آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی عرب کے قیام کی جدوجہد: 98 برس قبل جب شاہ عبدالعزیز نے مکہ کو فتح کیا
- مصنف, عقیل عباس جعفری
- عہدہ, محقق و مؤرخ، کراچی
عبدالعزیز ابن عبدالرحمن آل سعود نے آج سے ٹھیک 97 برس قبل یعنی آٹھ جنوری1926 کو ایک خصوصی تقریب میں مملکتِ حجاز کے بادشاہ بنے تھے اور اس کے چھ سال بعد یعنی 23 ستمبر 1932 کو مملکت سعودی عرب کا قیام عمل میں لایا گیا۔
مملکت سعودی عرب کی بنیاد کیسے اور کن حالات میں رکھی گئی، اس حوالے سے یہ تحریر 22 فروری 2022 کو شائع کی گئی تھی جسے آج دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب عالم اسلام کی سب سے بڑی مملکت سمجھی جاتی ہے۔ اس مملکت کے بانی یوں تو شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود ہیں جو 15 جنوری 1877 کو پیدا ہوئے تھے مگر اس سلطنت کے قیام کی جدوجہد کا آغاز 18 ویں صدی میں ہوا تھا جب 1725 میں آل سعود کے سربراہ امیر سعود بن محمد بن مقرن کی وفات ہوئی۔
اس زمانے میں نجد میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں اور ہر ریاست کا الگ الگ حکمران ہوتا تھا۔ امیر سعود بن محمد کے چار صاحبزادے تھے جنھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نجد میں سعودی سلطنت قائم کریں گے۔
امیر سعود بن محمد کے سب سے بڑے صاحبزادے کا نام محمد بن سعود تھا۔ وہ درعیہ کے حکمران بنے اور انھوں نے شیخ محمد بن عبدالوہاب کی مدد سے درعیہ میں اپنی حکومت قائم کی اور آہستہ آہستہ اسے مستحکم کرنا شروع کیا۔
شیخ محمد بن عبدالوہاب نجد کے مشہور عالم تھے اور مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح کے لیے کوشاں تھے۔
تاریخی حوالوں میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ محمد بن سعود اور شیخ محمد عبدالوہاب کے درمیان سنہ 1745 میں ایک تاریخی ملاقات ہوئی جس میں دونوں نے عہد کیا کہ اگر کسی وقت محمد بن سعود نجد و حجاز میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہاں شیخ محمد بن عبدالوہاب کے عقائد کو رائج کریں گے۔
سنہ 1765 میں شہزادہ محمد اور 1791 میں شیخ محمد بن عبدالوہاب کی وفات ہو گئی۔ اس وقت تک جزیرہ نما عرب کے بیشتر علاقے پر آل سعود کی حکمرانی قائم ہو چکی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہزادہ محمد کے بعد امام عبدالعزیز علاقے کے حکمران بنے مگر 1803 میں انھیں قتل کر دیا گیا۔ امام عبدالعزیز کے بعد ان کے بیٹے سعود حکمران بنے جو 1814 میں وفات پا گئے۔
سعود کے بیٹے عبداللہ ایک بڑے عالم دین بھی تھے۔ ان کے دور حکمرانی میں ان کے علاقے کا ایک بڑا حصہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور درعیہ سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں آ گیا۔
امام عبداللہ قیدی بنا لیے گئے اور انھیں استنبول لے جا کر سزائے موت دے دی گئی۔
مگر جلد ہی ان کے بھائی مشاری بن سعود اپنی حکومت واپس لینے میں کامیاب ہو گئے مگر وہ زیادہ عرصے تک حکمرانی نہ کر سکے اور ان کا علاقہ دوبارہ سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں چلا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
اس کے بعد اُن کا بھتیجا شہزادہ ترکی بن عبداللہ ریاض پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا، جس پر وہ سنہ 1824 سے سنہ 1835 تک برسراقتدار رہے۔
اگلی کئی دہائیوں تک آل سعود کی قسمت کا ستارہ طلوع و غروب ہوتا رہا اور جزیرہ نما عرب پر تسلط کے لیے مصر، سلطنت عثمانیہ اور دیگر عرب قبائل میں تصادم ہوتے رہے۔ آل سعود کے ایک حکمران امام عبدالرحمن تھے، جو 1889 میں بیعت لینے میں کامیاب ہوئے۔
امام عبدالرحمن کے بیٹے شہزادہ عبدالعزیز ایک مہم جُو شخصیت تھے اور سنہ 1900 میں انھوں نے اپنے والد کی زندگی میں ہی ان کی کھوئی ہوئی سلطنت واپس لینے اور اسے وسعت دینے کی کوششیں شروع کر دیں۔
سنہ 1902 میں انھوں نے ریاض شہر پر قبضہ کیا اور اسے آل سعود کا دارالحکومت قرار دیا۔
اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انھوں نے الاحسائی، قطیف اور نجد کے متعدد علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
سلطنت عثمانیہ کے آخری دور میں حجاز پر (جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقے شامل تھے) شریف مکہ حسین کی حکمرانی تھی، جنھوں نے پانچ جون 1916 کو ترکی کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔
