پروفیسر منظور احمد: ترقی پسند تعلیمی ادارے ’شاہ حسین کالج‘ کا باب بند ہو گیا

،تصویر کا ذریعہRawail Sirmad
- مصنف, ثقلین امام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
عموماً تعلیمی ادارے کئی برسوں کے مسلسل کام کے بعد ایک نسل تیار کر پاتے ہیں جو سماج میں بہتری کے لیے اپنے نقوش چھوڑتی ہے، لیکن لاہور میں بننے والا شاہ حسین کالج منفرد ادارہ کہا جا سکتا ہے جس نے اپنی زندگی کے تین برسوں میں وہ پلیٹ فارم دیا جس نے اگلی کئی دہائیوں کے لیے معاشرے اور سول سوسائٹی کو ایک لبرل بیانیہ دیا۔
شاہ حسین کالج کو اسلامیہ کالج لاہور سے نکالے جانے والے نفسیات کے پروفیسر منظور احمد نے شروع کیا تھا۔ پروفیسر منظور کے ہمراہ پروفیسر ایرِک سیپرین اور پروفیسر امین مغل کو مبینہ طور پر اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت ملازمتوں سے نکالا گیا تھا۔
پروفیسر منظور احمد بدھ کو لاہور میں 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے ساتھ ہی شاہ حسین کالج کی تاریخ مکمل ہو گئی۔
شاہ حسین کالج سنہ 1969 میں قائم ہوا تھا اور صرف ان کے کنٹرول میں ایک نجی ادارے کے طور پر رہا تھا۔ لیکن ان تین برسوں میں اس نے دور رس اثرات چھوڑے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کالج کا نام شاہ حسین اس لیے رکھا گیا تھا کہ لاہور کے نواحی علاقے باغبانپورہ میں سولہویں صدی کے مادھو لال اور شاہ حسین دو صوفی دوستوں کے نام سے ایک درگاہ ہے جہاں ہر برس شہر کے سب سے بڑے میلہ چراغاں کا انعقاد ہوتا ہے۔
شاہ حسین اپنے نظریات میں انسانی رشتوں کو مذہب کی تفریق سے بالا تر سمجھتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہRawail Sirmad
لاہور کے سینیئر صحافی اور اس وقت کیمبرج یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو مجید شیخ کے بقول جس زمانے میں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی جیسی قد آور شخصیات موجود تھیں انھی میں پروفیسر ایرِک سیپرین، پروفیسر منظور احمد اور پروفیسر امین مغل جیسے لوگ کسی سے کم نہیں سمجھے جاتے تھے۔
اساتذہ کا ردعمل
مجید شیخ کہتے ہیں کہ پروفیسر منظور جیسی قد آور شخصیت اور ان کے ساتھ پروفیسر ایرِک سیپرین اور پروفیسر امین مغل کو جب ملازمتوں سے نکالا گیا تھا تو پڑھے لکھے طبقوں میں اس پر کافی بات ہوئی اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اُس زمانے کی پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر اور بائیں بازو کے دانشور، پروفیسر عزیزالدین احمد کہتے ہیں کہ اسلامیہ کالج سے ان اساتذہ کے نکالے جانے کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔
’اور اس کی بدولت ہم نے یونیورسٹی کی ایسوسی ایشن کے انتخابات میں جماعت اسلامی کو شکست دی۔‘
