جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس میں فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلوں کی سماعت: ’چیف جسٹس کا نام لینے میں احتیاط برتیں‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلوں کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ اپنے ہی بنائے ہوئے قواعد پر عمل درآمد کیوں نہیں کر رہی اور اس صدارتی ریفرنس میں سات رکنی اکثریتی فیصلے کے خلاف نطرثانی کی درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کا چھ رکنی بینچ کیسے کر رہا ہے؟

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ قواعد کے مطابق جو بینچ فیصلہ کرتا ہے وہی نظر ثانی کی درخواستوں کو بھی سنتا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو خارج کر دیا تھا اور ان میں سے سات ججز نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے ٹیکس سے متعلق معاملہ ایف بی آر کو بھیج دیا تھا۔ ان سات ججز میں سے ایک جج جسٹس فیصل عرب چند ہفتے پہلے ہی ریٹائر ہوئے ہیں۔

سرینا عیسیٰ نے کہا ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس میں ایک اقلیتی بینچ اکثریتی بینچ کے دیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

اُنھوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں ان کا نام نہیں تھا لیکن اس کے باوجود اس دس رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے سماعتوں کے دوران 81 مرتبہ اُن کا نام لیا۔

اُنھوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کے خلاف فیصلہ دینے والے دس ججز میں سے تین معزز ججز کو بینچ کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

سرینا عیسیٰ نے کہا کہ تین معزز ججز کو نکال کر میرے حقوق متاثر کیے گئے ہیں۔ اس دس رکنی بینچ میں سے تین ججز جن میں جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منصور علی شاہ نے اس معاملے کو ایف بی آر کو بھیجنے کی مخالفت کی تھی جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کو ہی ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔

سرینا عیسیٰ نے کہا کہ ان کے شوہر کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں گیا تو موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ تمام معاملات کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس نے نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دیا۔

اُنھوں نے اس چھ رکنی بیچ میں موجود ہر ایک جج سے الگ الگ سوال کیا کہ کیا سات رکنی بینچ کا فیصلہ چھ رکنی بینچ کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’میں مانتا ہوں کہ چھ رکنی بینچ سات رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا۔‘

سرینا عیسیٰ کے ججز سے باری باری سوال اور چیف جسٹس بارے میں ریمارکس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال برہم ہو گئے اور اُنھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیف جسٹس کا نام لینے میں احتیاط برتیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے لیے دس رکنی بینچ تشکیل دیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ جن تین ججز نے اختلافی نوٹ لکھا اس سے بھی وہ متفق نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی خواہش یہی ہے کہ ان ججز کو بھی بینچ کا حصہ بنایا جائے۔

بینچ کے سربراہ نے سرینا عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نکات رجسٹر کر لیے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ان کے شوہر کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے ماسٹر مائنڈ ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ وہ ابھی نظرثانی کی اپیلوں کی سماعت نہیں کر رہے بلکہ ابھی بینچ پر اٹھائے گئے اعتراضات کو سن رہے ہیں۔

سرینا عسیی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے حکم پر بینچ تشکیل دیا گیا اس لیے وہ اس معاملے میں فریق ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ چیف جسٹس پر الزام عائد کر رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ کسی مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پر الزام عائد کیا گیا ہو۔

اُنھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حد سے باہر نہ جائیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کا آئینی اختیار ہے۔

سرینا عیسیٰ نے کہا کہ ان کا مقصد کسی معزز جج کی دل آزاری نہیں تھا اور اگر کسی جج کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ چھ رکنی بینچ اس بینچ کی تشکیل کے بارے میں فیصلہ دے سکتا ہے لیکن جس طریقے سے بینچ کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے گئے وہ طریقہ کار درست نہیں۔

سرینا عیسی جو دلائل دیتے ہوئے کافی جارحانہ انداز میں تھیں، نے کہا کہ چیف جسٹس گلزار احمد قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ رہ چکے ہیں اور اب چیف جسٹس بطور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کیسے ان کی قسمت کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی جج کا احتساب ہونا ہے تو ضرور کریں لیکن اس کے خاندان کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے سرینا عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے لیے محترم ہیں لیکن سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے بارے میں بات کرتے ہوئے احتیاط برتیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ عوام میں عدالت کا تاثر قائم رکھنا بار کا کام ہے کیونکہ جج خود عوام میں نہیں جا سکتے۔ اُنھوں نے کہا کہ احتساب کے بغیر عدلیہ کی آزادی ممکن نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر فیصلے میں عدلیہ نے توازن رکھا۔ اُنھوں نے کہا کہ ایک طرف جج پر لگائے گئے اعتراضات ختم کر کے عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھا جبکہ دوسری طرف احتساب کے عمل کو تحفظ دیا۔

سندھ بار کونسل کے وکیل رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اگر دس ججز کی بجائے نو ججز بھی نظرثانی کی ان درخواستوں کو سن لیں تو کیا حرج ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ ثاثر نہیں جانا چاہیے کہ انصاف نہیں ہوا جس پر بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے ایک سنئیر وکیل کے منہ سے عدالت پر عدم اعمتاد کی بات سن کر افسوس ہوا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اس سے قبل دو ججز پر مستقبل کے ممکنات کو سامنے رکھتے ہوئے اعتراضات اٹھائے گئے جس کی وجہ سے دونوں ججز اس بینچ سے الگ ہو گئے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت بینچ کی تشکیل کے بارے میں فیصلہ دے گی۔ نظرثانی کی ان درخواستوں کی سماعت دس دسمبر تک ملتوی کرد ی گئی۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کورونا سے بچاو کے حوالے سے ایس او پیز کا خیال رکھا گیا اور عدالتی عملے نے کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی۔