’ٹو فنگر‘ ٹیسٹ: عدالت نے کنوار پن جانچنے کے ٹیسٹ کو ’غیرقانونی‘ اور ’آئین کے منافی‘ کیوں قرار دیا؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

گرمیوں کی راتیں تھیں اور بی بی (فرضی نام) گھر کے دیگر افراد کے ہمراہ صحن میں پلنگ ڈالے سو رہی تھیں جب ہاتھوں میں بندوقیں تھامے تین مرد ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ گھر والوں کو اسلحے کی نوک پر ڈراتے ہوئے وہ 16 سالہ بی بی کو زبردستی ساتھ لے گئے۔

صوبہ پنجاب کے ضلع ملتان کے ایک گاؤں میں انھوں نے بی بی کو پاس ہی واقع اپنے گھر کے ایک کمرے میں بند کیا۔ دو مرد کمرے کے باہر پہرے پر کھڑے ہوئے جبکہ ایک اور شخص نے مبینہ طور پر تمام رات بی بی کو ریپ کا نشانہ بنایا۔

لڑکی کو اگلے روز اس شرط اور دھمکی کے ساتھ اس کے والدین اور گاؤں کے معززین کے حوالے کیا گیا کہ وہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی کوشش نہیں کریں گے ورنہ انھیں جان سے مار دیا جائے گا۔

تاہم لڑکی کے والدین نے قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں انھیں وقت لگا اور پولیس نے واقعے کے تقریباً چھ سے سات روز کے بعد رپورٹ درج کی۔ اس کے بعد بی بی کا طبی معائنہ کروایا گیا۔ میڈیکو لیگل افسر نے اپنے مشاہدے میں لکھا کہ لڑکی کے جسم پر سیمن (مادہ منویہ) کے نشانات موجود تھے۔

لیکن ساتھ ہی بی بی کا ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ بھی کیا گیا اور معائنہ کرنے والی لیڈی ڈاکٹر نے اپنے تاثرات میں لکھ دیا کہ ’لڑکی کی وجائنہ یا جائے مخصوصہ میں دو انگلیاں باآسانی داخل ہو سکتی تھیں۔‘

اس میڈیکل رپورٹ کی پہلی بات کی بنیاد پر ماتحت عدالت نے سنہ 2005 میں پیش آنے والے اس واقعے میں مرکزی ملزم کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے 10 برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم اس فیصلے کے خلاف ملزم کی اپیل وفاقی شرعی عدالت میں اس وقت کے چیف جسٹس کے سامنے آئی۔ سنہ 2014 میں اپنے فیصلے میں انھوں نے ملزم کو بری کر دیا۔

مقدمے کے دیگر امور پر اعتراضات لگاتے ہوئے چیف جسٹس نے میڈیکو لیگل رپورٹ میں لیڈی ڈاکٹر کی اس دوسری بات کو بنیاد بنایا جس میں ٹو فنگر ٹیسٹ کے بعد کہا گیا تھا کہ ’لڑکی کی وجائنہ میں دو انگلیاں باآسانی داخل ہوئیں اس لیے 16 سالہ غیر شادی شدہ لڑکی نیک کردار کی مالک نہیں تھی۔‘

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ لڑکی کی وجائنہ سے ملنے والا سیمن ملزم ہی کا تھا، ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کروایا گیا تھا۔

اس فیصلے میں ان کے کردار کے حوالے سے ہونے والی بات بی بی کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوئی، یہ نہیں معلوم کیونکہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی زیادہ تر خواتین اس حوالے سے زیادہ بات نہیں کرتیں اور نہ ہی سامنے آتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کنوارے پن کے ٹیسٹ کی وجہ سے متاثرہ خاتون دوہرے مخمصے کا شکار ہوتی تھی۔ اگر وہ یہ ٹیسٹ کروانے سے انکار کرے تو اس کے لیے الزامات ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا تھا اور اگر وہ ٹیسٹ کروا لے تو اس کے کردار پر سوالیہ نشان لگنے کا خطرہ رہتا تھا۔

محض ٹو فنگر ٹیسٹ میں لیڈی ڈاکٹروں کے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر قائم ان متنازع تاثرات نے کئی خواتین کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل دیں۔

