شیخ ایاز: سندھ کے معروف انقلابی شاعر جنھیں انڈین وزیراعظم نے ’چندر شیکھر‘ کا لقب دیا

،تصویر کا ذریعہKhuda Bux Abro
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
برصغیر میں برطانوی راج کے آخری ایام تھے رائل نیوی کے جہازیوں (سیلرز) نے کراچی کی بندرگاہ پر موجود بحری جہاز ’ہندوستان‘ اور منوڑہ جزیرے پر قائم فوجی تنصیبات پر قبضہ کر لیا تھا، شہر کی سڑکوں پر جلوس نکالے گئے اور ایک نوجوان کا گیت گایا گیا۔
’ہلا دو سماج کو، گرا دو سامراج کو
لاؤ نیا نظام، جو پسند کرے عوام
انقلاب انقلاب، گاؤ انقلاب گاؤ انقلاب‘
یہ نوجوان انقلابی شاعر بعدازاں شیخ ایاز کے نام سے مشہور ہوئے۔ سنہ 1857 کی بغاوت میں ’سندھ کے کردار‘ کے مصنف اسلم خواجہ لکھتے ہیں کہ جہازیوں کی بغاوت کے حمایتی کمیونسٹ تھے جن کی قیادت سوبھو گیانچدانی، اے کے ہنگل (نامور انڈین اداکار) کر رہے تھے۔ شیخ ایاز نے اسی بغاوت کے زیر اثر یہ نظم کہی تھی۔
بین المذاہب سماج میں پیدائش
شکارپور کی ان دنوں شناخت اچار، مربے اور چٹنیاں بن گئی ہیں لیکن تقسیم ہند سے قبل یہ شہر اس خطے میں تجارت، علم و ادب اور بین المذاہب ہم آہنگی کے مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس شہر کے تجارتی تعلقات ثمرقند تک تو روحانی تعلقات گرونانک، کبیر بھگت تک پھیلے ہوئے تھے۔ یہاں کے سیوا پنتھی لوگوں نے فلاحی ہسپتال اور تعلیمی ادارے بنائے۔
شیخ ایاز کی پیدائش دو مارچ 1923 کو غلام حسین شیخ کے گھر میں شکارپور میں ہوئی اور ان کی وفات 27 دسمبر 1997 کی شب ہوئی۔ ان کے والد محکمہ ریونیو میں ملازم تھے جنھوں نے تین شادیاں کیں۔ ایاز کی والدہ ایک ہندو ہیوہ تھیں جو ان کے والد کی محبت میں گرفتار ہوئیں اور گھر بار چھوڑ کر ان کے پاس آ گئیں اور نکاح کر لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایاز جن دنوں سی اینڈ سی کالج شکار پور میں زیر تعلیم تھے جب ہندو مسلم ایکتا کی تحریک جاری تھی۔ اس تحریک کو موثر بنانے کے لیے ناٹک منڈلیاں ڈرامہ پیش کرتی تھیں۔ تب شکار پور سے بچوں کے جریدوں کا بھی اجرا ہوتا تھا۔
کراچی میں کمیونسٹوں کے زیر اثر
شیخ ایاز نے سنہ 1940 میں بی اے کرنے کے لیے ڈی جی کالج کراچی میں داخلہ لیا۔ یہاں وہ بائیں بازو کے نظریات کے حامی ادیبوں اور سیاست دانوں سوبھو گیا نچندانی، گوبند مالھی، ابراہیم جویو اور سندھ کے جدید قوم پرست نظریے کے بانی حشو کیولرانی کی صحبت میں رہے۔
یہ بھی پڑھیے
سوبھو گیانچندانی ٹیگور کے ’شانتی نکیتن‘ میں زیر تربیت رہے اور واپسی پر وکالت کے ساتھ کئی ٹریڈ یونینز میں سرگرم تھے۔ ابراہیم جویو ممبئی سے بی ٹی کی تربیت کے بعد لوٹے تھے جہاں سے وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانی اور فلسفی ایم این رائے سے متاثر ہو کر آئے تھے اور کراچی میں ان کی ریڈیکل پارٹی سے وابستہ لوگوں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
