پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک: کیا اپوزیشن کے استعفے حکومت کو کوئی نقصان پہنچا پائیں گے؟

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی

منگل کی شب جب پاکستان میں حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک فرنٹ (پی ڈی ایم) نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کی تو اتحاد کے سربراہ جمعیت علما اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا گیا کہ ’آپ تو استعفیٰ لینے آئے تھے، اب استعفے دے کر جا رہے ہیں؟‘ تو وہ کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دے پائے۔

پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ اتحاد نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی نشستوں سے مستعفی ہونے کا اعلان تو کیا ہے جس کے بعد اب ہر جانب سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ آیا اس فیصلے پر عمل ہو گا بھی یا نہیں؟

اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا استعفے دینے سے حکومت کو وہ نقصان پہنچے گا بھی جس کا اپوزیشن کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان استعفوں سے حکومت کے لیے اتنا بڑا بحران پیدا ہو پائے گا کہ سسٹم پوری طرح رک جائے؟ اور ایسا ہونے پر کیا کیا جائے گا؟

اس سوال کا جواب لینے کے لیے بی بی سی نے جہاں دیگر سیاسی تجزیہ نگاروں سے بات کی، وہیں منگل کو ہونے والے اجلاس میں شامل سیاسی رہنماؤں سے بھی جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس فیصلے کے نتائج کیا نکلتے نظر آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’حکومتی سسٹم بیٹھ جائے گا‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اُن کے استعفوں سے تمام تر حکومتی سسٹم بیٹھ جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کہا جا رہا ہے کہ جمہوری عمل رک جائے گا۔ یہ کیسا جمہوری عمل ہے کہ صحافتی آزادی میں خلل پیدا کر دیا جائے، سپریم کورٹ کے جج کو مثال بنا کر باقی عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ بحران سے بچنے کے لیے انتخابات پہلے کروا لے۔‘

جہاں تک پاکستان پیپلز پارٹی کی بات ہے تو پی ڈی ایم کے منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں پہلے ان کا مؤقف یہی رہا کہ استعفیٰ آخری حربہ ہوگا۔ لیکن بعد میں جماعت کی طرف سے پی ڈی ایم کے مشترکہ فیصلے کی حمایت میں پی پی پی نے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس سندھ میں صوبائی حکومت ہے جس پر وہ بلا شرکت غیرے حکومت کر رہی ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ انتخابات سے تین سال پہلے ایسا قدم اٹھانا اور اپنے سیاسی آپشن ختم کرنا ایسی جماعت کے لیے جو ایک صوبے میں حکومت میں ہے، بہت مشکل ہو گا۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کا معاملہ اس لیے بھی مختلف ہے کیونکہ مارچ 2021 میں جب سینیٹ کے الیکشن ہوں گے اور باقی تمام اپوزیشن جماعتیں سینیٹ میں اپنی نشستیں ہار جائیں گی تو اس دوران پیپلز پارٹی وہ جماعت ہو گی جس کی نشستوں کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک آدھ سیٹ کا اضافہ ہو جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اور ان کی نشستیں برابر ہوں۔ تو اگر پیپلز پارٹی صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیتی ہے، تو اس کو دوسری جماعتوں سے زیادہ نقصان ہو گا۔‘

تو کیا پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی حکومت چھوڑنے کے لیے تیار ہے؟

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ’اگر نوبت یہاں تک آئے گی تو کیوں نہیں۔‘

استعفوں کی اچھی مثالیں موجود نہیں

اگر ماضی کو دیکھا جائے تو اس دوران سیاسی جماعتوں نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کی دھمکیاں تو دیں مگر اس پر عملدرآمد کے حوالے سے نتائج منقسم رہے۔ اور دیکھنے میں آیا کہ اس عمل کو زیادہ کامیابی نہیں ملی۔

سنہ 2007 میں پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے صدر بننے کے لیے دوبارہ الیکشن کروائے تو اس موقع پر سیاسی جماعتوں نے یکجا ہو کر آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کے تحت یکجا ہو کر استعفے دینے کا اعلان کیا۔

لیکن احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ’اِن ہی مشترکہ جماعتوں میں سے ایک پاکستان پیپلز پارٹی پیچھے ہٹ گئی کیونکہ ان کی جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل ہو گئی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’باقی جماعتوں نے استعفیٰ دے دیا لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی کے پیچھے ہٹ جانے اور اسمبلی میں موجود ہونے کے بعد مشرف کے انتخابات کی ساکھ اور مضبوط ہو گئی، جو نہ ہو پاتی اگر تمام سیاسی جماعتیں ایک ساتھ استعفیٰ دے دیتیں۔‘

اس دوران متحدہ مجلسِ عمل کے اندر بھی پھوٹ پڑ گئی اور وہ بعد میں علیحدہ ہو گئی۔ ایم ایم اے سے منسلک جماعت جمعیت علما اسلام کی خیبر پختونخواہ میں حکومت تھی اور انھوں نے استعفے دینے سے انکار کر دیا تاکہ ان کی حکومت قائم رہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایسی صورتحال کا فائدہ حکومت کو ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سب جماعتیں ایک ساتھ استعفے نہ دیں اور باز رہیں۔‘

