آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس کی دوسری لہر: پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے 26 نومبر تا 10 جنوری بند رکھنے کا فیصلہ، آن لائن کلاسیں جاری رہیں گی، پنجاب کے دفاتر میں 50 فیصد عملے کو کام کی اجازت
پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشات کے پیش نظر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ 26 نومبر سے 11 جنوری تک پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے جبکہ صوبہ پنجاب کے اعلامیے کے مطابق تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں اب صرف 50 فیصد عملے کو کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
صوبہ پنجاب کے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے سیکریٹری کیپٹن (ر) عثمان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس فیصلہ کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور یہ 31 جنوری 2021 تک نافذ العمل رہے گا۔
وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سکول سمیت دیگر تعلیمی اداروں کی بندش زیر غور تھی اور اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی سطح پر مشاورت کی گئی ہے۔
پاکستان کے وزیر تعلیم شفقت محمود نے پیر کو صوبائی وزرا کے ساتھ میٹنگ کے بعد اعلان کیا کہ پاکستان میں 26 نومبر سے سکول، کالج اور یونیورسٹی سمیت تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں گے۔ 'تمام اداروں میں گھر سے پڑھائی جاری رکھی جائے گی۔'
ان کا کہنا تھا کہ ہوم ورک آن لائن ہوگا اور جہاں یہ نہیں ہوسکتا وہاں اساتذہ اور والدین اس کا طریقہ طے کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران 'کوئی (باضابطہ) کلاسیں نہیں ہوگی۔'
انھوں نے بتایا کہ ہوم لرننگ کا سلسلہ 24 دسمبر تک جاری رہے گا۔ 25 دسمبر سے 10 جنوری تک سردیوں کی تعطیلات ہوں گی۔ ان میں تمام تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہیں گے۔
تاہم ملکی سطح پر نجی سکولوں کی فیڈریشن نے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'سکولز دوبارہ بند نہیں ہوں گے۔ مائیکرو لاک ڈاؤن کا آپشن استعمال کیا جائے۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تعلیمی اداروں سے متعلق مزید کیا فیصلے کیے گئے؟
وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ 11 جنوری کو حالات کی بہتری کی صورت میں تمام تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔ اس کے لیے ایک نظرثانی کا اجلاس ہوگا جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ہنر سکھانے والے اداروں کو کھلا رکھا جائے گا اور محض ان لوگوں کو جانے کی اجازت ہوگی جن کا لیب سے متعلق یا دوسرا ضروری کام ابھی رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام امتحانات جنوری میں ہوں گے لیکن کچھ کی اجازت ہوگی، جیسے میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ۔ ان میں ماسک کے ساتھ احتیاطی تدابیر لازم ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہوسٹل میں طلبہ کا صرف ایک تہائی حصہ رہ سکتا ہے جو دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتا ہے، یا ایسے علاقوں سے جہاں سہولیات کی کمی ہے۔
شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ بورڈ کے امتحانات کو مئی یا جون میں لے جانے کی تجویز ہے تاکہ طلبہ کورس ورک مکمل کر سکیں۔ نیا تعلیمی سال اپریل کی جگہ اگست تک لے جانے کی تجویز ہے اور گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
وائرس کی روک تھام کے لیے قائم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے پیر کو بتایا ہے کہ پاکستان میں گذشتہ روز وائرس کی منتقلی کی شرح 7.46 رہی جو کہ کافی زیادہ ہے۔ اس حوالے سے لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کے پھیلنے کی زیادہ کیسز سامنے آنے کا بتایا گیا۔