کراچی میں ناگیندر ناتھ ویاس اور ان کی بیوی سشیلا ان نظریات سے وابستہ تھے، جو پارٹی کے گجراتی میں جریدے ’آگی قدم‘ کا اجرا کرتے تھے۔ شیخ ایاز نے ان کی قربت حاصل کی اور سندھی میں اسی نام سے جریدے کا اجرا کیا جو سندھی کا پہلا ترقی پسند ادبی جریدہ تھا۔
گجرال نے انھیں چندر شیکھر کا لقب دیا

،تصویر کا ذریعہShaikh Ayaz Facebook page
شیخ ایاز اپنی بائیو گرافی میں لکھتے ہیں کہ کامریڈ سوبھو ایک مرتبہ انھیں نشاط سینما کے قریب رہائش پذیر کمیونسٹ رہنما آئی کے گجرال (جو بعد میں انڈیا کے وزیراعظم منتخب ہوئے) کے پاس لے گئے اور تعارف کرواتے ہوئے کہا ان سے ملیے یہ ہیں ہمارے سرخ شاعر۔
’گجرال نے کہا کہ سندھی نظم سناؤ تاکہ میں اس کی روانی اور موسیقی کا اندازہ لگا سکوں۔ میں نے ان کو ’او باغی او راج دروہی‘ سنائی تو وہ کافی خوش ہوئے اور کہا کہ تم شاعری میں چندر شیکھر آزاد ہو۔‘
چندر شیکھر بھگت سنگھ کے ساتھی اور انقلابی تھے۔
سندھ کے نامور سیاست دان اور ادیب رسول بخش پلیجو نے شیخ ایاز کی وفات پر اپنے ایک مضمون میں لکھا ’شیخ ایاز خوش نصیب تھا جس کو ایسا دور ملا جس وقت انجمن ترقی پسند مصنفین تھی، گاندھی کا مارچ تھا، سنہ 1930 کی ’انگریز انڈیا چھوڑ جاؤ تحریک‘ تھی۔ یہ تمام چیزیں ان کو ورثے میں ملیں۔ ٹیگور کی شاعری، کرشن چندر، فیض کی شاعری ایک ہمہ گیریت تھی، تاریخ بے چین تھی تبدیلی کے لیے اور تاریخ کا فرمان تھا کہ اس تبدلی کے ہم قدم چلو۔‘
ون یونٹ میں مزاحمت
سنہ 1954 میں جب مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو ون یونٹ قرار دیا گیا تو سندھ میں اس کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا، ادیب، صحافی اور وکلا بھی سیاسی جماعتوں کے ہم قدم تھے، ایسے میں شیخ ایازکی شاعری نے اس تحریک کو ایندھن فراہم کیا۔
’سندھڑی پر سر کوں قربان۔۔۔‘ گیت سندھ کی گلی کوچوں میں گونج اٹھا اور لوگ نکل کر ون یونٹ کی بھرپور مزاحمت کرنے لگے۔ اس گیت کے ذوالفقار علی بھٹو بھی شیدائی تھے۔ مشہور ہے کہ ایک شب انھوں نے اس گیت کے گائیک استاد غفور اور سارنگی نواز استاد عبدالمجید کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بلوا کر چار مرتبہ یہ گیت سنا تھا۔
سندھ کے ترقی پسند مفکر ابراہیم جویو لکھتے ہیں کہ ’سنہ 1947 کی تقسیم کے بعد سندھ میں چاروں طرف خاموشی چھا گئی تھی اور ایسے میں شیخ ایاز کی شاعری اور نثر کی وجہ سے دوبارہ ہلچل پیدا ہو گئی۔ سندھی ادب نے بے مثل کلاسیکل شاعروں اور نثر نویسوں کی گود میں آنکھ کھولی تھی اِدھر اُدھر دیکھ کر دوبارہ آنکھیں بند کر لی تھیں اور ایسے میں اس نے ایاز کی آواز پر دوبارہ کروٹ لی، ایاز اس صبح صادق کا پہلا ندیم ہے۔‘