حال ہی میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ اور ’ہائیمن (اندام نہانی کی اندرونی جھلّی) کے ٹیسٹ‘ کے ان متنازع طریقوں کو ’غیر قانونی‘ اور ’آئین کے منافی‘ قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ خواتین کے حقوق کی تنظیموں، سیاسی و سماجی شخصیات، صحافیوں اور وکلا کی جانب سے گذشتہ برس دائر کی جانے والی درخواستوں پر دیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کو ’کنوار پن جانچنے کے ٹیسٹوں کو روکنے کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔‘

ٹو فنگر ٹیسٹ کیا ہے؟

جنسی تشدد یا ریپ کا شکار بننے والی ہر خاتون کے لیے ضروری ہے کہ وہ طبی معائنہ کروائے۔ صوبہ پنجاب میں رائج میڈیکو لیگل معائنے کے ان اصولوں کے مطابق وہ خاتون سرپرست کے ساتھ کسی خاتون میڈیکو لیگل سے معائنہ کروائے گی۔

اس معائنے کے مختلف طریقے ہوں گے جن کے ذریعے بنیادی طور پر یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا عورت کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا نہیں۔ طبی اور دیگر سائنسی طریقوں کے علاوہ ٹو فنگر ٹیسٹ اور ہائمن ٹیسٹ کے طریقے بھی معائنے کا حصہ تھے۔

اس ٹیسٹ میں ایک کمرے میں یا پردے کے پیچھے لیڈی ڈاکٹر متاثرہ خاتون کی وجائنہ میں دو انگلیاں داخل کرتی تھیں۔ اس کے بعد اپنے ذاتی مشاہدے کی بنا پر اسے رپورٹ میں تاثرات درج کرنے ہوتے تھے جن کی بنیاد اس بات پر ہوتی تھی کہ کیا لڑکی کی وجائنہ میں دو انگلیوں کا دخول باآسانی ہوا یا نہیں۔

ٹو فنگر ٹیسٹ یا ہائمن ٹیسٹ متنازع کیوں تھے؟

طبی ماہرین کے مطابق اپنے ذاتی مشاہدے کی بنا پر اگر لیڈی ڈاکٹر رپورٹ میں یہ لکھ دیتیں کہ خاتون کی وجائنہ میں دو انگلیاں باآسانی نہیں گئیں تو یہ مان لیا جاتا تھا کہ اس کے ساتھ ریپ یا جنسی تشدد ہوا ہو گا۔ دوسری صورت میں اگر دو انگلیاں باآسانی چلی گئیں تھیں تو مان لیا جاتا تھا کہ خاتون پہلے سے سیکس کی عادی تھی۔

اس طرح یہ فرض کر لیا جاتا تھا کہ اگر وہ خاتون غیر شادی شدہ یا کنواری تھی تو اس کو جنسی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا ہو گا بلکہ اس نے رضامندی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا ہو گا۔ اسی طرح اگر ہائمن اپنی جگہ پر موجود نہیں تھا تو مان لیا جاتا تھا کہ متاثرہ خاتون کنواری نہیں ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’اس طرح ان مقدمات میں اس خاتون لیڈی ڈاکٹر کی ذاتی رائے عدالتی فیصلے تک چلی جاتی تھی۔‘

کیا تحقیقات میں اس طریقے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ٹو فنگر ٹیسٹ اور ہائمن ٹیسٹ جیسے طریقوں کی کوئی طبی یا سائنسی بنیاد نہیں، اس لیے جنسی تشدد کے واقعات میں ان کی کوئی فورینزک اہمیت نہیں ہے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ’ان ٹیسٹس کا واحد مقصد یہ پتا لگانا ہوتا تھا کہ متاثرہ خاتون سیکس کی عادی تھی یا نہیں تاکہ اس کی طرف سے لگائے گئے ریپ اور جنسی تشدد کے الزامات یا بیان کی تصدیق کی جا سکے۔‘

تاہم عدالت کے مطابق ایسے واقعات کی تحقیقات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سوال کہ وہ سیکس کی عادی تھی یا نہیں، کبھی بھی فیصلہ کن نہیں ہو سکتا۔ ’سوال یہ ہے کہ کیا ملزم بتائے گئے وقت اور حالات میں متاثرہ خاتون کے ساتھ ریپ کا مرتکب ٹھہرا؟‘

