آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آمنہ مفتی کا کالم ’اڑیں گے پرزے‘: جلسہ اور بٹ کڑاہی
جلسے جلوسوں کا جمہوریت سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ اور بات کہ بعض اوقات یہ سمجھ نہیں آتی کہ ان میں سے چولی کون سی ہے اور دامن کون سا؟
چونکہ ہماری یہ جمہوریت بھی نو آبادیاتی آقاؤں کی دین ہے تو ان جلسے جلوسوں کو روکنے کے لیے حکومت جو اقدامات کرتی ہے وہ بھی بالکل نو آبادیاتی حکومتوں کی طرز پر ہی کیے جاتے ہیں، اس لیے اکثر بہت مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔
تیرہ کا ہندسہ بھی دنیا میں عموماً منحوس سمجھا جاتا ہے اور تیرہ تاریخ کو لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں ہونے والے جلسے سے جس طرح نمٹا جا رہا ہے اسے دیکھ کر ہنسی بھی آرہی ہے اور رونا بھی۔ آزادی کے اتنے برس بعد بھی ہم ان جلسے جلوسوں سے نمٹنے کی نئی حکمت عملی سامنے نہ لا سکے؟
ڈی جے بٹ کو گرفتار کیا گیا تو ان پر غیر قانونی اسلحے کا وہی کیس بنایا گیا جو نجانے کتنے سیاسی مخالفین کی بولتی بند کرنے کے لیے بنایا جاتا رہا ہے۔ جب کسی کے پاس سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہو جائے تو سمجھنے والے باقی کہانی خود ہی سمجھ جاتے ہیں۔
آمنہ مفتی کے مزید کالم
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارک میں پانی چھوڑنے کی بابت بھی سنا۔ اب یہ بھی کوئی نئی یا انوکھی حکمت عملی نہ تھی۔ یوں بھی بادل ویسے ہی گھرے کھڑے ہیں اگر قسمت مہربان رہی تو آپ کے پانی چھوڑے بغیر ہی جل تھل ہو سکتا ہے۔
یہاں تک تو ہم مان گئے کہ حکومت روایتی انتظامی ہتھکنڈوں سے جلسے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن جب ’بٹ کڑاہی‘ لکشمی چوک والوں پر مقدمہ بننے کی خبر آئی تو روکتے روکتے بھی ’ہاسا‘ ہی نکل گیا۔
جس طرح مشہور ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا سمجھو کہ وہ پیدا ہی نہ ہوا۔ اسی طرح اگر کسی نے لاہور میں رہتے ہوئے ’بٹ کڑاہی‘ نہیں کھائی ہو گی تو وہ بھی لاہوریا نہیں ہو سکتا۔ یقینا، ’بٹ کڑاہی‘ والوں پر مقدمہ بننے کی وجوہات کچھ اور رہی ہوں گی اور وہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گی لیکن ایک دفعہ تو سب کو پھر سے جی بھر کے ہنسنے کا موقع مل گیا۔
تیرہ تاریخ کا یہ جلسہ یقینا یادگار ہو گا۔ اسی گریٹر اقبال پارک سے ہم نے کئی بار انقلاب کے قدموں کی چاپ سنی اور ہمارے ہاں انقلاب بھی ایک پارٹی کی حکومت سے دوسری پارٹی کی حکومت کے تبدیل ہونے کو کہا جاتا ہے تو ممکن ہے اب کی بار بھی کوئی ’انقلاب‘ ہی آ رہا ہو۔
ویسے عوام کی اکثریت کو یقین ہے کہ حکومت اتنی جلد جانے والی نہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک صفحے پر ہیں اور صفحہ نہ صرف بہت دبیز ہے بلکہ خاص ریشوں سے بنا ہے۔
لگتا ہمیں بھی یہی ہے لیکن حکومت کی بوکھلاہٹ کسی اور طرف اشارے کر رہی ہے۔ ہونے کو یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور نہ ہونے کو کچھ بھی نہیں۔ صرف دعا یہ ہے کہ وہ نہ ہو، جو مجھ جیسے کئی قنوطیت پسند سوچ رہے ہیں۔
اس جلسے کے دوران کورونا کے ایس او پیز پر عمل کروانا چاہیے اور حکومت کو اپوزیشن کے رہنماؤں کو خصوصی سیکیورٹی فراہم کرنی چاہیے۔ جمہوریت کا یہ پہیہ جیسے تیسے چل رہا ہے، چلتے رہنا چاہیے۔
جلسے جلوسوں سے حکومتیں کم ہی جاتی ہیں لیکن انتظامیہ کی دوڑیں لگی رہتی ہیں۔ عوام کا دل بھی لگا رہتا ہے اور حکومت مسلسل دباؤ میں رہتی ہے۔ ن لیگ کی حکومت کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے جو رونق لگائے رکھی تھی وہ کسے یاد نہیں۔
مگر یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ اس وقت اپوزیشن کو جس قدر آزادی حاصل تھی کیا آج کی اپوزیشن بھی اسی قدر آزاد ہے؟ کھیل کے اصول سب کے لیے ایک سے رہیں تو مزہ آتا ہے۔ یہ بات کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو تو یاد رہتی ہے مگر امپائر کو بھی یاد رہے تو کیا ہی بات ہے۔
ملتان کے جلسے میں آصفہ بھٹو کو پہلی بار بولتے سنا۔ اس جلسے میں بلاول اور مریم نواز اہم مقرر ہوں گے۔ لاہور ن لیگ کا گڑھ ہے۔ پیپلز پارٹی بظاہر پنجاب میں مقبولیت کھو چکی ہے لیکن اگر اس جلسے میں بلاول لاہوریوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے۔
لاہوریے جہاں اچھے کھانوں کے شوقین ہیں وہیں ان کا سیاسی شعور بھی کم نہیں اور اچھی تقریر سننے کا ذوق بھی انھیں دیگر شوقوں کے ساتھ ورثے میں ملا ہے۔ بھٹو کی تقریر آگ لگا دیا کرتی تھی۔ بلاول بھٹو صاحب بھی اگر یہ فن سیکھ لیں تو لاہوریوں کا دل جیتنا چنداں مشکل نہیں۔
مریم نواز کا یہ ہوم گراؤنڈ ہے اور خاص کر حلقہ 120۔ ہوم گراؤنڈ میں جہاں بہت آسانی ہوتی ہے وہیں ایک مشکل بھی ہوتی ہے۔ عوام کو اپنی محبت اور اعتماد کا جواب چاہیے ہوتا ہے۔ ایک ذرا سی بات عوام کا دل بدل سکتی ہے۔
جلسہ، حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ دیکھتے ہیں کہ جلسے کے بعد کس کے دامن میں کیا بچتا ہے؟ کئی بار یہ اجتماع تاریخ کے دھارے بھی موڑ دیتے ہیں اور دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ سیاست کے اس اکھاڑے میں جاری اس دنگل میں کس کا دامن سلامت رہتا ہے اور کس کا گریبان۔