سندھ یونیورسٹی میں سندھی شعبے کے استاد اسحاق سمیجو کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ایاز نے تمام منفی قوتوں کو للکارنے کی تحریک کی صورت اختیار کر لی اور نتیجے میں سنہ 1962 سے لے کر سنہ 1964 تک ان کی شاعری کے تین مجموعوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔
غدار کو میڈیکل سرٹفیکیٹ نہیں دیا جاتا
شیخ ایاز کراچی سے سکھر منتقل ہو گئے جہاں وہ وکالت کے پیشے سے منسلک رہے۔ پاکستان اور انڈیا جب سنہ 1965 میں آمنے سامنے ہوئے اور جنگ کا آغاز ہوا تو شیخ ایاز نے اس کی مزاحمت کی اور اپنے دوست شاعر نارائن شام کو استعارہ بنا کر ایک نظم لکھی۔
’یہ سنگرام، سامنے ہے نارائن شیام
اس کے میرے بول بھی وہ ہی قول بھی وہ ہی
اس پر کیسے بندوق اٹھاؤں، کیسے گولی چلاؤں‘
اس نظم کے مقبول ہونے کے بعد شیخ ایاز کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہ سنہ 1965 میں وہ سکھر جیل میں تھے اور شہر میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ جس وائرلیس سے وہ انڈیا کو مبینہ پیغام بھیج رہے تھے وہ وائرلیس سیٹ ان کے دفتر کے تہہ خانے سے برآمد کر لیا گیا۔
وہ لکھتے ہیں کہ نظربندی کے احکامات تین ماہ کے لیے تھے، ان دنوں ان کی ساس، جو ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں، کو جگر کا کینسر ہو گیا اور اس صدمے سے ان کی اہلیہ زرینہ ہوش گنوا بیٹھیں۔

،تصویر کا ذریعہKhuda Bux Abro
’ان ہی دنوں مجھے ملیریا ہو گیا۔ غلام اللہ اعوان جو ان دنوں سکھر کے سول سرجن تھے معائنے کے لیے آئے۔ میں نے سرجن کو کہا کہ بیماری کا سرٹیفیکٹ دو تاکہ حکومت کو رہائی کی درخواست دے سکوں جس پر سرجن نے کہا کہ اپنے بیٹے کو بھیج دینا۔‘
’انیس (بیٹا) ملاقات کے لیے آیا تو میں نے اس کو ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے کہا۔ وہ جب دوبارہ ملاقات کے جیل آیا تو میں نے ڈاکٹر سے ملاقات کا پوچھا تو وہ رو پڑا اور کہا کہ ڈاکٹر نے کہا کہ کسی غدار کو میں سرٹیفیکیٹ نہیں دے سکتا۔‘
شیخ مجیب کی پارٹی میں شمولیت
شیخ مجیب الرحمان کی فرمائش پر شیخ ایاز ان کی جماعت عوامی لیگ میں شامل ہوئے اور بعد میں پابند سلاسل رہے۔
وہ اپنی آتم کتھا میں لکھتے ہیں کہ اگرتلہ کیس سے رہائی کے بعد جی ایم سید نے شیخ مجیب الرحمان کی کراچی کے ایک ہوٹل میں دعوت کی تھی۔
جی ایم سید نے شیخ مجیب کو کہا کہ وہ آغا غلام نبی، ایوب کھوڑو اور علی محمد راشدی کو عوامی لیگ کی مرکزی کمیٹی میں شامل کریں جس کے جواب میں شیخ مجیب نے کہا کہ میں تمہارے ان ’فیوڈل دوستوں‘ پر بعد میں غور کروں گا پہلے مجھے اپنا شاعر شیخ ایاز مرکزی کمیٹی کے لیے دو کیونکہ میرے دوست اس کی بنگالی میں شاعری کے ترجمے کی وجہ سے انھیں پہچانتے ہیں اور ان سے متاثر ہیں۔
’شیخ مجیب نے واضح کیا کہ عوامی لیگ مڈل کلاس کی جماعت ہے، نا کہ فیوڈل کلاس کی۔ جی ایم سید کو یہ بات پسند نہ آئی۔ میں نے شیخ صاحب کو کہا کہ ابھی ون یونٹ کا خاتمہ نہیں ہوا تحریک میں کمیونسٹ، سوشلسٹ، انارکسٹ، قوم پرست، سندھ دوست عوام سب شامل ہیں بطور شاعر اور ادیب میں ان سب سے رابطے میں ہوں، ون یونٹ جب ٹوٹے گا تو میں عوامی لیگ میں شامل ہو جاؤں گا۔‘
