شاہ عبداللطیف بھٹائی: شاہ سائیں کی سات ’سورمیاں‘ جنھیں راگوں نے اپنا اسیر بنا لیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شبینہ فراز
- عہدہ, صحافی
سندھ کی سرزمین میں مدفون صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی درگارہ سے متعلق ایک داستان کافی مشہور ہے۔
غالباً یہ سنہ 1780 کا واقعہ ہے، یعنی شاہ عبدالطیف بھٹائی کی وفات کے لگ بھگ 50 برس بعد کا۔ ہندوستان کے علاقے کچھ سے مائی جیواں نامی ایک خاتون بھٹائی کی درگاہ پر بیٹے کی منت مانگنے آئیں اور عہد کیا کہ اگر اس وسیلے سے اُن کی گود ہری ہو گئی تو وہ لگاتار سات جمعوں تک درگاہ پر بھٹ شاہ کا کلام گائیں گی۔
مائی جیواں اور اُن کے شوہر نہال فقیر دونوں ہی شاہ عبدالطیف کے مرید تھے۔
اُن کی امید بر آئی تو منت پوری کرنے کی غرض سے انھوں نے ہر جمعے کے روز شاہ سائیں کا کلام گانا شروع کر دیا۔
مائی جیواں زیادہ تر سُر ماروی گاتی تھیں اور اُن کی آواز میں وہ درد اور سُروں میں وہ سوز تھا جسے سُن کر لوگ حالتِ وجد میں آ جاتے اور مشہور ہے کہ کئی کمزور دل افراد کلام کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے بھی چلے جاتے۔
اس احوال کی خبر جب حاکمِ وقت کو ہوئی تو انھوں نے انسانی جانوں کو بچانے کی غرض سے مائی جیواں کے درگاہ بھٹ شاہ پر کلام گانے پر پابندی عائد کر دی۔
اسی بارے میں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیواں اس پابندی سے بہت دلبرداشتہ ہوئیں اور انھوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ بادشاہ کی لگائی پابندی کے باعث وہ تو مستقبل میں نہیں گا سکیں گی لیکن اُن (جیواں) کی وفات کی بعد وہ (جیواں کے شوہر) اُن کی قبر پر آ کر یہی سُر ماروی ضرور گائیں۔
جیواں کی وفات ہو گئی تو اُن کے شوہر نہال فقیر نے اپنی اہلیہ کی وصیت پر عمل کیا اور اُن کی تدفین کے بعد اُن کی قبر پر سُر ماروی کا الاپ کیا۔ داستان گُو بتاتے ہیں کہ جیواں کے شوہر نہال فقیر کی جانب سے بلند کیے جانے والے الاپ کا جواب قبر سے آنے لگا اور کافی دیر تک قبر کے اُوپر نہال فقیر اور قبر کے اندر مائی جیواں ساتھ گاتے رہے۔
یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر گاتے گاتے وہیں نہال فقیر کی زندگی بھی تمام ہوئی۔
مائی جیواں کے بعد لگ بھگ ڈھائی، تین سو سال تک پھر کسی عورت کو درگاہ میں گانے کا موقع نہ مل سکا۔ بھٹ شاہ کے عرس کے موقع پر بڑی بڑی گلوکارائیں آتیں، لیکن وہ درگاہ کے احاطے کے بجائے آڈیٹوریم میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے لوٹ جاتیں کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھٹ شاہ کی درگاہ کے اندر گانے کے کچھ کڑے اصول و ضوابط ہیں۔
