ایئر سیال کا افتتاح: 'اس پراجیکٹ کے پیچھے وہ لوگ موجود ہیں جن کے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہے‘

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

'ہم نے ایئر پورٹ تو بنا لیا جس کے بعد یہ سوچا کہ پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک فضائی کمپنی بھی ہونی چاہیے۔'

یہ کہنا تھا پاکستان کی نئی فضائی کمپنی ایئر سیال کے چئیرمین فضل جیلانی کا جس کا آج وزیر اعظم عمران خان نے سیالکوٹ میں افتتاح کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فضل جیلانی نے کہا کہ ابھی حال میں 'چند پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کو جعلی لائسنس سکینڈل کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا، ہمارے پاس اچھا موقع تھا کہ ہم انھیں اپنے پاس رکھیں کیونکہ وہ قابل لوگ ہیں۔'

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے شعبہ مارکیٹنگ کے سابق سنیئر اہلکار ارشاد غنی کا کہنا تھا جہاں تک ایئر سیال میں ان پائلیٹس کو جنھیں حکومت کی جانب سے غلط اعلانات اور رپورٹس کی بنا پر دیگر فضائی کپمنیوں سے نکال دیا گیا تھا ملازمت پر رکھنے کی بات ہے تو یہ اچھا اقدام ہے کیونکہ ان میں بڑی تعداد میں پائلیٹس کے لائسنسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم پاکستانیوں کو بہتر سروس دیں جس کے لیے فلائٹ میں کھانے کا معیار، سفر کرنے والے مسافروں کی حفاظت اور دیگر سروسز کو بہتری انداز میں دینے پر ہم سب سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔

فضل جیلانی نے بتایا کہ پاکستانی ڈیزائنر نومی انصاری نے کیبن کریو کے کپڑے ڈیزائن کیے ہیں۔

ایئر سیال کے چیف آپریٹنگ آفیسر طارق امین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے میں چار ارب کا سرمایہ لگایا گیا ہے اور اس کی مدد سے 700 سے زیادہ لوگوں کو نوکریاں ملی ہیں۔

ائیر سیال کہاں کہاں سفر کرے گی اور ان کے پاس کتنے طیارے ہیں؟

ایئر سیال کے چیف آپریٹنگ آفیسر طارق امین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے پاس ایئر بس کمپنی کے دوA320 طیارے ہیں اور تیسرا طیارہ بھی جمعہ کو ان کے بیڑے میں شامل ہو جائے گا۔

ایئر سیال کے مطابق ان کے جہاز کراچی، لاہور، پشاور، سیالکوٹ کا سفر کریں گے جس میں لاہور اور اسلام آباد کے مابین تین فلائٹس روزانہ جبکہ سیالکوٹ اور پشاور کے مابین ہفتے میں تین فلائٹس ہوں گی۔

انھوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں سیالکوٹ کے 200 کاروباری افراد نے سرمایہ لگایا ہے۔

طارق امین کا مزید کہنا تھا کہ ان طیاروں کو ڈبلن کی ایک کمپنی سے لیز پر حاصل کیا گیا ہے اور ان میں سے ایک طیارے کی عمر 16 اور دو کی عمر 12 برس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن کے قوانین کے مطابق ایئر سیال کو کم از کم ایک سال صرف اندرون ملک پروازیں چلانے کی اجازت ہوگی اور ماہرین نے ان کو بتایا ہے کہ ایک سال تک تین جہازوں کے ساتھ ان کی مقامی پروازوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ایئر سیال کو 2017 میں ایوی ایشن ڈویژن کے ذریعہ آپریشن چلانے کی اجازت مل گئی تھی۔

'اس پراجیکٹ کے پیچھے وہ لوگ موجود ہیں جن کے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہے'

پاکستان کی قومی ایئر لائنز کے شعبہ مارکیٹنگ سے ماضی میں منسلک ارشاد غنی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایئر سیال سے بھی وابستہ رہے ہیں اور انھوں نے 2016 میں اس کی فزیبیلٹی بنا کردی تھی۔

'میں بہت خوش ہوں کہ آج یہ پراجیکٹ شروع ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان میں جتنی بھی ایئر لائنز بند ہوئی ہیں ان کے پاس پیسوں کی کمی تھی جس کی وجہ سے وہ کبھی کسی کے پیسے روکتے تھے اور کھبی کسی کے۔ ایئرسیال کے معاملے پر مجھے لگتا ہے ایسا نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس پراجیکٹ کے پیچھے وہ لوگ موجود ہیں جن کے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہے۔'

ایئر سیال کے مستقبل میں کامیابی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں جب یہ ایئر لائن بیرون ملک اپنا آپریشن شروع کریں گے تو یہ یورپ کا رخ اختیار نہیں کریں گے اور پہلے خلیجی ممالک اور سعودی عرب کی طرف پروازیں چلائیں گے۔

ارشاد غنی نے امید ظاہر کی کہ یہ ایئر لائن منافع کمائے گی تاہم انھوں نے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ ایئر سیال میں سرمایہ کاری کرنے والا ہر شخص ہی ڈائریکٹر ہے۔

’پہلے بھی سیالکوٹ ائیرپورٹ منصوبے میں مداخلت بہت زیادہ تھی اور میری اطلاعات کے مطابق ائیرپورٹ پراجیکٹ میں تین سو سے زائد ڈائریکٹر ہیں اور ہر شخص ہی وہاں افسر ہے۔ اگر اسی طرح کی مداخلت سیال ائیر لائن میں بھی کی گئی تو یہ مسائل کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے کم سے کم مداخلت کے ساتھ پروفیشنل انداز میں اسے چلایا جائے تو امید ہے کہ یہ کامیاب ہو گی۔‘

ائیر سیال کا وزیر اعظم کے ہاتھوں افتتاح

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ کے چیمبر آف کامرس کی مشترکہ کاوشوں سے قائم کیے جانے والے فضائی کمپنی'ایئرسیال' کا افتتاح کردیا۔

سیالکوٹ میں ایک روزہ دورے پر آئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس دورے میں ان کا اصل مقصد سیالکوٹ کی کاروباری برادری سے ملاقات کرنا تھا اور ایئر سیال کے آغاز کو پاکستان کے مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ایئرلائن سے سیالکوٹ سمیت پاکستان کا ہر طرح سے فائدہ ہے۔

سیالکوٹ شہر کے فضائی اڈے کی بھی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے امید کا اظہار کیا کہ جتنے احسن طریقے سے ایئرپورٹ کو چلایا گیا ہے اسی طرح ایئر لائنز کو بھی چلایا جائے گا۔