ارطغرل کے ہیرو اینگن التن کی پاکستان آمد، کسی کو بے حد خوشی تو کسی کو خبر ہی نہ ہوئی

اینگن التن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننگین التن کے دورہ پاکستان کی اطلاع انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے نے دی

جب سے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی قوم کو ترک ڈرامہ دریلیس ارطغرل دیکھنے کا مشورہ دیا، تب سے اس ڈرامے کی مقبولیت میں ایسا اضافہ ہوا کہ اب یہ ممکنہ طور پر ترکی سے زیادہ مشہور پاکستان میں ہے۔

پاکستان میں اس ڈرامے کے اداکاروں اسرا بلگِچ اور اینگن التن کے نہ صرف انٹرویوز کیے گئے بلکہ مشہور برانڈز نے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے انھیں اپنے ساتھ شامل کیا۔

اور معلوم نہیں کہ لوگوں نے بعد میں یہ مصنوعات خریدی ہوں یا نہیں، لیکن ان تشہیری مہمات کی یوٹیوب ویڈیوز پر دیکھنے والوں کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں یہ اداکار کس قدر مقبول ہیں۔

گذشتہ روز ارطغرل کے مرکزی کردار اینگن التن پاکستان کے شہر لاہور کے ایک روزہ دورے پر آئے جہاں انھوں نے بادشاہی مسجد کا دورہ کیا، علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی، اور ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔

انگین التن کے دورہ پاکستان کی اطلاع انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے نے دی۔ سفارت خانے نے انگین کی ان کے لاہور میں میزبانوں کے ساتھ تصاویر شائع کیں۔

ارطغرل، پاکستان، ترکی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PakTurkey

اور اُن کے اسی دورے پر سوشل میڈیا پر جہاں ان کے شائقین بھرپور خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیے تو وہیں کچھ لوگ تو یہ بھی پوچھ بیٹھے کہ یہ آخر پاکستان آئے کب؟

ارطغرل، پاکستان، ترکی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@prime_creation_

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ہونے والی گفتگو اور میمز کا تبادلہ کل سارا دن جاری رہا اور اب تک اس حوالے سے لوگ تبصرے کر رہے ہیں۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران اینگن التن نے ایک صحافی کے سوال پر کہا کہ انھیں زیادہ اردو تو نہیں آتی تاہم 'لہور لہور اے'۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اور آپ جانتے ہی ہیں کہ پاکستان میں لاہور اور کراچی کے درمیان کھانوں سے لے کر اپنی ثقافت اور اپنے شہروں کے سائز تک پر ایک دوسرے کو طعنوں کا نشانہ بنانا کوئی نئی بات نہیں۔

ایک صارف شاہزیب انور نے اینگن التن کے اس فقرے کا حوالے دیتے ہوئے 'کراچی والوں' کو مخاطب کیا اور کہا، 'ہاں تو کراچی والو، کیسے ہو اب؟ اب تو ارطغرل نے بھی لاہور کی تعریف کر دی۔'

اس پر صارف وسیم خان نے شاہزیب کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ارطغرل ہمیشہ مظلوم کے ساتھ ہوتا ہے۔

ارطغرل، پاکستان، ترکی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShahzebSayss

صارف نوشین صدیقی نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان ہونے والے پی ایس ایل فائیو کے فائنل سے کڑی ملاتے ہوئے کہا کہ لاہور والے اسی بات پر خوش ہو جائیں، 'ہم کراچی والے ٹرافی سے کم میں خوش نہیں ہوتے۔'

ارطغرل، پاکستان، ترکی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@BehenHazirHy

ایک صارف نے کراچی کے مقابلے میں لاہور کے کہیں چھوٹے رقبے پر تنقید کرتے ہوئے بالی وڈ فلم منا بھائی ایم بی بی ایس کے ایک منظر کا حوالہ دیا۔

فلم کے اس سین میں منا بھائی اور سرکٹ ہاسٹل کے کمرے میں پہلی بار داخل ہوتے ہیں تو اس کا سائز دیکھ کر سرکٹ کہتا ہے کہ ’بھائی یہ تو شروع ہوتے ہی ختم ہوگیا۔‘

ارطغرل، پاکستان، ترکی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Kizzie98094783

اینگن التن سے اس پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں کام کریں گے تو اس پر انھوں نے کہا کہ اگر کہانی اچھی ہو تو وہ ضرور کام کریں گے۔

بس اُن کے اس بیان پر چند ناقدین نے پاکستانی ڈرامہ صنعت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف فیضان نے لکھا کہ ’پاکستانی ڈراموں میں ارطغرل ایک بہنوئی ہوں گے، اور ان کی سالی کو ان سے محبت ہو جائے گی، پھر طلاق کے بعد وہ اپنی سالی سے شادی کر لیں گے اور اگلا ڈرامہ اس سے بھی بیکار ہوگا۔ ‘

واضح رہے کہ پاکستان کے مرکزی دھارے کے ٹی وی ڈراموں میں خاندانی سیاست، رشتوں کے تنازعات اور گھریلو معاملات کو ہی زیادہ تر موضوع بنایا جاتا ہے۔

مگر بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جنھیں اُن کے اس دورے سے قبل یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اینگن التن پاکستان آ رہے ہیں۔

ارطغرل، پاکستان، ترکی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NoorFayaz2

ایک صارف نے تو یہ تک سوال کر ڈالا کہ کیا ارطغرل پاکستان آئے تھے؟

ایک صارف فائقہ بنگش نے شکوہ کرتے ہوئے لکھا کہ انھیں عوام کے لیے آنا چاہیے تھا نہ کہ چند مخصوص لوگوں کے لیے۔

ارطغرل، پاکستان، ترکی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@faiqa_tweets

ایک خاتون نے فیس بک پر خواتین کے ایک گروپ میں اداکار کی پاکستان میں نیوز کانفرنس کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ان کے لیے اپنی پسندیدگی اور لگاؤ کا اظہار کیا تو کچھ دیگر خواتین کا اس پر ردعمل بھی کچھ ایسے ہی جذبات لیے ہوئے تھا۔

ایک خاتون ہنی خان نے کمنٹ کیا ’اگر یہ ملے تو تھوڑا سا ڈی جی خان بھی بھجوا دینا۔‘

لیکن وہیں بیشتر خواتین ایسی بھی تھی جو پوچھ رہی تھیں کہ یہ صاحب ہیں کون؟؟

جہاں ابھی تک اس ڈرامے کو نہ دیکھنے والی کچھ خواتین نے اس سوال پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس شخص کو نہ پہچاننے والی وہ تنہا نہیں وہیں کئی خواتین کے لیے یہ سوال کسی صدمے سے کم نہیں تھا۔