پروفیسر عزیزالدین احمد مزید کہتے ہیں کہ یہ وہ زمانہ تھا جب بائیں بازو کے نظریات والے سیاسی کارکنوں پر کی جانے والی سختی میں کمی آئی تھی، لیکن جماعتِ اسلامی کا اثر و نفوذ بہت زیادہ تھا اور وہ کسی بھی بائیں بازو والے استاد یا صحافی کو ٹکنے نہیں دیتی تھی، ان کے خلاف کوئی نہ کوئی مہم چلاتی رہتی تھی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم یہ سمجھتے تھے کہ سنہ 1965 کے بعد جب پاکستان امریکہ سے دور ہونے کے بعد چین کے قریب آ گیا ہے تو شاید بائیں بازو کے حمایتوں کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ لیکن اداروں میں جماعتِ اسلامی کی بھرمار تھی اس لیے تعلیمی اداروں اور صحافت میں بائیں بازو کے حامیوں کی بیخ کنی کے لیے وِچ ہنٹنگ کا سلسلہ جاری رہا۔‘
پروفیسر منظور کے ساتھی، امین مغل کہتے ہیں کہ اسلامیہ کالج لاہور اصل میں انجمنِ حمایتِ اسلام کا ایک تعلیمی ادارہ تھا جو کہ ایک قدامت پسند تنظیم تھی۔ اُس زمانے میں اساتذہ کو بہت کم تنخواہ ملتی تھی اور نجی اداروں میں تو دیگر مراعات کا بھی فقدان تھا۔
پروفیسر مغل کے مطابق 'ہم نے اساتذہ کےحقوق کے لیے ایک ایسوسی ایشن بنائی ہوئی تھی۔ لیکن چونکہ ہماری جدوجہد ایک ایسے وقت میں ہو رہی تھی جب ایوب خان کے خلاف سڑکوں پر تحریک چل رہی تھی تو ہماری تحریک کو اِس سیاسی تحریک کا ایک حصہ سمجھا گیا اور ملازمتوں سے برخاست کر دیا گیا۔`
امین مغل جنھیں بعد میں جب جنرل ضیا الحق کے دور میں گرفتار کیا گیا اور ایجنسیوں کے عقوبت خانے میں اُن پر جسمانی تشدد کیا گیا تھا، وہ پروفیسر منظور کے ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پروفیسر منظور خاموش طبع شخص تھے لیکن خاموشی ہی خاموشی میں بڑا کام کر جاتے تھے۔'
فرینڈز ناٹ ماسٹرز
پروفیسر عزیزالدین احمد کہتے ہیں کہ ’جب بائیں بازو کے اساتذہ کو نشانہ بنا کر نوکریوں سے نکالے جانے کا سلسلہ شروع ہوا تو چند دوستوں نے سوچا کہ اب درس و تدریس کا کام چھوڑ کر کچھ اور کام کرتے ہیں۔ لیکن پروفیسر منظور نے کہا کہ ہم ایک ایسا ادارہ بنائیں گے جہاں نظریات سے مبرا تعلیم کو فروغ دیا جائے گا۔‘
یہ وہ وقت تھا جب کمیونسٹ یا آزادانہ خیالات کی وجہ سے کالج یا یونیورسٹی کے استاد پر ملک دشمن یا اسلام دشمن سرگرمیوں کا الزام لگا کر نوکری سے نکالا جا سکتا تھا۔ پاکستان میں آزادی کے بعد سب سے پہلے جس پارٹی پر مصیبت آئی تھی وہ کمیونسٹ پارٹی ہی تھی۔
پاکستان کے امریکی اتحادی بننے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے آپ کو کمیونسٹ مخالف ملک کے طور پر پیش کرے۔ اس لیے حکومتیں اپنے مخالفین پر عموماً انڈین ایجنٹ یا کمیونسٹ ایجنٹ کا الزام لگا کر پاندیاں عائد کرتی تھی۔
