اپر چترال میں 12 سال کی بچی کی 29 سالہ شخص سے شادی، والد کی شکایت پر ایف آئی آر درج

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان میں کم عمری کی شادی کے ایک اور واقعے میں اپر چترال کے ایک شخص نے اپنی تقریباً 12 سالہ بیٹی کے اغوا اور پھر زبردستی شادی کا الزام اپنے خاندان کے ایک فرد پر لگایا۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

اپر دیر میں بدھ کو 12 سالہ بچی کو سینئیر جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بچی کے والد اس مقدمے میں درخاست گزار ہیں اس لیے بچی کو ان کے ساتھ نہیں بھجوایا گیا بلکہ اس کے ماموں کو دے دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ دولہا، نکاح خواں اور گواہ پولیس کی حراست میں ہیں۔

پولیس کی جانب سے دولہا کا میڈیکل کروایا جائے گا اور پھر اسے عدالت میں سول مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا تا کہ اس کا بیان لیا جائے۔

اس نکاح میں گواہ بننے والے شخص کو جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چترال میں خواتین اور بچیوں کے لیے دارالامان کی سہولت موجود نہیں ہے اور ایسی کسی بھی ضرورت کے تحت ان کو یہاں سے کئ گھنٹے کی مسافت پر واقع دیر کے دارالامان بھجوایا جاتا ہے۔

مقدمے کی تفصیلات

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک قریباً بارہ سالہ بچی کی تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ بچی نے زرق برق کپڑے پہن رکھے ہیں اور اس کے ہمراہ موجود شخص کو اس کا شوہر بتایا گیا ہے۔

یہ تصویر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال کے سیاحتی مقام شندور کے قریب واقع گاؤں کی ہے جہاں کی پولیس نے اس 29 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔

علاقے کے ڈی پی او نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آج صبح بچی کے والد نے اس کے اغوا اور پھر زبردستی شادی کا الزام اپنے خاندان کے ایک فرد پر لگایا۔ پولیس کی جانب سے آج ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس کے بعد لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا اور لڑکی کی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈی پی او کا کہنا ہے کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی ہے اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’12 سال نو ماہ کی بچی ملزم کے ساتھ اپنی مرضی سے گئی تھی وہ ان کا رشتہ دار تھا۔ انھوں نے خوشی سے وہاں نکاح کر لیا تھا۔ ہمیں پتہ چلا چونکہ یہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت آتا ہے اس لیے ہم نے اس کے خلاف پرچہ کاٹا ہے۔ لڑکی بھی بازیاب کروا لی ہے اور لڑکے کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

تاہم وہ یہ بتانے سے قاصر تھے کہ اس بچی کو بازیاب کروانے کے بعد کس کے حوالے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں صبح گیارہ بجے تک بتایا جا سکتا ہے۔

علاقے کے ڈپٹی کمشنر شاہ سعود نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں گذشتہ شب اس حوالے سے مقامی صحافی اور مختلف افراد کی جانب سے رپورٹ موصول ہوئی جس کے بعد انھوں نے پولیس کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا۔

’پیر کی رات میری ڈی پی او سے بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ میں انفارمیشن جمع کر کے رپورٹ کرتا ہوں، صبح میں نے کہا چائلڈ پروٹیکشن کی کوئی سیکشن اپلائی ہوتا ہے تو کریں تو انھوں نے بتایا کہ ابھی ہمارے پاس کچھ نہیں ہے یہاں ہم نے وکیل سے بھی پوچھا ہے لیکن ان کے پاس تفصیلات نہیں ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ تعزیرات پاکستان پی پی سی کے تحت کی ایف آئی آر درج کر لیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایف آئی آر درج ہو گئی ہے اب دیکھتے ہیں آگے پوچھ گچھ ہو گی تو اس پر کام جاری رہے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کی اگر جائیداد یا لین دین کا معاملہ بھی ہو تو ایک دوسرے پر غلط الزامات لگا دیتے ہیں اس لیے پولیس کو معاملے کی چھان بین بھی کرنا ہوتی ہے۔‘

یہ علاقہ بونی میں واقع ڈی پی او کے مرکزی دفتر سے تین گھنٹے کی مسافت پر واقع علاقے میں پیش آیا ہے۔

ان کا کہنا ہے ان کی بیٹی کو اغوا کر کے بہلا پھسلا کر شادی کرنے والے ان کے قریبی رشتہ دار ہیں جن کا ان کے گھر آنا جانا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق دو تین روز پہلے ان کی بیٹی گھر سے غائب ہوئی تھیں۔

والد کی جانب سے بیٹی کو بہلا پھسلا کر اس کا نکاح کرنے کا مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نکاح پڑھوانے والے مولوی کو اور ایک گواہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر ابھی علاقے میں موجود نہیں جیسے ہی وہ واپس آئیں گے تو انھیں لڑکی کے گھر بھجوایا جائے گا اور معاملہ اب ایف آئی آر کے بعد کورٹ میں جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اپر چترال میں تو اس نوعیت کا پہلا واقعہ انھوں نے حالیہ عرصے میں دیکھا ہے تاہم لوئر چترال میں اس قسم کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔

لوئر چترال میں اس قسم کے کیسز ہوتے رہتے ہیں۔ ایون نامی علاقے میں لوگ زیادہ تر باہر کے لوگوں کو رشتے دیتے ہیں پنجاب سندھ اور دیگر علاقوں سے آتے ہیں اور لوگ انھیں اپنی بچیوں کے رشتے دیتے ہیں۔‘