گلگت بلتستان انتخابات: بلاول بھٹو، مریم نواز کا الیکشن میں دھاندلی کا الزام، غیر حتمی نتائج میں پاکستان تحریک انصاف کو برتری حاصل

پاکستان کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات میں حکمران جماعت پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں جبکہ حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

یار رہے کہ حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے ہیں تاہم مقامی و سرکاری ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ ابتدائی نتائج کے مطابق تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ان انتخابات میں برتری حاصل ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کو کُل 23 حلقوں میں سے نو میں برتری حاصل ہے جبکہ دو حلقوں آزاد امیدوار آگے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کو تین جبکہ مسلم لیگ نواز کو دو نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے، جو انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں ہی موجود ہیں، پیر کو آر او آفس کے باہر اپنی جماعت کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کو ’کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ‘ کے حوالے نہیں کریں گے۔

انھوں نے اعلان کیا کہ ’ہم اپنی انتخابی مہم جاری رکھیں گے۔ احتجاج جاری رکھیں گے۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا نہ پہلے کوئی وجود تھا نہ اب ہے۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ تحریکِ انصاف کو حاصل ہونے والی ’چند سیٹیں دھونس، دھاندلی، مسلم لیگ ن سے توڑے گئے امیدواروں اور سلیکٹرز کی مرہون منت ہیں۔ وفاق میں موجود حکمران جماعت کو پہلی بار یہاں ایسی شکست فاش ہوئی ہے۔ یہ شکست آنے والے دنوں کی کہانی سنا رہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے غیر حتمی نتائج میں تحریکِ انصاف کی برتری کے حوالے سے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کی فتح گلگت بلتستان کے عوام کا وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے۔

’جی بی کے عوام نے مسلم لیگ ن کے بیانیے کو یکسر رد کر کے وزیراعظم عمران خان کےنظریے کی صداقت پر مہر ثبت کردی ہے۔‘

شبلی فراز نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد۔۔ پولنگ کا عمل پرامن انداز میں خوش اسلوبی سے مکمل ہوا۔ انتخابی عمل میں بزرگوں اور خواتین سمیت عوام کی بھرپور شرکت اور شفافیت میڈیا نے اپنے کیمروں کی آنکھ سے دکھائی۔ میڈیا اور گلگت بلتستان کے غیور عوام نے اپوزیشن کے متوقع دھاندلی بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔‘

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنے رد عمل میں کہا کہ ’جمہوریت صرف ان معاشروں اور قوموں کے لیے ہوتی ہے جہاں ہار ماننے کا حوصلہ رکھنے والے سیاستدان ہوں‘۔

انھوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اب اپنی ’سیاست میں بہتری لائیں‘۔

اس سے قبل اپنے ایک ٹویٹ میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نواز شریف اور مریم نواز کے بیانے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے لوگوں نے ’پاکستان کے حق میں اپنی آواز بلند کی ہے‘۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ انتخابی نتائج ’پاکستان مسلم لیگ نواز اور اس کی اتحادیوں کے لیے بہت بڑی نہ ہے‘۔

بلاول کی ’اسلام آباد جانے‘ کی دھمکی

آر او آفس کے باہر خطاب میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اپنے کارکنان سے کہا کہ وہ ’چھینی گئی سیٹیں واپس لیں گے، اگر نہ لے سکے تو اسلام آباد جائیں گے۔۔۔ گلگت بلتستان کے عوام کسی کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کو اپنا حق چھیننے نہیں دیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم گلگت بلتستان کے الیکشن پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے۔۔۔ ووٹوں اور سیٹوں پر کام کیا گیا، امیدواروں پر دباؤ ڈالا گیا، پیغام بھیجے گئے کہ بھٹو کی پارٹی چھوڑیں اور پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کریں۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’آزاد امیدواروں کو جتایا گیا۔۔۔ ایک لوٹے کے علاوہ سب امیدواروں نے وفاداری نبھائی۔۔۔ ان کی سازش جاری رہی، پیپلرز پارٹی کی حمایت دیکھ کر وہ گھبرانا شروع ہو گئے۔

’انھوں نے قانون کی خلاف ورزی کی۔ وزیر اور وزیر اعظم پہنچے اور ہر تقریر میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔‘

انھوں نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ان کا کام دھاندلی روکنا اور ووٹ کا تحفظ تھا لیکن انھوں نے ’حکومت کو روکنے کے بجائے وہ حکومت کے ساتھ کھڑے رہے اور اپوزیشن کو نشانہ بنایا‘۔

مریم نواز: ’تحریک انصاف کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں‘

ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کی نائب صدر کا الزام تھا کہ ’پوری ریاستی طاقت، حکومتی اداروں، سرکاری مشینری کا زور زبردستی اور جبر کے ہتھکنڈوں سے وفاداریاں تبدیل کرانے اور بدترین دھاندلی کے باوجود سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا (پی ٹی آئی کی) شرمناک شکست ہے۔

’ہارنے والوں کو ’لوٹا پارٹی‘ سے دگنی سیٹوں کا ملنا کٹھ پتلی پر عوام کا عدم اعتماد ہے۔‘

مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’گلگت بلتستان کے بہادر لوگو! اس دھاندلی سے ہمت نہیں ہارنا۔‘