احمد بلال محبوب سنہ 2014 کی مثال دیتے ہیں جب پاکستان تحریکِ انصاف نے اسمبلی سے استعفے دیے لیکن وہ منظور نہیں ہوئے۔ ’بعد میں انھوں نے اپنے استعفے واپس لے لیے اور اس دوران تکنیکی بنیادوں کو وجہ قرار دے کر انھوں نے الاؤنس بھی وصول کر لیے۔ یہ استعفی دینے کی کوئی اچھی مثال نہیں ہے۔‘

استعفوں کی دھمکی سے حکومت کو نقصان پہنچتا ہے اور اس طرح بین الاقوامی حلقوں میں حکومت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

حکومت اور ریاست کا گٹھ جوڑ

تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’اس وقت تمام تر لڑائی اس بات پر ہے کہ حکومت اور فوج طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ اپوزیشن ریاست اور حکومت کے درمیان اس گٹھ جوڑ کو توڑنا چاہتی ہے۔ اب ریاست یا تو غیر جانبدار ہو جائے یا پھر ان کے ساتھ ہو جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ استعفے دینے سے پارلیمان اور حکومت کا کام رُک جاتا ہے۔ ’جب یہ استعفے دیں گے تو اس سے جمہوری عمل رُک جائے گا۔ جب پارلیمان میں آدھے حصے کی نمائندگی ہی نہیں ہو گی تو یہ ایک قومی بحران بن جائے گا۔ لیکن پوچھنے والا سوال بھی یہی ہے کہ کیا یہ اتنا بڑی زک پہنچا سکیں گے؟‘

منگل کے روز پی ڈی ایم کا اجلاس ختم ہونے سے کچھ گھنٹے پہلے وزیرِ اعظم عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے استعفے دیے تو وہ فوراً خالی نشستوں پر انتخابات کروا دیں گے۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ ’یہ خاصا مشکل ہو گا۔ اگر استعفوں کے ذریعے اپوزیشن اتنا بڑا بحران پیدا نہیں کر پاتی تو ایسی صورتحال میں وہ باہر نکل جائے گی۔ حکومت کے پاس انتخابات کی طرف جانے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں رہے گا۔ ضمنی انتخابات اس کا حل نہیں ہیں۔ ضمنی انتخابات اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہو سکتے۔ پھر صرف عام انتخابات ہی ہو سکیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لانگ مارچ سے پہلے حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کے امکان ہیں، تو اس کا انتظار کرنا چاہیے۔‘

فوج بطور تیسرے فریق مداخلت کرسکتی ہے

جہاں تک پاکستان کی فوج کی بات ہے تو سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’جب تک لانگ مارچ کا اعلان نہیں ہو جاتا وہ اس وقت تک تو پسِ منظر میں رہ سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فوج کا کردار دو طریقے سے عمل میں آ سکتا ہے۔ یا تو فوج کو مذاکرات کا حصہ بنایا جائے گا یا ان کو تیسرے فریق کی حیثیت سے مداخلت کرنی پڑے گی کہ مذاکرات کیے جائیں۔‘

پاکستان میں سنہ 1977 میں اپوزیشن جماعتوں پر مبنی پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) نے قومی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کو غیر منصفانہ اور جعلی ہونے کا الزام لگا کر رد کر دیا تھا۔

ان جماعتوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے استعفیٰ طلب کیا اور جب انھوں نے نئے انتخابات کروانے کی حامی بھری تو وہ ان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔

مگر اس شورش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کا فائدہ اٹھا کر اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کر کے مارشل لا لگا دیا تھا۔

سنہ 2014 میں پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف نے ملک میں جاری پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنے ختم کرنے کے لیے بات چیت کرنے اور دونوں فریقین کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکی۔

اکتوبر میں سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے پی ڈی ایم کے جلسے کے دوران براہِ راست پاکستانی فوج کے سربراہ پر ان کی حکومت کو گرانے اور سنہ 2018 کے انتخابات میں عمران خان کو کامیاب کروانے کا الزام عائد کیا تھا۔

انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ فوج کے کہنے پر عدلیہ ان کے خلاف مقدمات چلا رہی ہے۔

اس کے بارے میں مصنف شجاع نواز نے کہا کہ ’فوج بھی ان تمام تر معاملات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مصر کی طرح کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جائے جس کے تحت فوج کو زیادہ جگہ ملے، جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

اسی دوران سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان بات چیت کا بھی عندیہ دیا جا رہا ہے جس کی تصدیق خود وزیرِ اعظم عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کی۔

انھوں نے کہا کہ کرپشن کے مقدمات سے ہٹ کر وہ دیگر معاملات پر سیاسی جماعتوں سے بات کر سکتے ہیں۔

اپنی بات ختم کرتے ہوئے احمد بلال محبوب نے کہا کہ ’اگر حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی معاملات طے پا جاتے ہیں تو پھر شاید پیپلز پارٹی استعفی نہ دے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون پہلے پلک جھپکتا ہے۔ کیا حکومت اس دباؤ کے نتیجے میں ان کی کچھ باتیں مان لیتی ہے یا اس کے نتیجے میں جماعتیں واقع استعفی دے دیتی ہیں۔ اور حکومت کے خلاف تحریک کا بھرپور آغاز کر دیتی ہیں؟ یہ دیکھنا پڑے گا۔‘