اس اجلاس میں وزیر تعلیم بھی موجود تھے جہاں یہ بتایا گیا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران تعلیمی اداروں میں وائرس کا پھیلاؤ بڑھا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مسلسل گذشتہ 11 روز سے کورونا کے یومیہ متاثرین کی تعداد دو ہزار سے زیادہ رہی ہے۔ گذشتہ روز اس عالمی وبا سے پاکستان میں 34 افراد ہلاک ہوئے۔
این سی او سی کے مطابق کل نئے متاثرین میں 19 فیصد کیسز تعلیم کے شعبے میں ریکارڈ کیے گئے۔
نجی سکولوں نے وفاق کی تجاویز مسترد کر دیں
پاکستان میں نجی سکولوں کی جانب سے قائم پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کو مسترد کیا ہے۔
صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ ’ہم وفاق کی سکول بند کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔۔۔۔ ہر بچے کو زندگی میں مساوی مواقع میسر آنے چاہیں۔ تعلیم ہر بچے کا آئینی حق ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سکولز دوبارہ بند نہیں ہوں گے۔ ’سکول کھلے رکھنےکا واضح اعلان ہو چکا ہے۔ مائیکرو لاک ڈاؤن کا آپشن استعمال کیا جائے۔‘
’امیروں کی اولاد گھر میں ٹیوٹر اور عام انسان کا بچہ تعلیم سے محروم کیوں؟‘
انھوں نے زور دیا ہے کہ سکولز ایس او پیز کے ساتھ کھلے رکھے جاسکتے ہیں۔
’طلبہ کو شاپنگ مال، پارک یا مارکیٹ جانے نہ دیا جائے‘
پیر کو وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ان کے صوبے میں 'رواں سال کسی صورت بغیر امتحانات کے کلاسز میں بچوں کو پرموٹ نہیں کیا جائے گا۔
'ہماری تجویز ہے کہ تمام تعلیمی ادارے بند نہ کیے جائیں بلکہ اگر ایسا لگتا ہے تو پرائمری سکولز جس میں انرولمنٹ 73 فیصد ہے اس کو بند کیا جائے۔ جبکہ کلاس 6 اور اس سے آگے کی تمام کلاسز کو جاری رکھا جائے۔
'نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات مئی اور جون میں لینے کا فیصلہ نہ کیا جائے بلکہ اس کو ہولڈ کیا جائے اور آگے کی صورت حال کو دیکھ کر بعد میں فیصلہ کیا جائے۔'
'چھوٹی نجی سکولز کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے انھیں بینکوں کے ذریعے آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں اور اس پر سود وفاقی حکومت ادا کرے تاکہ یہ نجی سکولز معاشی طور پر بدحالی کا شکار نہ ہوں۔'
ان کا کہنا تھا کہ سکولوں کے ساتھ ساتھ 'ہمیں ٹیوشن اور کوچنگ سینٹرز کو بھی اس میں شامل کرنا چاہیے۔'
سندھ کے وزیر تعلیم نے یہ موقف اپنایا کہ 'اس سال مکمل طور پر تعلیمی اداروں میں تمام غیر تدریسی سرگرمیاں بند رکھنی چاہییں۔'
'جو سکولز آن لائن تعلیم دینا چاہتے ہیں وہ آن لائن تعلیم دیتے رہیں لیکن اگر کوئی والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجنا چاہتے اور گھروں پر ہی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں تو سکولز کو بھی پابند کرنا چاہیے کہ وہ ان بچوں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیں۔'
دوسری طرف وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے کہا کہ 'این سی او سی کی میٹینگ میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کو دیکھنے کے بعد مجھ سمیت تمام وزرائے تعلیم اس بات پر متفق ہو گئے کہ سکولوں کو بند کر دیا جائے۔
