آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشل میڈیا پر پیغمبرِ اسلام سے متعلق گستاخانہ مواد کی اشاعت پر تین افراد کو سزائے موت دینے کا حکم
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام سے متعلق گستاخانہ مواد شائع کرنے کا جرم ثابت ہونے پر تین افراد کو موت جبکہ ایک مجرم کو دس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے 2018 میں درج کیے جانے والے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جن تین مجرمان کو موت کی سزا سنائی ہے ان میں ناصر احمد سلطانی ،عبدالوحید اور رانا نعمان شامل ہیں جبکہ پروفیسر انوار کو دس برس قید کی سزا دی گئی ہے۔
جن تین مجرمان کو توہین مذہب کے قانون 295 سی کے تحت موت کی سزا سنائی گئی ہے اُنھیں انسداد دہشت گردی کے ایکٹ سات کے تحت پانچ پانچ سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مذید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
ان سزاؤں پر عمل درآمد ایک ہی وقت میں شروع ہوگا۔ اس عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب اسلام آباد ہائی کورٹ اس فیصلے کی توثیق نہیں کرتی۔
اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق مجرم ناصر احمد سلطانی کا تعلق پنجاب کے ضلع جھنگ سے ہے اور اُنھوں نے پیغمبر ہونے کا دعوی بھی کیا تھا اس کے علاوہ دیگر دو مجرمان کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر کراچی سے ہے اور اُنھوں نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق جس چوتھے مجرم کو دس سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے وہ اسلام آبادکے ایک کالج کے میں استاد تھے۔ تفتیشی افسر کے مطابق پروفیسر انوار کالج میں لیکچر کے دوران پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین امیز الفاظ بھی کہتے رہے ہیں جن کے بارے میں شہادت ان کے طالب علموں نے بھی دی۔
ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ان مجرمان کو مختلف اوقات میں مختلف مقامات سے گرفتار کرکے تفتیش کی گئی تھی۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق جن مجرمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود تھے۔ اس مقدمے میں 40 سے زیادہ گواہان پیش کیے گیے جن میں استغاثہ کے وکلا کے علاوہ فارنزک لیبارٹری اور ایف آئی اے کے اہلکار بھی شامل تھے۔
واضح رہے کہ سنہ 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز مواد شائع کیا جارہا ہے لہٰذا ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایف آئی اے کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔
ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق تمام شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے تفتیش کی گئی اور تفتیش میں متعدد افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں وہ بلاگرز بھی شامل تھے جو جنوری 2017 میں لاپتہ ہوئے تھے اور تاہم ان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا تھا اور ان کے بارے میں رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروادی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل حافظ مظہر جاوید کے مطابق اس مقدمے میں کل آٹھ ملزمان تھے جن میں سے چار بیرون ملک فرار ہو گئے ہیں۔ عدالت نے اس مقدمے میں مفرور چار ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے جب اس مقدمے کا فیصلہ سنایا تو مجرمان کو سکیورٹی کے سخت حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ فیصلے سننے کے بعد مجرمان کو واپس اڈیالہ جیل بھیجنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مجرم کون ہیں؟
سزائے موت پانے والے پہلے مجرم ناصر احمد سلطانی کے بارے میں ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے اس کے بارے میں ایسے شواہد موجود ہیں کہ جس میں انھوں نے فیس بک اور سوشل میڈیا کے دوسرے پلیٹ فارم پر پیغمبر ہونے کا دعوی کیا تھا۔
تاہم اس مقدمے کی عدالتی کارروائی کے دوران مجرم ناصر احمد سلطانی کے بیٹے نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کے والد ختم نبوت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق مجرم ناصر احمد سلطانی پاکستان میں اقلیت قرار دی جانے والی جماعت احمدیہ (حقیقی) کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی چلاتے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق مجرم کو سنہ2017 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس بات کی تصدیق مجرم کے بیٹے نے عدالتی کارروائی کے دوران بھی کی جب اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ اُنھوں نے اپنے والد کو نیپال بھیجنے کے لیے جہاز کی ٹکٹ کی بکنگ کروائی تھی۔
دوسرے مجرم عبدالوحید کے بارے میں ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ دین کے بارے میں اُنھیں کافی معلومات ہیں جبکہ اس مقدمے کی عدالتی کارروائی کے دوران مجرم کی طرف سے پیش کیے گئے گواہان کے مطابق مجرم عبدالوحید ایک مذہبی سکالر ہیں اور وہ دین کے بارے میں لوگوں کو معلومات بھی فراہم کرتے تھے۔
ایف آئی اے کے حکام کے مطابق مجرم نے پیغمبر اسلام کے بارے میں فیس بک اور سوشل میڈیا کے دوسرے پلیٹ فارم پر پیغمبر اسلام کے بارے میں کمنٹس دیے ہیں جس کے بارے میں شواہد عدالت میں پیش کیے گئے۔
مجرم کے بیٹے کے مطابق ایف آئی اے کے اہلکاروں نے ان کے گھر پر کسی سرچ ورانٹ کے بغیر چھاپہ مارا اور چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا۔
چوتھے مجرم رانا نعمان کے بارے میں ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اور عبدالوحید ان افراد میں شامل ہیں جنھوں نے پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز کتاب کا ترجمہ کیا تھا۔
دس برس قید کی سزا پانے والے مجرم انوار احمد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے ایک سرکاری کالج میں اردو کے پروفیسر تھے اور انٹرمیڈیٹ کے طالب علموں کو لیکچر کے دوران وہ انسان کے مرنے کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے نیک انسانوں کے لیے جنت میں دی جانے والی سہولتوں کا نہ صرف مذاق اڑاتے رہے ہیں بلکہ وہ اللہ تعالی کی ذات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
اس مقدمے کی سماعت کے دوران جتنے بھی سرکاری گواہ عدالت میں پیش کیے گئے ان میں زیادہ تر ان کے شاگرد اور ان کے کالج کے ساتھی رہے ہیں۔
اس مقدمے میں پروفیسر انوار احمد واحد مجرم ہیں جنھوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا جبکہ باقی مجرمان نے استغاثہ کو اپنے خلاف گواہان اور شہادتیں پیش کرنے کو ترجیح دی تھی۔