اسی زمانے میں طالب علم رہنما حسن ناصر کو بھی عقوبت خانے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ اسی دور میں ایوب خان کی خود نوشت سوانح عمری 'فرینڈز، ناٹ ماسٹرز' شائع ہوئی اور توقع یہ تھی کے اب صدر ایوب خان کی پالیسی میں امریکہ سے شکوے شکایتیں بڑھ رہی ہیں تو شاید دائیں بازو کے حامیوں کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ دائیں بازو کے حامیوں کے خلاف جنرل ایوب شروع ہی سے تھے جنھوں نے چند جرنیلوں کو سوشلسٹ کہہ کر برطرف بھی کیا تھا۔
اگرچہ کچھ محققین اصرار کرتے ہیں کہ کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر سنہ 1950 کی پہلی منظم فوجی بغاوت کی گئی تھی، لیکن کئی دیگر مورخین کا دعویٰ ہے کہ یہ بغاوت کبھی ہوئی ہی نہیں تھی۔ اس مبینہ بغاوت میں شامل افراد پر ایک خصوصی ٹرابیونل میں مقدمہ چلایا گیا جو راولپنڈی سازش کیس ٹرابیونل کہلاتا ہے۔
حب الوطنی کا معیار
شاید اسی لیے ٹفٹ یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر عائشہ جلال راولپنڈی سازش کیس کی کمیٹی کے سیکریٹری کی اس رائے کو مسترد نہیں کرتی ہیں کہ یہ سارا ڈرامہ تھا جو امریکی اور برطانوی انٹیلی جینس نے پاکستانی فوج سے بہترین قسم کے محب وطن افسران کو نکالنے کے لیے تیار کیا تھا۔
راولپنڈی سازش کیس میں اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل اکبر خان، کے ہمراہ ایک درجن فوجی افسران کے علاوہ بائیں بازو کے دانشور اور شاعر فیض احمد فیض اور کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سجاد ظہیر پر خصوصی ٹرابیونل میں بغاوت کا مقدمہ چلا تھا اور پھر انھیں سزائیں دی گئیں تھیں۔
مختصراً سنہ 50 اور 60 کی دہائیوں میں پاکستان کی سرکاری پالیسیوں پر کمیونسٹ مخالف اور امریکی حامیوں کا غلبہ رہا۔ جب ایوب خان کے خلاف تحریک چل رہی تھی تو غالباً وہ خود امریکہ کے حاشیا بردار نہیں رہے تھے، لیکن پالیسیاں چلانے والے وہی مذہبی عناصر تھے جو بعد میں جنرل یحیٰ خان کے اتحادی بنتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRawail Sirmad
پروفیسر عزیزالدین احمد کہتے ہیں کہ ان حالات میں کوئی بھی انسانیت دوست یا لبرل خیالات کا حامل اسلام پسندوں کے لیے کافر یا کمیونسٹ سے کم نہیں ہوتا تھا۔
’اگر ایسے نظریات کا کوئی شخص صحافی ہوتا تھا اس کے لیے کسی اخبار میں کام کرنا مشکل ہوتا تھا اور اگر وہ پڑھاتا تھا تو اس کے لیے تعلیمی ادارے میں رہنا مشکل تھا۔‘
شاہ حسین کالج کے لیے وسائل
ان حالات کے پس منظر میں ملازمتوں سے نکلنے کے بعد پھر سے کالج کے آغاز کا خیال اس زمانے میں شاید پروفیسر منظور جیسا ہی شخص سوچ سکتا تھا۔ پروفیسر منظور احمد لاہور کی ایک متمول برادری ککے زئی سے تعلق رکھتے تھے جن کا پاکستان کی عدلیہ اور وکلا برادری میں بہت بڑا حصہ تھا۔
منظور احمد نے اپنی ذات کے لیے مدد مانگنے کے بجائے لاہور شہر کے دانشوروں کو کام کرنے کا موقع پیش کیا۔ اپنے ذاتی تعلقات کی وجہ سے انھوں نے لارنس روڈ پر ایک عمارت کرائے پر حاصل کی۔ اپنے انھی تعلقات کی وجہ سے انھوں نے پنکھوں، فرنیچر، وغیرہ سب کا انتظام کیا اور چند ہفتوں میں کالج عملاً شروع ہو گیا۔