کنواری نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں اس کے ساتھ ریپ نہیں ہوا

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’اگر متاثرہ خاتون کنواری ثابت نہیں ہوتی تو اس سے یہ اشارہ نہیں ملتا کہ اس کا ریپ نہیں کیا گیا یا اس کے ساتھ جنسی تشدد نہیں ہوا۔‘

عدالت کے مطابق اس سے ہوتا یہ ہے کہ ملزم کے بجائے متاثرہ خاتون کا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے اور تمام تر توجہ اس کے کنوارے ہونے یا نہ ہونے کی طرف چلی جاتی ہے۔

فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ ’متاثرہ خاتون کی جنسی سرگرمی اس حوالے سے مکمل طور پر غیر متعلقہ ہے اور نہ ہی جنسی تشدد کے کسی واقعے کا فیصلہ کنوار پن کے ٹیسٹ پر ہونا چاہیے۔‘

متاثرہ لڑکی کو ملزم سے شادی کرنا پڑتی تھی

فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلا اور قانونی معاونت فراہم کرنے والی تنظیموں کے مطابق میڈیکل رپورٹ کی وجہ سے آنے والے اس مسئلے کا فائدہ ملزم کو ہوتا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وکیل اور اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل لاہور سے تعلق رکھنے والی ندا علی کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مواقع پر ملزم عدالت میں یہ مؤقف اختیار کرتے تھے کہ اس کے متاثرہ خاتون کے ساتھ تعلقات تھے جو کہ باہمی رضامندی سے قائم ہوئے تھے۔

’وہ جنسی تعلق سے انکار نہیں کرتا تھا بلکہ یہ مؤقف لیتا تھا کہ اس کے تعلقات رضامندی سے تھے اور ٹو فنگر ٹیسٹ کے نتیجے میں لکھے گئے لیڈی ڈاکٹر کے تاثرات کہ لڑکی سیکس کی عادی تھی ملزم کے حق میں چلے جاتے تھے کیونکہ اسے شک کا فائدہ دیا جاتا تھا۔‘

ندا علی کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مواقع پر تو لڑکی اور اس کے گھر والوں کے پاس اور کوئی راستہ ہی نہیں بچتا سوائے اس کے کہ وہ اپنی عزت بچانے کے لیے ملزم ہی سے متاثرہ لڑکی کی شادی کر دیں۔

’ملزم شادی پر آمادہ ہو جاتا ہے اور مقدمہ واپس ہو جاتا ہے، لیکن بعد میں متاثرہ لڑکی پر کیا گزرتی، یہ کسی کو نہیں معلوم۔‘

عدالت نے صوبائی حکومت کو احکامات جاری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ وہ اس میڈیکو لیگل معائنے کے لیے موزوں مسودہ، ہدایات اور ضابطہ اخلاق تیار کرے جو بین االاقوامی طریقوں کے مطابق ہوں اور معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے جسمانی تشدد کی شکار خواتین کا خیال رکھیں۔

پنجاب حکومت پہلے ہی آرڈیننس کے ذریعے تبدیلی کر چکی تھی؟

خیال رہے کہ حال ہی میں عدالتی کارروائی کے دوران عدالت کی طرف سے وضاحت طلب کرنے کے جواب میں پنجاب حکومت نے درخواست گزاروں کی استدعا کو تسلیم کرتے ہوئے ٹو فنگر ٹیسٹ کو میڈیکو لیگل معائنے میں سے نکالنے کا آرڈیننس 2020 میں جاری کر دیا تھا۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جواد یعقوب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پنجاب حکومت کی واضح ہدایت تھی کہ ’اگر قانونی طور پر اس طریقے سے کوئی معاونت نہیں ملتی تو اسے ختم کر دیا جائے اور اس پر متفق ہونے کے بعد حکومت نے فوراً اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘

