کورونا وائرس: دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کورونا وبا کی دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر خطے میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کووڈ 19 کے دوبارہ بڑھتے ہوئے متاثرین کے سامنے آنے کے بعد چار اکتوبر کو مظفر آباد میں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔

جبکہ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی گذشتہ روز ٹویٹ کے ذریعے ملک میں موسم سرما کے دوران کورونا کی دوسری لہر کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مظفر آباد اور راولاکوٹ کے اضلاع میں کووڈ 19 کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے عمل کو یقینی بنائیں اور دو دن کے اندر جامع اور موثر تجاویز پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ کورونا پر پاکستان کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 46 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی جو گذشتہ ماہ آٹھ ستمبر کےبعد سے یومیہ متاثرین سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 'دنیا کی بڑی معاشی طاقتیں بھی سختی سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور تمام وسائل فراہم کرنے کے باوجود اس وبائی مرض کے تباہ کن اثرات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں۔ ہمارے پاس وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے محدود وسائل ہیں لہٰذا ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تمام طبقات اصولی طور پر احتیاطی ضابطہ کار پر عمل پیرا ہوں۔'

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے خطے کے داخلی مقامات پر نگرانی بڑھانے کے ساتھ تعلیمی اداروں، دفاتر اور بازاروں میں احتیاطی ضابطہ کار (ایس او پیز) پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے مذہبی اجتماعات کے ساتھ سیاسی اور سماجی اجتماعات کو بھی محدود کرنے کا کہا تاکہ وائرس کو روکنے میں مدد ملے۔

اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ گھر سے باہر اور دفاتر میں ماسک کی مکمل پابندی کروائی جائے گی اور خلاف ورزی پر جرمانہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی کورونا متاثرین میں اضافے کے بعد شہر کے پانچ اضلاع میں 15 روز کے لیے مائیکرو لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت لوگوں کو درپیش مشکلات سے پوری طرح بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'لوگوں کو یہ یاد دلانے کے لیے ایک نئی مہم چلانے کی ضرورت ہے کہ پابندیوں کا نفاذ ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔'

صحافی ایم اے جرال کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے ترجمان راجہ وسیم کا کہنا ہے کہ 'خطے کے تمام محکمہ جات کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ دو دن کے اندر ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور ریاست میں جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن کے بارے میں تجاویز دیں۔'

ان کے مطابق تمام خارجی و داخلی راستوں، تمام سرکاری و نجی اداروں اور تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کے متعلق ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'خطے میں نجی و سرکاری اداروں سمیت عوام کورونا کے مروجہ احتیاطی ضابطہ کار پر عمل نہیں کر رہی، نہ ماسک ک استعمال ہو رہا ہے نہ ہی سماجی فاصلہ اختیار کیا جا رہا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ کورونا ختم ہو گیا ہے۔'

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ مختلف سرکاری تعلیمی اداروں کے علاوہ متعدد محکمہ جات میں کورونا کے متاثرین سامنے آنے کے بعد انھیں سیل کیا گیاتھا۔

جبکہ آج بھی محکمہ لوکل گورنمنٹ میں کورونا متاثرین سامنے آنے کے بعد اسے عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق خطے میں کووڈ 19 کے مریضوں کا تناسب 8.3 فیصد ہے جو پاکستان کے کسی بھی دوسرے صوبے سے زیادہ ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اب تک 48 ہزار 941 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر دو ہزار 862 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

جبکہ خطے میں وائرس کے باعث ہلاکتوں کی کل تعداد 76 ہے۔ جبکہ 2 ہزار 431 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