پروفیسر عزیزالدین کہتے ہیں کہ ’منظور کی وجہ سے کئی لوگوں نے اپنی ذاتی لائبریریاں شاہ حسین کالج کو عطیے میں دے دیں تاکہ طلبا کو فائدہ پہنچ سکے۔ اس کالج میں اساتذہ کا ایک وہ طبقہ تھا جو تنخواہ پر کام کرتا تھا جبکہ ایک طبقہ وہ تھا جو رضاکارانہ طور پر کلاسیں لیتا تھا۔‘
رضاکار اساتذہ
کچھ ایسے بھی قابل افراد تھے جو اپنا نام ظاہر کیے بغیر اس ادارے میں پڑھانے یا سیمینار لینے آتے تھے۔ تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ ملکی اور عالمی امور پر مذاکرات اور مباحثوں کا بھی باقاعدگی کے ساتھ اہتمام کیا جانے لگا جن میں ان مضامین کے بڑے بڑے ماہرین لیکچرز دینے آتے تھے۔
پروفیسر مغل کہتے ہیں کہ ’اس زمانے میں لاہور میں صرف دو اوپن ائیر تھیٹر تھے۔ ایک لارنس گارڈن (جسے اب جناح گارڈن کہتے ہیں) میں تھا جبکہ دوسرا گورنمنٹ کالج لاہور میں تھا۔ شاہ حسین کالج میں تیسرا اوپن ایئر تھیٹر اساتذہ اور طلبا نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیا۔‘
شعبۂ پنجابی
پنجاب میں ہمیشہ سے پنجابی زبان کے پڑھنے پر عملی رکاوٹیں رہی ہیں، اور اردو کو زیادہ فروغ دیا گیا۔ لیکن شاہ حسین کالج نے پہلی مرتبہ کالج کی سطح پر پنجابی کا شعبہ بنایا اور ہر کلاس کے لیے پنجابی زبان کی کلاسیں شروع کیں۔
امین مغل کے مطابق، شاہ حسین کالج میں جب پنجابی زبان کا شعبہ بنا تو ایم اے پنجابی کا بھی سلسلہ شروع کیا گیا۔ اور اس کے عملی سربراہ پنجابی دانشور اور شاعر، نجم حسین سید تھے، جن کا نام سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے کالج کے دفتری کاغذات میں ظاہر نہیں کیا جاتا تھا۔
امین مغل کہتے ہیں کہ 'تاہم بعد میں پنجاب یونیورسٹی نے شاہ حسین کالج کے پنجابی کے شعبے کو اپنا لیا اور طلبا سمیت اساتذہ کو اورینٹل کالج کا ایک حصہ بنا لیا۔ نجم حسین جو اکاؤنٹس سروس میں تھے، انھیں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ پنجابی کا سربراہ بنا دیا گیا۔‘
کمپیوٹر سائنس اور فلمسازی
پروفیسر عزیزالدین احمد کہتے ہیں کہ شاہ حسین کالج پاکستان کا پہلا کالج تھا جہاں جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی کے لیے کمپیوٹر سائنسز کی کلاسیں انٹر کی سطح پر شروع کرائی گئیں تھیں۔ ان کے مطابق، لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں صرف انجینیئروں کو کمپیوٹر سے آگاہی دی جاتی تھی۔
پروفیسر امین مغل کہتے ہیں کہ اسی کالج میں پہلی مرتبہ فلم بنانے کی تربیت کا انتظام کیا گیا تھا جس میں کیمرہ شوٹنگ سے لے کر اداکاری، سکرپٹ رائیٹنگ، ہدایت کاری، ایڈیٹنگ اور تمام دیگر پہلوؤں پر عملی اور نصابی تعلیم دی جاتی تھی۔
شاہ حسین کالج کا مقصد
