آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیاسی جلسوں میں خواتین کے ساتھ ہراسانی: عوامی اجتماعات میں ہراسانی کے واقعات پر خواتین خاموشی کیوں اختیار کر لیتی ہیں؟
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
’مریم نواز کی لاہور کی ریلی میں مردوں کے ہجوم نے مجھے اور ہماری ایک خاتون کارکن کو گھیر لیا تھا جس کی وجہ وہ خاصی خوفزدہ ہو گئی تھی۔ جب میں انھیں وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی تو کیمرہ مین نے ہماری مدد کرنے کے بجائے ہماری ویڈیو بنانے کو ترجیح دی۔‘
یہ کہنا ہے مسلم لیگ ن کی رہنما مائزہ حمید کا جن کی ایک ویڈیو حال ہی میں نجی چینلز پر چلائی گئی جس میں اس واقعے کو رونما ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مائزہ کہتی ہیں کہ انھیں سیاست میں کئی سال ہو گئے ہیں اور انھوں نے بہت سے جلسوں اور ریلیوں میں شرکت کی ہے لیکن کبھی ایسا واقع پیش نہیں آیا ہے۔
تاہم ایسے واقعات جب بھی رونما ہوتے ہیں انھیں میڈیا سنسی خیز خبر بنا کر چلاتا ہے اور سیاسی جماعتیں انھیں سیایت کا رنگ دے دیتی ہیں۔ بیشتر افراد ایسے معاملات کو ہراساں کیے جانے کے زمرے میں نہیں لیتے ہیں
عوامی اجتماعات میں ہراسانی کے واقعات اور خواتین کی خاموشی
یہ عوامی اجتماعات، جلسوں، جلوسوں یا ریلیوں میں پیش آنے والا پہلا واقع نہیں ہے۔ اس سے قبل پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں اور ریلیوں میں خواتین کے ساتھ ہراسانی کے واقعات کی ویڈیوز منظر عام پر بھی آئیں اور ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ روز جب پی ڈی ایم کے جلسے کی دعوت دینے کے لیے مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز لاہور کی ریلی میں ایک مقام سے گزریں تو ان کی کمر پر ایک شخص نے ہاتھ لگایا جس کے ردعمل میں مریم نواز کے کے گارڈز اور کارکنوں کی جانب سے اس شخص پر تھپڑ برسائے گئے۔
یہی نہیں کچھ دن پہلے مسلم لیگ ن کی ہی رہنما مریم اورنگزیب سے ایک ورکر نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کی فرمائش کی۔ انھوں نے اجازت تو دے دی مگر اس دوران اس شخص نے مریم اورنگزیب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تصویر بنوانے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے اسے روک کر پیچھے کر دیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس عمل کو بھی ہراسانی سمجھا جائے گا یا نہیں؟ ماہرین قانون کے مطابق ہراسانی کی محتلف اقسام ہیں جس میں کسی کو گھورنا، آوازیں کسنا، ہاتھ لگانا، خاتون کی توہین، جنسی طور پر ہراساں کرنا شامل ہیں۔
ماہر قانون اسد جمال کہتے ہیں کہ جب کسی خاتون کی جانب سے ہاتھ لگانے، گھورنے یا توہین جیسی ہراسانی سے متعلق رپورٹ درج کرواتی ہے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا عمل جان بوجھ کر کیا گیا ہے یا غلطی تھی جبکہ بیشتر خواتین ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے سے گریز کرتی ہیں اور خاموش ہو جاتی ہیں۔
مریم اورنگزیب کے ساتھ کارکن کی تصویر بنوانے اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کرنے والے واقعے پر پی ٹی آئی کی ایم پی اے سعدیہ سہیل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال کہ کیا اس نے نادانی میں ہوا یا کسی ارادے کے ساتھ اس ورکر نے حرکت کی، میں اسے ہراسانی ہی کہوں گی۔
جہاں تک رہی بات جلسوں اور ریلیوں میں خواتین کو ہراساں کرنے کی تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسے واقعات بڑی تعداد میں رونما ہوتے ہیں۔
لیکن یہاں ہم اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں کہ جہاں ہزاروں کا مجمع ہوتا وہاں حادثاتی طور پر ہاتھ لگ جانا بھی ممکن ہوتا ہے۔
اس بارے میں پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی چند خواتین کارکنان سے ہم نے اس کے تجربے اور رائے کی بارے میں پوچھا جس کے جواب میں سب کا یہ ماننا تھا کہ عوامی اجتماعات میں ایسے واقعات لازمی ہوتے ہیں لیکن خواتین خاموش رہتی ہیں۔
ایک سیاسی کارکن کا کہنا تھا کہ سیاسی جلسوں میں جتنے بھی انتطامات کر لیے جائیں، مرد کارکنوں کی جانب سے خواتین کارکنوں کی ہراسانی ہوتی ہے۔
ان کا مزيد کہنا تھا کہ اس بات کا اندازہ آپ ایسے لگا لیں کہ اس ملک کی طاقتور سیاسی رہنما، جن کے ساتھ گارڈ ہوتے ہیں، وہ بھی ایسے واقعات سے نہیں بچ پاتی ہیں۔
ایک اور سیاسی ورکر کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی جماعت کے ہر جلسے میں پیش پیش رہتی ہوں لیکن ایسے عناصر موجود ہوتے ہیں جو شاید آتے ہی اس لیے ہیں کہ خواتین کو ہراساں کریں گے۔
’میرے خود کے ساتھ ایک دو مرتبہ ایسے وقعات پیش آئے ہیں۔ جس کے بعد میں اپنے ساتھ چھڑی رکھتی ہوں۔‘
پارلیمنٹ میں بیٹھی خواتین ہراسانی پر آواز بلند کیوں نہیں کرتی ہیں؟
