آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماہر معاشیات عاطف میاں کا آئی بی اے میں سیمینار منسوخی پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل
عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ماہر معاشیات ڈاکٹر عاطِف میاں نے صرف تین روز قبل ایک ٹویٹ میں خوشی کا اظہار کیا تھا کہ وہ کراچی کے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے طلبا کے ساتھ ایک سیمنار میں شریک ہوں گے۔ عاطف میاں کو اس سیمنار میں طلبا کے ساتھ معیشت کے موضوع پر بات کرنی تھی۔
لیکن آج ان کی طرف سے ایک اور ٹویٹ کی گئی جس میں انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سیمنار کچھ حلقوں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان کی طرف سے اس اعلان کے ساتھ میں پاکستانی سوشل میڈیا پر مذہبی تعصب اور عدم برداشت پر بحث چھڑ گئی۔
یہ بھی پڑھیے
عاطف میاں کی پہلی ٹویٹ میں انھوں نے لکھا تھا ’میں پانچ نومبر کو آئی بی اے کراچی کے طلبا کے ساتھ گفتگو کرنے کے لیے بہت پرجوش ہوں، آئیے ہمارے ساتھ شریک ہوں۔‘
اب انھوں نے سیمنار کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ آئی بی اے کراچی میں میرا زوم سیمنار یونیورسٹی انتظامیہ نے شدت پسندوں کی دھمکیوں کے باعث منسوخ کر دیا ہے۔ آئی بی اے کے طلبا کے لیے میری دعائیں اور نیک تمنائیں ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ڈاکٹر عاطف میاں کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں اقتصادی مشاورتی کونسل میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن بعدازاں ستمبر 2018 میں حکومت نے عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی کی رکنیت سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔
ان کی نامزدگی پر کچھ مذہبی اور سیاسی حلقوں سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ ان کا تعلق جماعتِ احمدیہ سے ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے 16 اکتوبر کو ایسا ہی ایک واقعہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے ایک کالج کے باہر بھی پیش آیا تھا جب نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر چند نوجوانوں کی جانب سے سیاہی ملنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔
عاطف میاں کون ہیں؟
سنہ 2014 میں عالمی مالیاتی ادارے نے دنیا کے 25 کم عمر ترین قابل ماہرِ معاشیات کی فہرست میں عاطف میاں کا نام شامل کیا تھا۔
نائجیریا میں پیدا ہونے والے 43 سالہ عاطف میاں نے ابتدائی تعلیم پاکستان میں حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے نوے کی دہائی میں امریکہ چل گئے۔ انھوں نے امریکہ کے میسا چوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ایم آئی ٹی سے 17 برس قبل معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہیں سے انھوں نے کمپیوٹر اور حساب میں ماسٹر ڈگری بھی حاصل کی۔
وہ اس وقت پرنسٹن یونیورسٹی اور ووڈرو ولسن سکول آف پبلک پالیسی سے منسلک ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں وہ سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے اور یونیورسٹی آف شکاگو کے بوتھ سکول آف بزنس میں آٹھ سال تدریس کی۔ ووڈرو ولسن سکول کے جولیس ریبنوٹز سینٹر کے شعبہ پبلک پالیسی اینڈ فنانس میں ڈائریکٹر کی خدمات سرانجام دیں۔
عاطف میاں پاکستان میں سینٹر فار اکنامک ریسرچ، سی ای آر پی کے شریک بانی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر میاں نے سنہ 2007 کے عالمی مالیاتی بحران کی وجہ بننے والے گھروں کے قرضوں سے شروع ہونے والے دیوالیے کا تجزیہ کیا تھا۔ انھوں نے 'ہاؤس آف ڈیٹ' کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی۔ اس کتاب میں انھوں نے قرض اور شدید کساد بازاری کے درمیان تعلق کی وضاحت کی اور اس کے نقصانات اور تدارک پر بات کی۔
نہ صرف ان کی کتاب پر عالمی اخبارات جیسا کہ وال سٹریٹ جنرل، دی اٹلانٹک اور دی نیویارک ٹائمز میں مضامین چھپے بلکہ ان کی جانب سے کی گئی تحقیق جریدوں میں شائع ہوئی جن میں امیرکین ایکونامک بھی شامل ہے۔ ان کی جانب سے لکھی گئی تحریریں متعدد معاشی میگزینز اور جرنلز میں چھپیں۔
تاہم پاکستان میں بعض حلقوں نے ان کے عقیدے کو خطرہ قرار دیا۔ ان کا تعلق پاکستان میں 1974 میں غیر مسلم قرار دی جانے والی احمدی برادری ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
عاطف میاں کی جانب سے زوم سیمنار کی منسوخی کی ٹویٹ کرنا تھی کہ سوشل میڈیا صارفین نے ان کے ساتھ مذہبی تعصب کے باعث پیش آئے اس ناروا سلوک پر ردعمل دینا شروع کر دیا اور چند سوشل میڈیا صارفین نے ان سے اس رویے پر معذرت بھی کی۔
طلحہ نامی سوشل میڈیا صارف نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اس واقعے پر آپ سے معافی تو ہمیں مانگنی چاہیے، امید ہے کہ آپ لمبی عمر پائیں تاکہ آپ ایک ترقی پسند پاکستان کو دیکھ سکیں جہاں آپ خوشی منائیں نہ کہ آپ کو معاشرے میں تفریق کا سامنا کرنا پڑے۔‘
عدنان رسول نامی صارف نے اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا ’ آپ ایک مکرم اور صابر آدمی ہیں۔ آپ نے زندگی میں بہت سوں کے مقابلے میں نفرت کا جواب پروقار طریقے سے دیا ہے۔‘
جبکہ ایک اور صارف نے عاطف میاں کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’ یہ ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کی جہالت ہے جو سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے، سیاسی قوتیں انھیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتیں ہیں۔‘
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ شدت پسندی خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے، اللہ ہمارے ملک کو ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے اور انھیں یہ احساس ہو کہ وہ کس تیزی سے غلط سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