شیخ ایاز لکھتے ہیں کہ شیخ مجیب ڈھاکا چلے گئے۔ کچھ عرصے کے بعد قاضی فیض محمد جو عوامی لیگ میں متحدہ محاذ کے نمائندہ تھے ان کے گھر آئےاور بتایا کہ شیخ مجیب نے مجھے تاکید کی ہے نوابشاہ (اپنے گھر) نہ جانا سیدھے شیخ ایاز کے پاس جا کر اپنا قول یاد دلانا۔
اس کے بعد انھوں نے رشید بھٹی اور دیگر کے ہمراہ عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کر لی اور اگلے روز مارشل لا نافذ ہوا اور شیخ مجیب کو گرفتار کر لیا گیا اور انھیں بھی آٹھ ماہ کے لیے قید کر لیا گیا۔
شیخ ایاز کی اسیری اور فیض کی دعوت
شیخ ایاز اپنے ہم عصر ساتھیوں سے نالاں بھی رہے، دانشوروں کو مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ
’میرے دیدہ ورو، میرے دانشوروں
پاؤں زخمی سہی، ڈگمگاتے چلو
اپنی زنجیر کو جگمگاتے چلو‘
وہ نقاد بھی نظر آتے ہیں۔ ساہیوال جیل کی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ گذشتہ شب ریڈیو پر ’غالب کے دربار میں آم‘ پروگرام سُن رہے تھے۔ فیض احمد فیض کی صدارت میں کئی شعرا اور ادیبوں نے غالب اور ان کی آموں کے ساتھ رغبت پر شعر اور مضمون پڑھے۔ ان کے لیے آموں کی دعوت کی گئی تھی اور کئی اقسام کے آم منگوائے گئے تھے۔
’جس وقت وہ آم چوس رہے تھے اس وقت مشرقی پاکستان میں کئی لاکھ لوگ، نوجوان، بچے، بوڑھے اور خواتین سرحد پار کر کے انڈیا جا چکے تھے اور لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر دربدر تھے۔ میں نے اس وقت ایک ٹھنڈی سانس لی اور سوچا کہ شاعر بھی ذلت کی کھائی میں ایسے گر سکتے ہیں جیسے دیگر لوگ؟ تاریخ کی کسوٹی جب کھرے کھوٹے کی پرکھ کرے گی اس وقت یہ چمکتے سکے کوڑیوں کے مول بھی نہیں جائیں گے۔‘
جنرل شیروف مری کا خنجر کا تحفہ
نیشنل عوامی پارٹی یعنی نیپ کی حکومت میں کوئٹہ کے سفر اور بلوچستان کے شاعر گل نصیر سے ملاقات کا واقعہ بھی انھوں نے قلمبند کیا ہے۔ اس وقت گل نصیر خان صوبائی وزیر تھے۔
شیخ ایاز لکھتے ہیں کہ انھوں نے ملاقات کے لیے کارڈ بھیجا تو انھیں جواب دیا کہ اپنا ایڈریس بتائیں وہ خود ملنے آئیں گے لیکن وہ نہیں آئے۔ پندرہ روز کے بعد ریڈیو پاکستان پر ایک ریکارڈنگ کے دوران ان کا آمنا سامنا ہو گیا۔ انھوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ گل نصیر سے وہ ملاقات کرنے گئے تھے جو ان کے دوست تھے نہ کہ گل وزیر۔
اس شکوہ شکایت کی رات ان کمرے کی دروازے پر دستک ہوئی انھوں نے باہر دیکھا تو ایک بزرگ شخص مسلح لوگوں کے ہمراہ موجود تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ’میں شیر محمد عرف جنرل شیروف مری ہوں، کل برطانیہ جا رہے ہیں جہاں سے فلسطین کے حریت پسند مسیحی رہنما (پاپولر فرنٹ کے سربراہ) جارج حباش سے ملنے جانا ہے جس سے جدوجہد کے لیے اسلحہ لینا ہے میں تم سے بلوچ قوم کی طرف سے معافی مانگنے آیا ہوں، گل خان اصل بلوچ نہیں بلکہ بروہی ہے۔‘