یہاں صرف بھٹائی کے راگی فقیر ہی گا سکتے ہیں، جو اُن کے مرید بھی ہوں، جنھوں نے سُرتال سیکھا ہو یعنی بےسرے یا شوقیہ گائیک نہ ہوں، جنھیں شاہ سائیں کا کلام یاد ہو اور سب سے بڑھ کر انھیں طنبورہ بجانا بھی آتا ہو۔ اِن خصوصیات کے حامل راگی فقیروں کا ایک خاص یونیفارم بھی ہوتا ہے جو عموما سیاہ یا گہرے نیلے رنگ کے ملبوسات پر مشتمل ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBatool Fatima
200 برس کا انتظار اور بھٹائی کی سورمیوں کی آمد
مائی جیواں پر لگنے والی پابندی کے بعد کسی خاتون نے بھٹ شاہ کے مزار میں نہیں گایا۔
مگر لگ بھگ 200 برس کے انتظار کے بعد سنہ 2017 میں چشم فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ شاہ عبداللطیف کا کلام اُن کی راگی لڑکیاں اُن کی درگاہ میں گا رہی ہیں۔
ان لڑکیوں کے اونچے سُر اور طنبورے سے نکلتی تانیں سندھ سماج میں تبدیلی کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہی تھیں۔
سیاہ لبادے میں سرتاپا خود کو ڈھانپے اور ہاتھ میں اپنے وجود سے وزنی ساز طنبورہ مہارت سے بجاتی یہ دھان پان سی لڑکیاں خود کو ’بھٹائی کی سورمیاں (بہادر عورتیں)‘ کہلواتی ہیں۔
ان میں چھ مقامی اور ایک تائیوانی لڑکی شامل ہیں۔
ان نازک اندام لڑکیوں نے کیسے راگی فقیر بننے کی شرائط پوری کیں اور یہ سورمیاں کیوں کہلاتی ہیں، ان میں سے ایک سورمی جامشورو یونیورسٹی سے کمیونیکیشن ڈیزائن میں گریجویٹ بتول فاطمہ بتاتی ہیں 'تین صدیاں پہلے شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں جن سورمیوں کا ذکر کیا تھا ہم خود کو ان ہی سورمیوں کے طور پر سماج کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔‘
بتول فاطمہ کے مطابق ’ہمیں بھٹائی شاہ کی سورمی بنانے کا تصور ہمارے استاد منٹھار سائیں کا تھا۔ وہ لوگوں کو بتانا چاہتے تھے کہ آج کی لڑکی بھی اتنی ہی بہادر اور مضبوط ہے جیسی شاہ سائیں نے اپنی شاعری میں پیش کی ہے۔ یہ لڑکی بھی سب کچھ کر سکتی ہے۔ اسی خیال کے تحت انھوں نے ہم لڑکیوں کو شاہ سائیں کے راگ سکھائے، کیونکہ عام لوگوں کا خیال تھا کہ لڑکیاں اتنے مشکل راگ نہیں گا سکتیں۔‘
اپنے ابتدائی دنوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’جب پہلی بار شاہ سائیں کا کلام کسی کو گاتے سُنا تو میں بے خود ہو گئی تھی۔ اِن سروں نے گویا میری روح کو چھو لیا تھا۔ میں نے استاد منٹھار سائیں سے سیکھنا شروع کیا، سیکھنے کا جذبہ اتنا شدید تھا کہ صرف 15 دن میں آٹھ سُر سیکھ لیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ بھٹ شاہ کی راگی بننے کے لیے راگیوں کو استاد یعقوب شہید کے مزار پر لے جایا جاتا ہے۔ اُستاد یعقوب کا قتل ہوا تھا۔ یعقوب شہید کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جب گاتے تھے تو آس پاس کی اشیا کو آگ لگ جاتی تھی۔ راگی فقیر بننے کی ابتدا اُن ہی کے مزار پر گانے سے ہوتی ہے۔
بتول مزید بتاتی ہیں کہ ’وہ میرا پاگل پن کا دور تھا۔ راگوں نے مجھے اپنا اسیر کر لیا تھا۔ میں طنبورے کے ساتھ سوتی تھی اور صبح اٹھ کر اسے بجانا شروع کر دیتی تھی۔ اب جبکہ بہت کچھ سیکھ لیا ہے تو زندگی میں کچھ ٹھہراﺅ آ گیا ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر ہم پر تنقید بہت ہوئی مگر اچھی بات یہ تھی کہ ہمارے گھر والے ہمارے ساتھ کھڑے تھے۔‘