پروفیسر امین مغل کے بقول ’پروفیسر منظور کہتے تھے کہ ہم کسی قسم کی اِن ڈاکٹرینیشن نہیں چاہتے ہیں۔ جبکہ جماعتِ اسلامی تعلیم کو اپنے نظریات کے فروغ کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ ہم نظریاتی آلائیشوں سے پاک تعلیم دیں گے تاکہ نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر معاشرے کی خدمت کرے۔'
شاہ حسین کالج میں اس وقت کے بین الاقوامی شہرت یافتہ دانشور اور ریسرچ سکالرز بھی اساتذہ اور طلبا سے بحث و مباحثے کرتے تھے جن میں حمزہ علوی کا نام کافی معروف ہے۔ اس کے علاوہ مغربی ممالک سے آنے والے کئی دانشور بھی اس کالج میں ائے۔
پروفیسر عزیزالدین احمد کہتے ہیں کہ 'یہ وہ زمانہ تھا جب ہم لبرل، اشتراکی اور فلسفہِ فوجدیت کے علاوہ سارتر، کامیو وغیرہ جیسے لوگوں پر مباحثے کیا کرتے تھے۔ ادب پر بہت معیاری گفتگو ہوتی تھی۔ اساتذہ اور طلبا نئی سے نئی کتابیں پڑھتے اور مکالمہ کرتے۔‘
شاہ حسین کالج کا خیال سنہ 1969 میں آیا تھا اور یہ عملاً اپنے نظریات اور اصل بنانے والوں کے کنٹرول میں سنہ 1972 میں اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں تین برس کے لیے رہا۔ اس کے بعد یہ ایک سرکاری کالج بن گیا لیکن جنرل ضیا الحق کے زمانے میں اس کو آہستہ آہستہ عملاً ختم کر دیا گیا۔
صحافی سرمد منظور کے مطابق شاہ حسین کالج کے طغرے پر درانتی اور ہتھوڑا بنا ہوا تھا اس لیے فوجی حکومت نے اس نشان کو مٹانے کے لیے کالج ہی کو ختم کر ڈالا۔ اب بھی لاہور کے مضافات میں شاہ حسین کالج کے نام سے نجی ادارے موجود ہیں لیکن ان کا شاہ حسین کالج، لارنس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
شاہ حسین کالج کا انجام
پروفیسر امین مغل کہتے ہیں کہ جب شاہ حسین کالج کو قومیا لیا گیا تھا تو اس کے اساتذہ اور دیگر ملازمین سب سرکاری نوکر بن گئے تھے۔ تاہم جنرل ضیاالحق کے زمانے میں جب بائیں بازو کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا تو پروفیسر منظور جیسے دانشوروں پر پھر سے مصیبت نازل ہوئی۔ ’پروفیسر منظور کو میانوالی ٹرانسفر کر دیا گیا جہاں شعبۂ نفسیات ہی نہیں تھا۔‘
امین مغل کو حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرک سیپرین بھی عملی طور غیر فعال ہوگئے۔ شاہ حسین کالج کی یہ ٹیم بکھر گئی۔
پروفیسر منظور نے اپنے ٹرانسفر آرڈر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا جس کا فیصلہ کئی برس کے بعد ان کے حق میں سنہ 90 میں ہوا۔ اس دوران انھیں تنخواہ نہیں دی گئی اور وہ سخت مالی مشکلات کا شکار رہے، لیکن بقول امین مغل کے ’ان کی وضع داری میں کبھی فرق نہیں پڑا اور نہ خوش مزاجی میں کمی آئی۔‘
پروفیسر امین مغل خود جب فوجی قید سے رہا ہوئے تو وہ پاکستان سے ہجرت کر کے لندن چلے گئے اور پھر پاکستان نہیں گئے، اگرچہ انھوں نے ابھی تک پاکستانی پاسپورٹ ہی رکھا ہوا ہے۔ پروفیسر ایرک سیپرین لاہور سے ہجرت کر کے اسلام آباد چلے گئے جہاں انھوں نے جزو وقتی صحافت اور تدریس کا کام پھر سے شروع کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہRawail Sirmad
