آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان اور ’نیا پاکستان‘: پاکستان کو نیا پاکستان کہنے پر وزیر اعظم عمران خان کو نوٹس، تین ہفتوں میں جواب طلب
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کو لفظ ’نیا پاکستان‘ کے استعمال سے روکنے سے متعلق دائر درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے۔
عدالت نے وزیر اعظم عمران خان سے اس درخواست پر تین ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔
درخواست گزار وکیل طارق اسد نے موقف اختیار کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے سنہ 2018 کے انتخابات میں ’نیا پاکستان‘ کو ایک نعرے کے طور پر استعمال کیا اور پھر اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو ’نیا پاکستان‘ کا نام دے دیا۔
درخواست میں اس بات کابھی ذکر کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے مختلف منصوبوں کا نام بھی ’نیا پاکستان‘ رکھا ہے اور ان میں نیا پاکستان ہاوسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا نام بھی شامل ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملکی آئین کے منافی ہیں۔
طارق اسد نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملکی آئین میں پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، نیا پاکستان نہیں ہے‘۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ نیا کا لفظ استعمال کرنے سے ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ملک کے نام کے ساتھ عرفیت لگائی جارہی ہے‘۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس ملک کے قیام کے لیے بہت سی قربانیاں دی گئیں۔ ’ایسی دھرتی جہاں پر مسلمان آزادی سے رہ سکیں اس لیے اس کا نام پاکستان رکھا گیا اور مسلمانوں کے لیے الگ ملک کا نام ’پاکستان‘ چوہدری رحمت علی نے تجویز کیا جسے قائد اعظم محمد علی جناح نے منظور کیا‘۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف، حکومتی عہدیداروں، کابینہ اور اراکین پارلیمان لفظ نیا پاکستان استمعال کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان افراد کو پاکستان کو ’نیا پاکستان‘ پکارنے سے روکا جائے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ مختلف ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ٹاک شوز میں بھی ’نیا پاکستان‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ’خلاف آئین‘ ہے۔ اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پیمرا کو ہدایت کی جائے کہ ٹاک شوز اور خبروں میں بھی پاکستان کے ساتھ نیا کا لفظ استعمال نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے لیے لوک گلوگار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے ایک نغمہ بھی تیار کیا تھا، جسے کچھ یوں ترتیب دیا گیا ہے:
جب آئے گا عمران، سب کی جان، بڑھے گی قوم کی شان، بنے گا نیا پاکستان۔۔۔
سنہ 2018 کے انتخابات میں اس نغمے کو لوگوں کو کافی پذیرآئی ملی۔
اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’نیا پاکستان‘ کے لفظ کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کا پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا بیان بھی ’توہین آمیز‘ ہے لہٰذا اُنھیں ایسا کرنے سے بھی روکا جائے۔
اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر وزیر اعظم ’ریاست مدینہ‘ بنانے کے بجائے صرف اس طرز پر فلاحی ریاست بنانے کا کہہ دیں تو یہ قابل قبول ہے۔
اس درخواست پر اب اگلی سماعت 24 نومبر کو ہو گی۔