بھٹائی شاہ کی اِن سات سورمیوں میں سے ایک سورمی تائیوان سے آنے والی پی لنگ ہانگ ہیں، جو ہاورڈ یونیورسٹی کی طالبہ ہیں اور لطیفی راگ پر تھیسس لکھ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBatool Fatima
لنگ ہانگ کا کہنا ہے کہ اتفاقاً انھیں ایک فیسٹول میں لطیفی راگ سننے کا موقع ملا جس نے انھیں اپنے سحر میں مبتلا کر دیا اور پھر انھوں نے اپنی تحقیق کے لیے لطیفی راگ کا ہی انتخاب کیا اور اسے سیکھنے کے لیے پاکستان آ گئیں اور بھٹائی شاہ کے راگی استاد منٹھار فقیر کے آگے زانوئے تلمذ طے کیا۔
انھوں نے راگ لطیفی سیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے ایک دستاویزی صورت میں بھی محفوظ کیا ہے جس میں درگاہ کے فقیروں اور دیگر متعلقہ افراد کے انٹرویوز شامل ہیں۔
ایک اور سورمی جو اپنا نام نہیں بتانا چاہتیں، اُن کا کہنا ہے کہ ’ہم گا تو رہے ہیں مگر ہمیں اب تک بطور راگی فقیر قبول نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس بار شاہ سائیں کے عرس میں دعوت ہی نہیں دی گئی۔ مرد گائیکوں کا روزگار یہی ہے تو وہ سمجھتے ہیں ہم ان سے مقابلہ کر رہے ہیں یا ان کے حق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہم کسی سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے، ہمیں ہفتے میں صرف ایک دن ہی گانے کی اجازت دی جائے۔‘
سات سورمیاں، سات کہانیاں
سند ھ کی سرزمین صوفی ازم کے لیے بہت زرخیز تصور کی جاتی ہے۔ یہاں قدم قدم پر درگاہیں، مزار اور خانقاہیں موجود ہیں جہاں جوق در جوق حاضری دیتے لوگ اس دھرتی کاحسن ہیں۔ امن، محبت اور بھائی چارہ صوفی ازم کی پہچان ہے اور اہل سندھ کو اپنی اس پہچان پر ناز ہے۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی نے آج سے تین صدیاں قبل اپنی شاعری میں عورت کے کرداروں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا تھا۔ ان کی یہ سات سورمیاں محبت کی لوک داستانوں کی ہیروئنیں ہیں۔ اِن کے نام سسی (پنوں)، ماروی (عمر)، لیلا (چنیسر)، مومل (رانا)، سورٹھ (رائے ڈائچ)، نوری (جام تماچی) اور سوہنی(مہیوال) ہیں۔
بھٹائی شاہ کی شاعری برصغیر کی شاعرانہ روایت سے کچھ ہٹ کر ہے جہاں عورت کے لب و رخسار، قد و قامت اور زلف و ابرو کی بات نہیں کی بلکہ عورت کے کردار کو مثالی انداز میں بیان کیا ہے۔