حسین کو نہ صرف عربوں کے مختلف قبائل کی بلکہ برطانیہ کی تائید بھی حاصل تھی۔
سات جون 1916 کو شریف مکہ حسین نے حجاز کی آزادی کا اعلان کیا۔
21 جون کو مکہ پر ان کا قبضہ مکمل ہوا اور 29 اکتوبر کو انھوں نے پورے عرب کا حکمران ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے تمام عربوں کو دعوت دی کہ وہ ترکوں کے خلاف جنگ کا اعلان کریں۔ 15 دسمبر 1916 کو حکومت برطانیہ نے حسین کو شاہ حجاز تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
اسی دوران امیر عبدالعزیز ابن عبدالرحمن آل سعود نے مشرقی عرب کا ایک بڑا حصہ مسخر کر لیا اور 26 دسمبر 1915 کو برطانیہ کے ساتھ دوستی کا ایک معاہدہ بھی کر لیا۔
پانچ ستمبر 1924 کو انھوں نے حجاز کو بھی فتح کر لیا۔
عوام نے امیر عبدالعزیز کا ساتھ دیا اور شریف مکہ شاہ حسین نے حکومت سے دست بردار ہو کر اپنے بیٹے علی کو شاہ حجاز بنا دیا۔ مگر امیر عبدالعزیز کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے باعث انھیں بھی اپنا تخت چھوڑنا پڑا۔
13 اکتوبر 1924 کو شاہ عبدالعزیز نے مکہ معظمہ پر بھی قبضہ کر لیا۔
اس دوران شاہ عبدالعزیز کی پیش قدمیاں جاری رہیں۔
پانچ دسمبر 1925 کو انھوں نے مدینہ کا اقتدار حاصل کر لیا۔ 19 نومبر 1925 کو شریف مکہ علی نے اقتدار سے مکمل دستبرداری کا اعلان کیا اور یوں جدہ پر بھی آل سعود کا قبضہ ہو گیا۔ آٹھ جنوری 1926 کو شاہ حجاز عبدالعزیز ابن عبدالرحمن آل سعود نے ایک خصوصی تقریب میں مملکت نجد و حجاز کے مکمل اختیارات سنبھالنے کا اعلان کر دیا۔
سعودی عرب کی آزادی اور تیل کی دولت
20 مئی 1927 کو برطانیہ نے تمام مقبوضہ علاقوں پر جو اس وقت مملکت حجاز و نجد کہلاتے تھے عبدالعزیز ابن سعود کی حکمرانی کو تسلیم کر لیا۔ 23 ستمبر 1932 کو شاہ عبدالعزیز ابن سعود نے مملکت حجاز و نجد کا نام تبدیل کر کے ’المملکتہ العربیتہ السعودیہ‘ رکھنے کا اعلان کر دیا۔
شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے جلد ہی اپنی مملکت کو اسلامی رنگ میں ڈھال دیا۔
دوسری جانب ان کی خوش قسمتی سے سعودی عرب میں تیل کے ذخائر کی نشاندہی ہوئی۔ سنہ 1933 میں شاہ عبدالعزیز نے کیلیفورنیا پٹرولیم کمپنی کے ساتھ تیل نکالنے کا معاہدہ کیا۔
ابتدائی چند برس جدوجہد میں بسر ہوئے مگر سنہ 1938 میں جب کیلیفورنیا پٹرولیم کمپنی کے ماہرین ناکام ہو کر ملک لوٹنے ہی والے تھے کہ اچانک ایک کنویں سے خزانہ ابل پڑا اور اتنا تیل نکلا کہ جس پر وہ ماہرین خود بھی دنگ رہ گئے۔
اب تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
یہ واقعہ نہ صرف سعودی حکمرانوں اور کیلیفورنیا کمپنی کے لیے حیران کُن تھا بلکہ پورے جزیرہ نما عرب کے لیے ایک معجزہ تھا۔ تیل کی دریافت نے سعودی عرب کو معاشی طور پر زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گیا۔
نو نومبر 1953 کو شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود وفات پا گئے۔
جنت البقیع کا انہدام
شاہ عبدالعزیز نے اپنے دور حکمرانی میں جہاں سعودی عرب کو دنیا کی ایک عظیم طاقت میں تبدیل کیا وہیں مذہبی اعتبار سے بعض ایسے اقدامات بھی کیے جن سے عالم اسلام کے ایک بڑے حصے میں بے چینی پھیلی۔
انھوں نے اپنی ریاست کو شیخ محمد بن عبدالوہاب کے عقائد کی روشنی میں تشکیل دیا اور بدعات کا خاتمہ کیا۔ انھی کے دور میں مدینہ منورہ میں موجود عالم اسلام کے عظیم قبرستان جنت البقیع کا انہدام بھی عمل میں آیا۔
مزید پڑھیے
بقیع اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنگلی پیڑ پودے بکثرت پائے جاتے ہوں اور چونکہ اس قبرستان کی جگہ میں پہلے جھاڑ جھنکاڑ اور کانٹے عوسج یعنی غرقد کے پیڑ بکثرت تھے اس لیے اس قبرستان کا نام بھی بقیع غرقد پڑ گیا۔
اس قبرستان میں پیغمبر اسلام کے زمانے سے ہی مسلمانوں کی تدفین کی سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
اس قبرستان میں دفن ہونے والے پہلے صحابی حضرت عثمان بن مظعون تھے۔ ان کے بعد اس قبرستان میں ہزاروں افراد آسودۂ خاک ہوئے۔
شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے جنت البقیع میں موجود تمام گنبدوں کو مسمار کرنے کا حکم صادر کیا۔ یہ واقعہ 21 اپریل 1926 کا ہے۔
جنت البقیع کے انہدام پر عالم اسلام نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا۔
اس وقت یہ پورا قبرستان ایک میدان میں تبدیل کر دیا گیا ہے، تاہم اب بھی جو زائرین مدینہ جاتے ہیں وہ جنت البقیع کی زیارت ضرور کرتے ہیں۔