکتی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبات کے اصل مسائل حل کرنے کے بجائے ان کا دھیان ہمارے کپڑوں پر ہے
پاکستان میں طلبا کے حقوق اور یونیورسٹیوں میں طلبا تنظیموں کی بحالی کے لیے سرگرم عروج اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ بجائے اس کے کہ یونورسٹی انتظامیہ طلبا کو درپیش اصل مسائل جیسا کہ زیادہ فِیس، رہائش کے لیے ہاسٹل اور وہاں ملنے والے کھانے کے معیار کا مسئلہ حل کرے ان کا دھیان طلبا کے لباس پر ہے۔
'یونیورسٹی میں طلبا تنظیمیں نہ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ اس قسم کے فیصلے کرتی ہے جس کا مقصد طالبات کی فلاح و بہبود نھیں ہوتا۔ اگر یونیورسٹی طبقاتی فرق ختم کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے طلبا کی فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات کم کرے کیونکہ جینز اور میک اپ پر پابندی لگانے سے طبقاتی فرق ختم نہیں ہوگا۔











