آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خادم حسین رضوی: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ وفات پا گئے
مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے بانی خادم حسین رضوی 55 سال کی عمر میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں وفات پا گئے ہیں۔
جماعت کے ترجمان قاری زبیر نے بی بی سی کے اعظم خان کو بتایا ہے کہ ان کے وفات کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہے۔ ان کے مطابق گذشتہ چند روز سے خادم رضوی کی طبیعت خراب تھی۔
بریلوی سوچ کے حامل خادم رضوی اپنے سخت اندازِ بیان کے ساتھ سنہ 2017 کے دوران پاکستان میں توہین رسالت کے متنازع قانون کے ایک بڑے حامی بن کر سامنے آئے تھے۔
لاہور میں شیخ زید ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اکبر حسین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رات 8 بج کر 48 منٹ پر خادم رضوی کو مردہ حالت میں ہسپتال کے ایمرجنسی وراڈ لیا گیا تھا اور اس سے قبل وہ یہاں زیر علاج نہیں تھے۔
ڈاکٹر اکبر حسین کے مطابق کسی کو مردہ حالت میں لائے جانے کی صورت میں ہسپتال موت کی وجہ کا تعین نہیں کرسکتا۔
تحریک لبیک کی جانب سے جاری پیغام میں بتایا گیا ہے کہ خادم رضوی کی نمازِ جنازہ سنیچر کی صبح 10 بجے مینارِ پاکستان لاہور میں ادا کی جائے گی۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر خادم رضوری کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے خادم حسین کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا پیغام فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
چند روز قبل انھیں میڈیا پر اس وقت دیکھا گیا تھا جب ان کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے لیے ریلی نکالی اور مظاہرے کے بعد فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا۔
بعد ازاں پاکستان کی وفاقی حکومت اور انتظامیہ نے تحریک لبیک کے سربراہ کے ساتھ ’کامیاب مذاکرات‘ کیے اور چار نکاتی معاہدے پر اتفاق ہوا۔
مذاکرات کی کامیابی کے چند گھنٹوں بعد اس دھرنے کو ختم کر دیا گیا تھا۔
خادم رضوی کون تھے؟
مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں چند برس پہلے تک کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ پھر نومبر 2017 میں انھوں نے ایک ریلی کی قیادت کرتے ہوئے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد پر دھرنا دیا۔ تین برس بعد نومبر 2020 میں ایک مرتبہ پھر ان کی جماعت کے کارکنوں نے اسی مقام پر دھرنا دیا ہے۔
بریلوی سوچ کے حامل خادم حسین رضوی کو ممتاز قادری کے حق میں کھل کر بولنے کی وجہ سے پنجاب کے محکمۂ اوقاف سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے ستمبر 2017 میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔
ویل چیئر تک محدود ہونے کے باوجود خادم حسین رضوی پاکستان میں توہین رسالت کے متنازع قانون کے ایک بڑے حامی بن کر سامنے آئے۔ وہ اس قانون کے غلط استعمال کے الزام سے بھی متفق نہیں۔
ان کا انداز بیان کافی سخت ہوتا ہے۔ پاکستانی میڈیا کی جانب سے کوریج نہ ملنے کا حل بظاہر انھوں نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر کے نکالا۔ ناصرف اردو اور انگریزی میں ان کی ویب سائٹس بنائی گئیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی اکاؤنٹ بنے۔
وہ اپنے آپ کو پیغمبر اسلام کا 'چوکیدار' کہہ کر بلاتے تھے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسی نے کہا تھا کہ ’اربوں کی پراپرٹی تباہ کردی گئی ہے اور ’پریمیئر‘ انٹیلی جنس ایجنسی کو معلوم ہی نہیں کہ خادم رضوی کیا کرتا ہے۔‘
محکمہ دفاع کے نمائندے کرنل فلک ناز نے عدالت کو بتایا تھا کہ خادم حسین رضوی خطیب ہیں اور ان کی سیاسی جماعت ہے جو چندے سے چلتی ہے۔
اسلام آباد میں انسداد دہشتگری عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں ان کی گرفتاری کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وہ ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