نئے آرڈیننس میں پرانے طریقہ کار کے اندر ہی تبدیلی کرتے ہوئے ایک جگہ یہ لکھا گیا تھا کہ ’ٹو فنگر ٹیسٹ نہیں کیا جائے گا۔‘ اسی طرح یہ بھی کہا گیا تھا کہ میڈیکو لیگل آفیسر ایسے تاثرات نہیں لکھے گی جیسا کہ ’سیکس کی عادی‘ یا ’نیک کردار کے مالک نہیں۔‘

عدالت نے نئے ہدایت نامے کو تسلیم کیوں نہیں کیا؟

تاہم لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ جس طرح اس آرڈیننس کے ذریعے ترمیم لائی گئی تھی اس طریقہ کار نے معاملات کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایک جگہ تو یہ لکھ دیا گیا تھا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ نہیں کیا جائے، تاہم ساتھ ہی معائنے کے باقی تین میں سے دو طریقوں یعنی بائی لیٹرل ڈیجیٹل ٹریکشن اور سپیکیولم معائنے میں ٹو فنگر ٹیسٹ کی ممانعت پر وضاحت موجود نہیں تھی۔ عدالت کے مطابق ’اس طرح 2020 کا ہدایت نامہ کنوار پن کے ٹیسٹ کو جاری رکھتا ہے اور صرف معاملات کو الجھانے کا سبب بنا ہے۔‘

عدالت نے اپنے مشاہدے میں یہ بھی لکھا کہ اس نئے ہدایت نامے کے ساتھ لگے پرفارمے کو دیکھا جائے جو یہ کہتا ہے کہ آنکھ سے مشاہدے اور بقایا دونوں قسم کے معائنوں کے دوران یہ جانچنا ضروری ہے کہ کیا ہائمن اپنی جگہ موجود تھا یا نہیں۔

’یہ جہاں ضرورت ہو وہاں پر وجائنہ کے معائنے کی اجازت دیتا ہے اور اس قسم کے معائنے کا مطلب ٹو فنگر ٹیسٹ ہی تصور کیا جاتا ہے۔‘

کردار پر مفروضے بنانا آسان، مٹانا مشکل ہوتا ہے

عدالت نے صوبائی حکومت کو واضح ہدایات بھی دی ہیں جن کے مطابق متاثرہ خاتون سے طبی معائنے کے لیے اس کی مرضی جاننے کے طریقہ کار میں شفافیت لانے، اس سے سوالات پوچھنے کا موزوں طریقہ رائج کرنے اور شواہد اکٹھا کرنے کے حوالے سے ہدایات موجود تھیں۔

عدالت نے ایک جگہ پر لکھا کہ متاثرہ خاتون کے طبی معائنے کی رپورٹ میں موزوں زبان کا استعمال کیا جانا چاہیے اور رپورٹ کو اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے کہ آیا ریپ ہوا یا نہیں۔ اس نوعیت کے الفاظ اور الزامات کے متاثرین کے لیے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔

’اس کے کردار، اس کے کپڑوں، سرگرمی اور ماضی کے حوالے سے مفروضے قائم کرنا آسان مگر مٹانا مشکل ہوتا ہے۔‘

امید ہے کہ کنوار پن کا ٹیسٹ ٹیسٹ مکمل ختم ہو جائے گا

صوبہ پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل جواد یعقوب کا کہنا تھا کہ حکومتِ پنجاب عدالت کے فیصلے کی روشنی میں دی گئی تمام تر تجاویز کو نئے ہدایت نامے میں شامل کرے گی۔

عدالت میں درخواست گزاروں کی نمائندگی کرنے والے وکیل سمیر کھوسہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں ان تمام نکات کا احاطہ کیا گیا ہے جو دورانِ سماعت ان کی طرف سے اٹھائے گئے تھے۔

انھوں نے خصوصاً حکومتِ پنجاب کی طرف سے سنہ 2020 کے نئے ہدایت نامے میں موجود خامیوں کی طرف عدالت کی توجہ مبذول کروائی تھی۔ ’یہ عدالتی فیصلہ بہت واضح ہے اور عدالت نے ہر نکتے پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ عدالت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ورجینیٹی ٹیسٹ کی کوئی فورینزک حیثیت نہیں ہے۔‘

سمیر کھوسہ کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ تمام متعلقہ ادارے فوری طور پر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کریں گے اور ’کنوار پن کے ٹیسٹ جیسا طریقہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا۔‘