قانونی پہلوؤں کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی ایم این اے مائزہ حمید کا کہنا تھا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قوانین موجود ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے ان میں بہتری کے علاوہ ان پر عمل درآمد کروانے کے لیے مضبوط سسٹم موجود نہیں ہے۔
’یہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں بیٹھی خواتین کو، خواتین کے حق اور ہراسانی کے خلاف قوانین میں ترامیم اور نئے قواتین مرتب کرنے کے لیے کسی قسم کی قانونی معاونت اور پروفیشنل سپورٹ بھی نہیں فراہم کی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر خواتین اس بارے میں کچھ کر نہیں پاتی ہیں۔‘
’میرے خیال میں ہراساں کرنے والے شخص کو قانون کے مطابق سزا لازمی ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد پولیس ہی درمیان میں پڑ کر معافی تلافی کروا دیتی ہے۔ اس لیے بھی خواتین کھل کر نہیں بولتی ہیں کہ ہونا تو کچھ ہے نہیں اور پھر ایسے معاملات میں خواتین کا قصور بھی گنا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بھی خاموشی کو ہی بہتر حل سمجھتی ہیں۔ ایس ایچ او یا کسی بھی فرد کو نچلی سطح پر فیصلے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے یہ امید ظاہر کی کہ اب کم از کم خواتین سامنے آ کر ان معاملات پر بات کر رہی ہیں اور ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں زیادہ بہتری آئے۔
اس بارے میں پاکستان تحریک انصاف کی سعدیہ سہیل کہتی ہیں کہ خواتین کو ہراساں کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے اور جو خواتین سیاست کے لیے نکلتی ہیں ان کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ہی باہر نکلی ہیں جو ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔
’خاتون کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو میرے نزدیک خاتون کا احترام سب سے اوپر ہونا چاہیے لیکن پاکستانی مرد انھیں مال غنیمت سمجھتے ہیں۔‘ معاشرتی سوچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گھر میں موجود ہر بچے اور مرد کی یہ تربیت ہونی چاہیے کہ جتنی آپ کے گھر کی عورت قبل احترام ہے اتنی ہے گھر سے باہر موجود عورت بھی قابل عزت ہے۔
انھوں نے مزيد کہا کہ یہی نہیں جب ہم پارلیمنٹ میں ہراسانی سے متعلق قوانین کی بات کرتے ہیں تو مردوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بدقسمتی سے پارلیمنٹ میں خواتین کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
’وہ ایسے موضوعات کو زیر بحث لانے اور کھل کر ان بات کرنے کی مخالف ہوتی ہیں۔ جس میں میری اپنی پارٹی بھی خواتین بھی شامل ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم عورتوں ہی نے عورت کی عزت کو بہت ہی سستا اور نازک بنا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایسے وقعات پر خواتین خاموش ہو جاتی ہیں۔‘
خواتین کے قوانين سے متعلق بات کرتے ہوئے ماہر قانون ایمان زینب مزاری کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھی بیشتر خواتین مخصوص نشتوں پر آتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس قوانین کے حوالے سے زیادہ اختیارات نہیں ہوتے ہیں جبکہ اس وقت بھی پارلیمنٹ میں بیٹھی زیادہ تر خواتین عمر میں بھی بڑی ہیں اور وہ ہراسانی پر ویسے ہی بات کرنا ضروری نہیں سمجھتی ہیں۔
’یہی نہیں ہمارے ہاں قانون کی عمل داری کا نظام بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عورت کو عوامی اجتماع پر ہاتھ لگاتا ہے تو قانون کے تحت 354 سیکشن لگتا ہے جس کی سزا تین سال قید اور جرمانہ ہوتا ہے۔ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ کتنے کیسز میں یہ سزائیں دی گئی ہیں۔‘
سیاسی جلسوں اور ریلیوں میں خواتین کو اپنی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
سعدیہ سہیل نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میری زندگی میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن میں ان معاملات میں خاصی نڈر ہوں۔
’اس لیے ہمیشہ جس بھی مجھے کسی ہراساں کرنے یا میری ساتھ موجود کسی خاتون کو ارادے سے چھونے کی کوشش کی تو میں اسے بھرپور جواب دیا۔ جہاں ضرورت ہو وہاں شکایت بھی درج کروائی۔ جبکہ جلسوں اور ریلیوں میں ہم اپنی حفاظت کے لیے خود بندوبست کرتے تھے۔ میں ہمیشہ الرٹ رہتی ہوں، گروپس کی صورت میں شرکت کرتے تھے اور اپنے بہت سے پارٹی کے مرد بھی ہماری حفاظت کرتے ہیں۔‘
زیادہ تر سیاسی ورکرز ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کسی نہ کسی مرد یا فیلمی کے ساتھ جلسوں اور عوامی اجتماعات میں جانے تو ترجیح دیتی ہیں۔ مائزہ حمید کا بھی یہی ماننا ہے کہ سیاسی جلسوں اور ریلیوں میں جانے والی خواتین کو چاہیے کہ اپنی اعصاب پر قابو رکھیں اور کسی مرد کے ساتھ جائیں۔