'میں نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ سکولوں کو بند کرنے کے نوٹیفیکیشن میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ طلبہ کو مالز، پبلک پارکس، مارکیٹوں و دیگر عوامی تقاریب میں شرکت کی اجازت قطعاً نہیں ہوگی۔ انتظامیہ کو پابند کیا جائے کہ کسی بچے کو ایسی جگہوں پر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا تاکہ وہ گھروں میں بیٹھیں اور محفوظ رہ سکیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 'بچوں کو ان چھٹیوں میں ہوم ورک دیا جائے گا۔ اس کی بنیاد پر ان کے 50 فیصد نمبر لگائے جائیں گے اور اگلی کلاس میں پروموٹ ہونے کے لیے 50 فیصد نمبروں کا ایم سی کیو بنا کر پہلی سے آٹھویں کلاس کے طالبہ کا امتحان مارچ میں لیا جائے گا۔'
اساتذہ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ جو سکول آن لائن کلاسز دے سکتے ہیں وہ صرف منگل اور جمعرات کے روز انھیں سکولوں میں بلا سکتے ہیں۔ تاہم سکولوں میں پچاس فیصد اساتذہ ایک دن جبکہ باقی پچاس فیصد دوسرے دن بلائے جاسکیں گے۔
انھوں نے واضح کیا کہ یہ تمام فیصلے سرکاری اور نجی سکولوں کے علاوہ ٹیوشن سنٹر اور اکیڈمیز پر بھی لاگو ہوں گے۔ 'جن لوگوں کو سکول بند کرنے میں مسئلہ ہے تو وہ سمجھ لیں کہ یہ حکومتی فیصلہ ہے اور حکومت کی رٹ قائم کرنے کے لیے میں یہاں موجود ہوں۔'
والدین میں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے تشویش
پاکستان میں سکول جانے والے بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پہلے ہی پڑھائی کا اتنا حرج ہو چکا ہے کہ انھیں خطرہ ہے کہ بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہو جائے گا اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں شرح تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کے سکول جانے کا رجحان بھی کافی کم ہے۔ اور بچے سکول کی عادت ہی نہ بھلا دیں۔
ایسے میں ایک بحث چھڑ گئی کہ ان حالات میں بچوں کی تعلیم زیادہ ضروری ہے یا صحت اور آیا سکول بند کیے بغیر بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اور کیا بچوں کو سکول بھیجے بغیر گھر پر تعلیم فراہم کرنے کے آن لائن نظام میں بہتری آسکتی ہے۔
شفقت محمود نے ایک سرکاری بیان میں تجویز دی تھی کہ کیمپس کے بجائے گھر پر پڑھائی شروع کی جائے۔ ’اساتذہ سکول آئیں، بچے آن لائن پڑھیں اور جہاں آن لائن کا بندوبست نہیں وہاں بچوں کے والدین ایک دن سکول آکر ہوم ورک لے جایا کریں۔
ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ وزارت تعلیم اور ریڈیو پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ریڈیو کے ذریعے بچوں کی تعلیم کو فروغ دیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ ریڈیو سکول کے تحت روزانہ چار گھنٹے تعلیمی مواد نشر کیا جائے گا۔
پاکستان میں بڑے اجتماعات پر پابندی
رواں ماہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے تھا کہ ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد ان کی جماعت نے جلسے جلوسوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ باقی جماعتوں سے بھی ایسے ہی اقدام کی امید رکھتے ہیں۔ تاہم گذشتہ روز متحدہ اپوزیشن (پی ڈی ایم) نے پشاور میں جلسہ کیا جس پر حکومتی وزرا نے خاصی تنقید کی۔
عمران خان نے بتایا تھا کہ ’حکومت نے فی الحال سکول بند کرنے یا موسم سرما کی تعطیلات میں اضافے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ سکولوں میں کورونا کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اس بارے میں فیصلہ آئندہ ہفتے ہو گا۔
'سکولوں کے حوالے سے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایک ہفتہ اور دیکھیں گے۔ اگر ہمیں یہ پتا چلا کہ یہ سکول سے بھی پھیل رہا ہے تو پھر سردیوں کی چھٹیاں زیادہ کر دیں گے اور گرمیوں میں صرف ایک ماہ کی چھٹیاں کر دیں گے۔'
یاد رہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں پہلے ہی زیادہ متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جس کے تحت سکول اور عوامی اجتماعات کے دوسرے مقامات بند کر دیے جاتے ہیں۔