میں نے انھیں چائے کی پیشکش کی انھوں نے کہا کہ وہ چائے نہیں بیئر پیتے ہیں، وہ بھی نصف درجن۔ میں نے کہا کہ رات کے ساڑھے نو بجے ہیں ساری وائن کی دکانیں بند ہو چکی ہیں تو انھوں نے کہا کہ کسی کی مجال کہ جنرل شیروف کے کمانڈوز جائیں اور دکانیں نہ کھولیں۔ میں نے اپنے بیٹے انیس کو دو سو روپے دیے اور کہا کہ جاؤ اگر یہ کوئی وائن شاپ کھول سکیں تو نصف درجن بیئر کی بوتلیں لے آؤ۔
وہ بیئر لے آئے میں نے نہیں پی کیونکہ میں کھانا کھا چکا تھا، اس نے کہا کہ آپ کے یہاں سٹریٹ وار فیر آسان ہے، پہاڑی گوریلا جنگ مشکل ہے، پہاڑی علاقوں میں پناہ گاہوں کے لیے 20، 20 میل پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اس نے تین بوتلیں پیں باقی کمانڈوز کو اٹھانے کے لیے کہا اور اپنے ایک کمانڈو سے ایک چاقو لیا اور مجھ تحفے دیا۔

،تصویر کا ذریعہSheikh Ayaz facebook page
’سندھ کی آواز۔۔۔شیخ ایاز شیخ ایاز‘
ذوالفقار علی بھٹو جب چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے تو انھوں نے ممتاز بھٹو کو گورنر مقرر کیا جن کے احکامات پر شیخ ایاز کی رہائی رہائی عمل میں آئی۔
سندھ یونیورسٹی کے سندھی شبعے کے استاد ڈاکٹر اسحاق سمیجو کہتے ہیں کہ ’ایاز اپنے دور کا ایک ایسا باغ اور غیر روایتی شاعرانہ انقلابی کردار ہے جس نے اس وقت کے رائج تصورات کے محلوں میں دراڑیں ڈال دیں۔ اپنے دور کی ان خیالات، تصورات اور عقیدوں کو چیلنج کیا جو انسانی کی خوشی، ترقی اور آزادی کے دشمن تھے۔ ان کے ہاں انسان کی عظمت سب سے زیادہ قابل احترام تھی اسی لیے انھوں نے کسی مذہی، فلسفے، اور عقیدے کو انسانیت پر فوقیت نہیں دی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ لاتعداد روایت پرست حلقے ان پر ناراض ہوئے۔ ایاز پر بغاوت کے الزامات، مذہب اور ملک دشمنی کے الزامات اور مقدمات بنے اور اسیری کے دن دیکھے۔‘
سندھ کے نامور شاعر ادیب اور کالم نویس اعجاز منگی کہتے ہیں کہ شیخ ایاز کی شاعری نے سندھ کی قوم پرست، وطن دوست اور ترقی پسند شاعری میں بھرپور کردار ادا کیا۔ یہی سبب تھا کہ گذشتہ صدی کے ساتویں عشرے میں سندھ میں یہ نعرہ عام ہوا ’سندھ کی آواز۔۔۔شیخ ایاز شیخ ایاز۔‘ دراصل 70 کی دہائی میں قوم پرست اور ترقی پسند سیاست کا پرچم ادیبوں اور شاعروں کے ہاتھ میں تھا۔
بقول ان کے شیخ ایاز کی شاعری کے سیاسی کردار کا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان دنوں سے آج تک جئے سندھ تحریک کا ترانہ شیخ ایاز کی اس نظم کو بنایا گیا:
’سندھ دیس کی دھرتی تم پراپنا سر میں جھکاؤں
مٹی ماتھے لاؤں‘