پروفیسر منظور کی ذاتی زندگی
مجید شیخ کے مطابق، پروفیسر منظور احمد سنہ 1926 میں بغداد میں پیدا ہوئے تھے۔ صحافی سرمد منظور احمد جو پروفیسر منظور کے بیٹے ہیں، بتاتے ہیں کہ ان کے دادا، خان صاحب منظور بغداد میں واحد برطانوی پولیس کے افسر تھے۔ جب ان کے والد وہاں پیدا ہوئے تھے۔ جب وہ چار برس کے تھے تو منظور واحدی کا دہلی ٹرانسفر ہو گیا۔
پروفیسر امین مغل بتاتے ہیں کہ منظور واحد برطانوی انڈین پولیس میں انٹیلی جنس افسر تھے۔ ان کے بقول پروفیسر منظور نے بتایا تھا کہ بغداد میں ان کی آیا ایک کرد خاتون تھی جو انھیں کرد زبان میں لوریاں سناتی تھی جو انھیں کچھ کچھ بعد تک بھی یاد رہیں۔
امین مغل کہتے ہیں 'منظور واحد (پروفیسر منظور کے والد) انٹیلی جنس میں ہونے کی وجہ سے لارنس آف عریبیہ سے رابطے میں تھے۔ لیکن وہ ساتھ ساتھ اُس زمانے میں تحریکِ خلافت کے رہنماؤں کی خفیہ مدد بھی کرتے تھے۔ جب انگریزوں کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے ان کو نوکری سے برطرف تو نہیں کیا لیکن ترقی بھی نہ دی۔‘
پروفیسر منظور کی ابتدائی تعلیم لاہور کے سینٹرل ماڈل سکول میں ہوئی جو اپنے دور کا بہترین اردو میڈیم سکول تھا۔ ایف سی کالج سے گریجویشن کی اور پھر وہیں سے نفسیات میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد اپنے وقت کے معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر آئی لطیف کے ساتھ نفیساتی مریضوں کا علاج بھی کرتے تھے۔
سنہ پچاس کی دہائی میں انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں نفسیات کے لیکچرر کے طور پر ملازمت شروع کی۔ اور سنہ 60 کی دہائی میں وہ شعبے کے سربراہ بن گئے۔ اسی کالج میں رہتے ہوئے انھوں نے مغربی پاکستان کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کی قیادت سنبھالی اور اساتذہ کے حقوق کے لیے تحریک چلائی۔
سنہ 90 میں جب وہ مقدمہ جیتنے کے بعد نوکری پر بحال ہوئے تو انھیں لاہور کے ایم اے او کالج میں شعبہِ نفسیات کا سربراہ تعینات کیا گیا۔ اسی دوران انھیں اپنے سب سے بڑے بیٹے کی بیماری کا علم ہوا جس نے انھیں جھنجوڑ دیا تھا۔
جب پروفیسر منظور کے بڑے بیٹے اسد منظور کے برین ٹیومر کی تشخیص ہوئی تو اس کے علاج سے لے کر موت تک کے سفر کو انتہائی بردباری اور صبر کے ساتھ جھیلا۔
امین مغل کہتے ہیں کہ ’پروفیسر منظور بہت ہی وضع دار، خوش لباس شخص تھے۔ پنجابی کی معروف شاعرہ امرتا پریتم اور آرٹسٹ امرتا شیر گِل سے ان کے ذاتی مراسم بھی تھے۔‘
پروفیسر منظور نے ہمیشہ دوسروں کو امید دلائی، دوسروں کے مسیحا بنے لیکن اپنا گھر نہ خرید سکے، ہمیشہ کرائے کے مکان میں رہے۔ انھوں نے زندگی میں کئی عروج و زوال دیکھے، زندگی کی بے ثباتیاں دیکھیں، لیکن ایک بات جو کبھی نہیں بدلی وہ ان کی ناقابلِ فراموش خفیف سی مسکراہٹ۔










