آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے لیڈی ہیلتھ ورکرز کا حکومتی پالیسوں کے خلاف دھرنا
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا ڈی چوک اور پارلیمان کے سامنے کا علاقہ ایک مرتبہ پھر احتجاج کا مرکز دکھائی دے رہا ہے تاہم اس مرتبہ حکومت کے خلاف یہ احتجاج کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ سرکاری ملازمین کر رہے ہیں۔
مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جناح ایونیو پر دھرنا دیا جن میں سے زیادہ تعداد لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ہے جن کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات مان نہیں لیتی وہ اس وقت تک دھرنا ختم نہیں کریں گے۔
پولیس کے خفیہ محکمے سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق خواتین مظاہرین کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق ملک بھر سے مزید لیڈی ہیلتھ ورکرز اسلام آباد میں دھرنے میں شریک ہونے کے لیے آ رہی ہیں۔
منگل کو لیڈی ہیلتھ رورکرز کے ساتھ ساتھ دھرنا دینے والوں میں آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن، پاکستان ورکس ڈپارٹمنٹ اور دیگر محکموں کے ملازمین بھی شامل تھے تاہم رات گئے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی یقین دہانی کے بعد ان سرکاری ملازمین نے وقتی طور پر دھر نا ختم کردیا ہے۔۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنظیم کی صدر رخسانہ انور کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ سے نہ تو ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کا سروس سٹریکچر بنایا جا رہا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پانچویں سکیل میں بھرتی ہوتی ہیں اور تمام عمر اسی سکیل میں گزار کر ریٹائر ہو جاتی ہیں جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہچننے تک بھی ان کی تنخواہ 18ہزار روپے سے زیادہ نہیں بڑھتی۔
رخسانہ انور کا کہنا تھا کہ ’لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں جبکہ اس مہم کے دوران درجنوں لیڈی ہیلتھ ورکرز شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں اور حکومت نے اس ضمن میں کچھ بھی نہیں کیا۔‘
لیڈی ہیلتھ ورکرز یونین کی صدر نے صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب بھی ان کے سامنے لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنے مطالبات رکھے تو انھوں نے تعلیم نہ ہونے کا طعنہ دیکر مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے آٹھویں پاس کی تعلیم رکھی گئی تھی اور اگر صوبائی حکومت کو یہ تعلیم کم لگتی ہے تو پھر ایم بی بی ایس پاس کرنے والوں کی ڈیوٹی لگایئں کہ وہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے علاوہ صحت سے متعلق دوسرے امور بھی انجام دیں۔‘
رخسانہ انور کا کہنا تھا کہ مطالبات کے حوالے سے صوبائی حکومت کہتی ہے کہ ان کا مسئلہ وفاقی حکومت حل کرے گی جبکہ وفاقی حکومت کے پاس جاتے ہیں تو ان کا کہا ہے کہ چونکہ صحت کا محکمہ صوبائی معاملہ ہے اس لیے ان کے مطابات پورے کرنے کا متعقلہ فورم صوبائی حکومتیں ہی ہیں۔
اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ ’وفاقی حکومت صحت کے نام پر عالمی ادارہ صحت کے علاوہ دیگر بین الاقوامی اداروں سے کروڑوں ڈالر حاصل کرتی ہے لیکن لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات پورے کرنے کے لیے حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں۔‘
رخسانہ انور کا کہنا تھا کہ اس دھرنے میں بہت سی لیڈی ہیلتھ ورکرز شدید بیماری کے باوجود شریک ہیں اور وہ کسی طور پر بھی اس دھرنے سے نہیں جائیں گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہو جاتے۔
اُنھوں نے کہا کہ جس جگہ پر دھرنا دیا ہوا ہے وہاں پر کوئی بیت الخلا بھی نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود خواتین مظاہرین اپنے مطالبات کے حل کے لیے ڈٹی ہوئی ہیں۔
اب تک لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ حکومت کے مذاکرت کے دو دور ہو چکے ہیں لیکن یہ دونوں دور ناکام ہوئے ہیں۔ ابھی تک حکومت کا کوئی منتحب نمائندہ یا خاتون وزیر ان لیڈی ہیلتھ ورکرز کے پاس نہیں پہنچی۔
رخسانہ انور کا کہنا تھا کہ جن بیوروکریٹس نے ان کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں ان کے پاس ان کے مسائل حل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے ان سے رابطہ کر کے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ان کے مطالبات کے حوالے سے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے لیکن ان سیاسی جماعتوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اپنی اس تحریک کو سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں نہیں دیں گے۔
حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے منگل کو دھرنے کے مقام کا دورہ کیا اور مظاہرین کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ خیال رہے کہ سرکاری ملازمین کا یہ احتجاج ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب جمعے سے حزبِ اختلاف کا اتحاد پی ڈی ایم حکومت کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز بھی کر رہا ہے۔
اسلام آباد کے جناح ایوینیو پر سڑک کے ایک کنارے لیڈی ہیلتھ ورکرز بیٹھی ہوئی ہیں تو دوسرے کنارے پر منگل کی رات تک وہ مرد سرکاری ملازمین بیٹھے تھے جو موجودہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے، سروس سٹریکچر میں ممکنہ تبدیلی اور مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے صدر حاجی ارشاد کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے حکومت کی یقین دہانی پر دھرنا وقتی طور پر ختم کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے یہ یقین دہائی کروائی گئی ہے کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہےجو جلد ہی اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔
آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے صدر حاجی ارشاد کا کہنا ہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا اور اس کے برعکس اشیا خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مہنگائی کے اس دور میں جہاں لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے وزیر اعظم کا گزارا نہیں ہوتا تو وہاں چند ہزار روپے تنخواہ لینے والے نچلے گریڈ کے سرکاری ملازمین کیسے اپنے اہلخانہ کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے سوچی سمجھی سازش کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا۔
حاجی ارشاد نے الزام عائد کیا کہ ’حکومت سرکاری ملازمین کی ریٹائرمٹ کی عمر میں پانچ سال کی کمی کر کے 60 سال سے 55 سال تک کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس ضمن میں قانون کا مسودہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر سرکاری ملازمین کے الاونسز میں بھی کمی کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔
آل پاکستان کلرکس ایسویسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے سمیت دیگر سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظمیوں نے اُنھیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے کہ اگر حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو وہ بھی دوبارہ ہونے والے احتجاج میں شریک ہوں گے۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے لیے مشکلات
لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سرکاری ملازمین کے دھرنے کے باعث وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں اور بلخصوص خواتین مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے ان کے پاس خواتین پولیس اہلکار بہت کم ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق اس وقت لیڈی ہیلتھ ورکرز کے دھرنے کو کنٹرول کرنے کے لیے 40 کے قریب خواتین پولیس اہلکار تعینات ہیں جن میں چند لیڈی پولیس کمانڈوز بھی ہیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق اگرچہ ان لیڈی پولیس اہلکاروں کے لیے مرد پولیس اہلکار اور رینجرز کے جوان موجود ہیں لیکن ان کو اس طرف نہیں بھیجا جارہا جہاں پر لیڈی ہیلتھ ورکرز دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
اہلکار کے مطابق مرد پولیس اہلکار سڑک کے اس کنارے پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جہاں پر سرکاری ملازمین دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مظاہرین اور حکوت کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ کوشش ہو گی کہ مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں تاکہ مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو جائیں۔ حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ شہر میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ انتظامات کیے گئے ہیں۔
خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو رپورٹ بجھوائی ہے کہ اگر پاک سیکرٹریٹ میں کام کرنے والے ملازمین کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی اس احتجاج میں شریک ہوئے تو ریڈ زون میں امن وامان کی صورت حال خراب بھی ہوسکتی ہے۔