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں شیخ ایاز کو سندھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا اور وہ اس منصب پر جنرل ضیا کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد بھی موجود رہے۔ ان کی اس تعیناتی پر قوم پرست حلقوں نے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور ان کے خلاف تحاریر سامنے آئیں۔
شیخ ایاز اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں ’جئے سندھ والے لڑکے اگر مجھے پریشان نہیں کرتے اور ان کے ماتحت اس سازش میں شریک نہیں ہوتے وہ یونیورسٹی کو بہتر بنا سکتے تھے۔‘ انھوں نے ہر کلاس میں جا کر ان کی ضروریات دریافت کیں اور وہ پوری کیں، ہر ڈین کی سفارش پر غیر ملکی جریدے منگوائے گئے۔ اتنے ادیبوں کو ملازمتیں دیں جتنی یونیورسٹی کے پورے دور میں نہیں دیں گئیں۔
انھوں نے سندھ یونیورسٹی کا ایک دلچسپ واقعہ بھی رقم کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ رات کو ایک بجے نوجوانوں کا ہجوم وی سی ہاؤس کے باہر جمع ہو گیا اور ’جئے سندھ جئے سندھ‘ کے نعرے لگانے لگے۔
’مجھے چوکیدار نے بتایا کہ کہ لڑکے گیٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اگر اجازت ہو تو دو تین فائر کریں۔ میں نے اس کو منع کیا اور اپنا ریوالور لوڈ کیا، اسے چادر میں نیچے کر کے گیٹ کی طرف گیا، لڑکوں نے مجھے کہا کہ کیا یہاں نیند کرنے آئے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے تم لوگ اس وقت کیوں آئے ہو؟‘
’لڑکوں نے جواب دیا کہ جی ایم سید کے پاس ایک سابق فوجی آیا اور بہانہ بنایا کہ وہ سید کے فکر سے متاثر ہو کر آیا ہے ہمیں شبہ ہوا اس کو پکڑ لیا تو اس سے ایک خنجر برآمد ہوا، میں نے پوچھا پھر تم لوگوں نے کیا کیا؟ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اس کو باندھ دیا اور اس کو ماراپیٹا تو اس نے کہا کہ شیخ ایاز نے مجھے جی ایم سی کو مارنے کےلیے بھیجا ہے۔‘
شیخ ایاز کے سندھی اوپرا
شیخ ایاز نے شاعری کے علاوہ پہلی بار سندھی زبان میں اوپرا لکھے جن میں ’دودو سومرو کی موت‘ ، ’رنی کوٹ کے ڈاکو‘ اور ’بھگت سنگھ‘ شامل ہیں۔ ناز سہتو ان اوپرا کو سٹیج کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ مزاحمت، وطن دوستی اور تاریخی اور سیاسی شعور کو مد نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے گذشتہ چالیس پچاس برسوں سے سٹیج نہیں ہوئے تھے صرف سنہ 1980 میں حیدر آباد میں ڈرامہ سٹیج کیا گیا تھا انھوں نے بعد میں تنیوں اوپرا پیش کیے۔
رنی کوٹ کے ڈاکو میں رنی کوٹ کے قریب سندھ نامی ایک گاؤں ہے، اس میں ڈاکو گھس آتے ہیں جس کی مقامی لوگ مزاحمت کرتے ہیں، یہ مارشل لا دور اور سندھ کی مزاحمت کی عکاسی کرتا ہے جس میں علامات کا سہارا لیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@ SAUS
شیخ ایاز اور اردو ادب
