آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مریم نواز: ’سینیٹ کا الیکشن ایک مہینہ پہلے کروائیں یا بعد میں، عمران خان اپنی حکومت کو نہیں بچا پائیں گے‘
مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز کا کہنا ہے کہ سینیٹ کا الیکشن ایک مہینہ پہلے کروائیں یا بعد میں، اس سے تحریکِ انصاف کی جاتی ہوئی حکومت کو دوام نہیں ملے گا اور عمران خان اپنی حکومت کو نہیں بچا پائیں گے۔
جاتی امرا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ کل پرسوں سے سینیٹ کے انتخاب سے متعلق جو اعلانات ہو رہے ہیں اور خوف کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جب کوئی نااہل، نالائق اور ناکام حکومت عوامی گھیرے میں آ جاتی ہے تو وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں پر اتر آ تی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب عوامی غصہ اور عوام کا قہر جاگ اٹھتا ہے تو اس قسم کے انتظامات کارگر ثابت نہیں ہوتے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں آپ کو پی ڈی ایم کی تحریک اور جلسوں سے فرق نہیں پڑ رہا تو اچانک ایسی کیا آفت آ پڑی ہے کہ آپ کو ایک مہینہ پہلے الیکشن کا اعلان کرنا پڑا جو پہلے پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔
'آپ کو اپنی پوری سٹریٹیجی تبدیل کرنا پڑی اور جن لوگوں کو 11 مارچ کے بعد حلف اٹھانا تھا انھیں پہلے منتخب کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی۔'
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو سمجھ آ گئی ہے کہ ان کے پاس اب دن تھوڑے ہیں لیکن آپ جو بھی ہتھکنڈے استعمال کرنا چاہیں، گھر تو آپ جانا پڑے گا اور جلدی جانا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آپ نے کس حیثیت سے سینیٹ کے انتخابات ایک مہینہ پہلے کروانے کا اعلان کیا‘
مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس طرح افواجِ پاکستان اور سکیورٹی اداروں کے ترجمان بن کر آپ ان کا نام اپنے بچاؤ کے لیے استعمال کرتے رہے اس سے ان اداروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
'آپ ایف آئی اے کے سربراہ بھی خود ہی بن بیٹھے اور بشیر میمن کو وزیرِاعظم آفس بلا کر آپ نے دھمکایا اور مخالفیں پر مقدمات بنانے کو کہا۔ اسی طرح آپ ایف بی آر کے چئیرمین بھی خود ہی بن جاتے ہیں اور خفیہ اداروں کا کام بھی خود ہی کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اب آپ الیکشن کمیشن کے چئیرمین بھی بن بیٹھے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے حوالے سے جس بھی شیڈول کا اعلان کرنا ہوتا ہے وہ آئینِ پاکستان کے تحت بنے ادارے، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کرنا ہوتا ہے اور کوئی وزیرِ اعظم یہ اعلانات نہیں کر سکتا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ نے کس حیثیت سے سینیٹ کے انتخابات ایک مہینہ پہلے کروانے کا اعلان کیا۔ کیا آپ نے آئینِ پاکستان کو نہیں دیکھا؟
'آپ نے اتنی بڑی فوج ظفر موج رکھی ہوئی ہے اتنے مشیران کی، کیا ان میں سے کسی نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ آئینِ پاکستان کی رو سے آپ خود یہ اعلانات نہیں کر سکتے؟ یا کیا آپ نے آئینِ پاکستان اور اداروں کا حلیہ بگاڑنے کا ٹھیکہ اپنے سر لے لیا ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'آپ کو انتخاب کا اپنا من پسند طریقہ اچانک یاد آ گیا ہے اور آپ اس کی سپریم کورٹ سے منظوری لے کر اسے متنازعہ کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے۔'
’شو آف ہینڈز کے خلاف نہیں ہیں‘
مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ شو آف ہینڈز کے خلاف نہیں ہیں لیکن اس کے پیچھے حکومت کا مقصد شفافیت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تھی تب آپ کو شو آف ہینڈز یاد کیوں نہیں آیا؟ اس وقت آپ نے اپوزیشن کو ناکام بنانے، ان کے اراکین کو توڑنے اور ان پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایجنسیوں اور ریاستی طاقت کا استعمال کیا اور ناصرف خفیہ رائے شماری کی حمایت کی بلکہ اس کا پورا پورا فائدہ اٹھایا۔