ان کے ہاں عورت ایک انسان ہے جس کا حُسن اس کا کردار ہے۔ انھوں نے کہیں بھی عورت کو محض عورت ہونے کی وجہ سے کردار نہیں بنایا بلکہ ان کے نزدیک عورت میں فطری طور پر بہادری، لگن اور حوصلہ موجود ہوتا ہے اور اُس کے جذبے ہوس سے پاک اور خالص ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری کی تمام عورتیں مردوں سے کہیں زیادہ فعال نظر آتی ہیں اور بلاشبہ انھیں ہیرو کہا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مٹھی کالج تھرپارکر کے پروفیسر اور مشہور محقق نور احمد جھنجی کے مطابق بھٹائی صاحب کے کلام میں عورت عاشق کا کردار ادا کرتی ہے اور اپنے محبوب کو پانے کے تمام جتن عورت ہی کرتی ہے۔ مثلا سوہنی چناب پار کر کے مہیوال سے ملنے جایا کرتی تھی۔ سسی پنوں کے بچھڑ جانے کے بعد اسے ڈھونڈنے کے لیے خود ویرانوں اور بیابانوں کی خاک چھانتی ہے اور بالآخر فنا ہو جاتی ہے۔
’سسی پنوں‘ کی داستان پر برصغیر کی دیگر زبانوں کے شعرا نے بھی شاعری کی ہے مگر فرق یہ ہے کہ شاہ صاحب نے اس داستان کو 'لو سٹوری' کے بجائے 'سسی' کے کردار کو جہد مسلسل اور قربانی کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔
نور احمد صاحب کے مطابق، شاہ صاحب لکھتے ہیں ’سسی، پنوں کو ڈھونڈ رہی ہے، اس کے سامنے ایک مقصد ہے۔ وہ اپنے ساتھ چلنے والی سہیلیوں کو مصیبت سے بچانے کے لیے کہتی ہے کہ آگے بیاباں ہے کوئی میرے ساتھ نہ چلے۔ پانی نہیں ہے، ایسا نہ ہو تم پریشان ہو کر مبادا میرے پنوں کے لیے غلط بات کرو۔ میں نے پنوں کے لیے یہ پیاس قبولی ہے اور جن کے اندر پیاس ہوتی ہے پانی ان کے لیے پیاسا ہوتا ہے۔‘
نور احمد صاحب مزید بتاتے ہیں کہ شاہ سائیں کا ایک کردارمومل بھی ہے جو کہ ایک عقلمند عورت کا کردار ہے۔ یہ جیسلمیر کے راجہ کی سات بیٹیوں میں سے ایک تھیں۔
ان کا محل دریائے کاک جیسلمیر کے کنارے سرخ پتھروں کا بنا ہوا تھا۔ اس دریا کا پانی بھی سرخی مائل تھا۔ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے کہ کس طرح وہ اپنے والد کا لوٹا ہوا خزانہ واپس لاتی ہے اور کس طرح اپنے شوہر، رانا (عمر کوٹ کے راجا ) کا انتخاب کرتی ہے۔ پھر اس کے ساتھ سندھ چلی آتی ہے۔ آج بھی عمر کوٹ میں ’مومل کی ماڑی (محل)‘ کی علامات موجود ہیں۔
اس کہانی میں مومل وفا میں گندھے کردار کی علامت بھی ہے جو رانا کے بچھڑنے کے بعد بے قرار رہتی ہے۔
ملیر کی ماروی کی کہانی سب جانتے ہیں کہ وہ عمر بادشاہ کے محلات میں بھی بے قرار رہتی اور اپنے وطن اور اپنے لوگوں کے لیے تڑپتی رہتی۔
یہ بھی پڑھیے
’بہتر ہوگا کہ آپ عورت والا حصہ عورتوں سے گوائیں‘
استاد منٹھار بھٹ شاہ کے باقاعدہ راگی فقیر ہیں۔ ان کے بے شمار مرد شاگرد ہیں مگر انھوں نے لڑکیوں کو بھی لطیفی راگ سکھا کر اور انھیں بھٹائی شاہ کی سورمی کے طور پر پیش کر کے سماج میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
اس انقلابی اقدام کی ابتدا انھوں نے گھر سے کی اور اپنی دونوں بیٹیوں صابرہ اور غلام سکینہ کو نہ صرف یہ راگ سکھائے بلکہ انھیں طنبورہ بجانے کی بھی تربیت دی۔

،تصویر کا ذریعہBatool Fatima
استاد منٹھار کا کہنا ہے کہ ’شاہ سائیں کا کلام امن اور محبت کا درس دیتا ہے۔ آپ جتنے غصے میں بھی ہوں یہ کلام گائیں یا صرف سُن ہی لیں تو آپ کے اندر ٹھنڈک اُتر جاتی ہے۔ ضد اور انا سب مر جاتی ہے، اندر پیار ہی پیار پھیل جاتا ہے۔‘
انپوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری بچیاں بھی گا سکتی ہیں، شاید میں بھی نہیں سوچتا اگر آسٹریا کے ایک شو میں ایک خاتون اس طرف توجہ نہ دلاتیں۔ ہم شاہ سائیں کا کلام گاتے ہوئے دو آوازیں نکالتے ہیں، ایک اپنی یعنی مردانہ آواز اور جب عورت کے بول ہوتے توہم آواز کو باریک کر کے عورت کی آواز نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
’اس شو میں ایک خاتون نے کہا کہ کیا بہتر نہیں ہوگا کہ آپ عورت والا حصہ عورتوں سے ہی گوائیں۔اس سے شاہ صاحب کا کلام زیادہ پُراثر ہو گا۔ یہ بات میرے اندر بیٹھ گئی تھی۔ میں جتنا اس بارے میں سوچتا رہا، میرا خیال پختہ ہوتا چلا گیا۔ اس خواب کو تعبیر کرنے میں پی لنگ نے بہت مدد دی۔‘
’میں ڈرتا تھا کہ لوگ لڑکیوں کے گانے کو غلط سمجھیں گے مگر پی لنگ نے میرا حوصلہ بڑھایا۔ میں نے پی لنگ کے ساتھ اپنی دونوں بیٹیوں کو بھی راگ سکھائے، پھر اس گروپ میں بتول فاطمہ شامل ہوئیں اور دیگر لڑکیاں بھی۔ آج یہ سات سورمیاں میرا وہ خواب ہے جس کی تعبیر ایک روشنی بن کر پھیل رہی ہے۔ لوگ اب بھی باتیں بناتے ہیں مگر مجھے اب پروا نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ شاہ سائیں لکھتے ہیں کہ تم چاہے جتنے بڑے مرد ہو جاﺅ ماروی جیسے نہیں ہو سکتے جس نے اپنے وطن ملیر کی مٹی اورجھونپڑوں کو ہیرے جواہرات اور محلات پر ترجیح دی تھی۔
’انھوں نے سوہنی کو بھی بغاوت کی علامت بنا کر سماج کو پیغا م دیا کہ لڑکی کو بھی اپنا شریک حیات پسند کرنے کا حق ہے۔ سوہنی مہیوال کی سوہنی نے گھر والوں کی پسند ٹھکرا دی تھی اور بہت دلیری سے آدھی رات کو دریا پار کر کے اپنے محبوب سے ملنے جایا کرتی تھی، اس کہانی کو جس سُر میں بیان کیا جاتا ہے اس سُر کا نام بھی سوہنی ہے اور اسے گایا بھی آدھی رات کے بعد جاتا ہے۔‘
بھٹائی شاہ کے کلام میں 31 راگ ہیں۔ ہر سر ایک الگ کہانی ہے۔ سات محبت کی کہانیاں ہیں۔ صرف سر سسی کو چار مختلف راگوں میں گایا گیا ہے۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی کی درگاہ کے گدی نشیں سید وقار حسین شاہ ایک تعلیم یافتہ سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد کچھ عرصے تک تو اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ ہوتا رہا مگر پھر لوگ اپنے اصل کی طرف لوٹ آئے اور انتہا پسندی کی لہر میں لوگوں نے صوفی ازم میں پناہ حاصل کی۔
اس سال شاہ عبدالطیف بھٹائی کے عرس کے موقع پر اگرچہ ان راگی سورمیوں کو گانے کے لیے دعوت نہیں دی گئی جس سے وہ کچھ مایوس ضرور ہوئیں مگر ان کے حوصلے بلند ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ جب تین صدیاں پہلے شاہ سائیں کی سورمیاں اتنی طاقت ور تھیں تو یہ تو 21ویں صدی ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کی صدی، اور آج کی عورت اتنی طاقت ور ضرور ہے کہ وہ اپنی جگہ حاصل کر سکتی ہے، انتظار صرف صحیح وقت کا ہے!