شیخ ایاز اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں پاکستان کے قیام کے بعد انھیں انجمن ترقی پسند منصفین کا نائب صدر مقرر کیا گیا وہ واحد سندھی تھی اور اس عہدے پر تقرر کی واحد یہ تھی کہ وہ ان کیی مصنفین سے کئی درجہ بہتر لکھ سکتے تھے جن کی اردو زبان تھی۔ اردو کے علاو نامور ادیب احمد سلیم نے شیخ ایاز کی شاعری کا پنجابی میں بھی ترجمہ کیا۔
اعجاز منگی کہتے ہیں کہ شیخ ایاز کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنی شاعری کی ابتدا اردو شاعری سے کی۔ ان کا سب سے پہلا مجموعہ کلام ’بوئے گل نالہ دل‘ اردو میں تھا۔ جب وہ میٹرک کے طالب علم تھے تب ان کو پورا ’دیوان غالب‘ برزباں یاد تھا۔ وہ فارسی پر بھی دسترس رکھتے تھے۔
’انھوں نے شاعری میں کبھی زباں کا تعصب نہیں برتا، نہ صرف شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کلام ’شاہ جو رسالو‘ کا اردو میں ترجمہ کیا بلکہ سچل سرمست اور سندھ کے ہندو صوفی شاعر ’سامی‘ کے بہت سارے اشعار کا بھی اردو میں ترجمہ کیا۔‘
یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ شیخ ایاز کو ان زندگی میں پاکستان کے ’قومی ادب‘ کے ٹھیکے داروں نے اہمیت نہ دی مگر وہ پھر بھی اردو میں لکھتے رہے ان کے آخری اردو مجموعوں کا نام ’نیل کنٹھ‘ اور ’نیم کے پتے‘ ہے۔
مذہب کی طرف رغبت
اشتراکیت کے حامی سیاسی مزاحمت کی علامت سمجھے جانے والے شیخ ایاز زندگی کے آخری ایام میں مذہب کی طرف راغب ہوئے۔ فیض احمد فیض اور جالب کی طرح انھوں نے بھی دعائیں لکھیں۔ اپنے مجموعے ’سانجھی سمنڈ سپوں‘ جو ان کی وفات سے ایک سال قبل شائع ہوا میں وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ہسپتال کے کمرے میں انسان، کائنات، انسانی اقدار اور تقدیر پر کافی سوچا اور اشتراکیت سے مایوس ہو کر میرا رجحان مذہب کی طرف لازمی تھا لیکن خدا کے تصور اور مستفرق رہنے کے باوجود مجھ میں کسی کے لیے نفرت نہیں ہے۔
شیخ ایاز کے مطابق ’دعاؤں کے کتاب سے ظاہر ہے کہ دعا لکھتے وقت میں نے پوری انسانی ذات کو ذہن میں رکھا ہے۔ میرے گیت کسی بھی رائٹ ونگ سے وابستگی نہیں رکھتے نہ میں نے ایسی کسی جماعت میں شمولیت کی ہے اور نہ ارادہ رکھتا ہوں۔ دراصل میں سیاست سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہو چکا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ شاعری کی سیاسی وابستگی خودکشی ثابت ہوتی ہے۔‘
نوجوان نسل پر چھاپ
شیخ ایاز نے سندھی زبان اور شاعری کو ڈکشن، امیجز، اسلوب، موضوعات، طرز تحریر اور ذہنی منظر کشی دی۔ وہ آج بھی سندھ کے نوجوانوں کے لیے ہمت افزائی کا وسیلہ ہیں۔
اعجاز منگی لکھتے ہیں سندھ کے نئے لکھنے والوں پر شاہ لطیف سے زیادہ شیخ ایاز کا اثر نمایاں نظر آتا ہے۔ اس بات کا اندازہ ایاز کو بھی تھا، اس لیے انھوں نے لکھا تھا کہ ’سندھ میں میرے بعد جو شاعری لکھی جائے گی وہ ایسی ہو گی جس طرح گنے کے فصل کو کاٹا جائے تو اس کی جڑوں سے ایک اور فصل ابھر آتی ہے۔‘