'مگر آج جب آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ آپ کمزور ہو چکے ہیں اور اپنی حکومت جاتی نظر آ رہی ہے، اپنی نالائقی اور نااہلی کے باعث آپ نے ملک کا جو حال کر دیا ہے آپ کے ایم پی ایز اور ایم این ایز اپے حلقوں میں جانے کے قابل نہیں رہے اور آپ کو ان پر اعتماد نہیں رہا تو آپ کو شو آف ہینڈز یاد آ گیا ہے۔'
مریم نوازکا کہنا تھا کہ شو آف ہینڈر کے لیے آپ کو آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور آپ اسے آرڈیننس کے ذریعے بلڈوز نہیں کر سکتے اور اگر آئینی ترمیم بھی کرنی ہے تو یہ پارلیمنٹ کا کام ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان صرف اس کی تشریح کر سکتی ہے لیکن وہ نیا قانون نہیں بنا سکتے اور نہ ہی قانون میں ترمیم کر سکتے ہیں۔ تو اب کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کام بھی آپ نے خود ہی سنبھال لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کیوں اپنے ذاتی مفاد کے لیے سپریم کورٹ کو متانازعہ بنا کر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اعلیٰ عدلیہ کو متنازعہ بنانے اور سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش ہے اور قوم کی نظریں اس پر لگی ہیں اور نہ ہم اس کی اجازت دیں گے نہ پاکستان کے عوام اسے قبول کریں گے۔
’الیکشن کمیشن کسی کا ذاتی ادارہ نہیں‘
مریم نواز نے الیکشن کیشن کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک آئینی ادارے کے سرابرہ ہیں اور ایک جعلی وزیرِ اعظم کی طرف سے آپ کی اتھارٹی کو مجروع کرنا ایک اچھی روایت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم کی نظرین الیکشن کمیشن پر لگی ہیں اور اگر وہ وزیرِاعظم کے جعلی احکامات کو مانتے ہیں تو قوم سمجھے گی کہ وہ معتصب ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کسی کا ذاتی ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک قومی اور آئینی ادارہ ہے جسے آئین کے تحت چلنا چاہیے اور انھیں کسی کے بھی غیر آئینی احکامات کو ماننے سے انکار کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا ہمیں وہ وقت یاد ہے جب عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر الیکشن کمیشن کو احکامات دیا کرتے تھے کہ آپ کسی کا ذاتی ادارہ نہیں ہیں اور آپ کو آئین پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ آج جب آپ کا وقت آیا تو آپ نے خود ہی الیکشن کمیشن کے چیئرمین بن کر خود ہی اعلانات کر دے۔
غیر ملکی فنڈنگ کیس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کے ناقابلِ تلافی ثبوت اور شواہد الیکشن کمیشن کے پاس آ چکے ہیں لیکن اسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ جعلی حکومت کس طرح ایک قومی ادارے پر دباؤ ڈلوا کر من پسند فیصلے لے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پہنچاننا ہو گا۔ کسی ایک پارٹی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے آپ استعمال نہیں ہو سکتے۔
ضمنی انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے استعفوں کے بعد آپ 500 سیٹوں پر بائی الیکشن نہیں کروا سکتے۔ ان کا کہنا تھا اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی دھمکیوں سے کوئی مرعوب ہو جائے گا یا ڈر جائے گا تو یہ کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے، آپ کو کیا لگتا ہے آپ الیکشن کا اعلان کریں گے تو کیا ہم چوڑیاں پہن کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے۔
'اگر آپ کا 30 فیصد ووٹ ہے تو پی ڈی ایم 70 فیصد ووٹ کی نمائندگی کرتی ہے، کیا آپ ہمارے بغیر الیکشن کرا لیں گے۔
’کتوں سے کھیلنا اور بات ہے، قومی اداروں سے کھیلنا بہت خطرناک ہے‘
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ ہو رہا تھا تو آپ کتوں کے ساتھ تصاویر جاری کروا رہے تھے، لیکن دراصل آپ کتوں کو نہیں بہلا رہے تھے، آپ اپنا خوف بہلا رہے تھے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ نفسیات کو سمجھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ ان تصاویر کے پیچھے آپ کا خوف جھلک رہا تھا اور کتوں سے کھیلنا اور بات ہے، قومی اداروں سے کھیلنا بہت خطرناک ہے اور اس کے نتائج آپ کو بھگتنا پڑیں گے اور اس کی قیمت آپ سے قوم وصول کرے گی۔