آذربائیجان، آرمینیا تنازع: ’کیا پاکستان کشمیر پر حمایت کے بدلے میں ترکی کا احسان چکا رہا ہے؟‘

گیٹی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ناگورنو قرہباخ کے متنازع خطے میں جھڑپیں شروع ہوئی ہیں جس میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ آرمینیا نے کچھ علاقوں میں مارشل لا نافذ کرتے ہوئے اپنی افواج کو متحرک کر دیا ہے۔

اتوار کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس نئے بحران میں آذربائیجان کی حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آرمینیا علاقائی امن و امان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘ جبکہ روس اور امریکہ کی جانب سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان کے دفترِ خارجہ سے لے کر سوشل میڈیا تک بظاہر ہر کوئی آرمینیا کے مقابلے میں آذربائیجان کی حمایت کرتا نظر آتا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ناگورنو قرہباخ میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے آرمینیا سے فوجی کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا ہے کہ آرمینیا کی افواج کی جانب سے آذربائیجان کے گاؤں اور شہری آبادیوں پر شدید گولہ باری قابلِ مذمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس اقدام سے پورے خطے کے امن اور تحفظ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے لہذا آرمینیا مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے اپنی فوجی کارروائی بند کرے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ناگورنو قرہباخ پر آذربائیجان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں جو کہ اقوام متحدہ میں متفقہ طور پر منظور کی گئی کئی قراردادوں کے مطابق ہے۔

نقشہ
،تصویر کا کیپشنناگورنو قرہباخ کا خطہ بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا تسلیم شدہ حصہ ہے لیکن سنہ 1994 میں ختم ہونے والی جنگ کے بعد سے اس کا کنٹرول نسلی آرمینیائی باشندوں کے پاس ہے

پاکستان میں گذشتہ رات سے #AzerbaijanIsNotAlone صفِ اول کے ٹرینڈز میں شامل ہے جس میں اب تک تقریباً 50 ہزار ٹویٹس کی جا چکی ہیں۔

ان ٹویٹس میں بیشر پاکستانی آذربائیجان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ کئی افراد کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان کی آذربائیجان کے لیے اس حمایت کے پیچھے دراصل ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا بیان ہے۔

بہت سے لوگ یہ سوال پوچھتے بھی نظر آئے کہ کیا پاکستان تاریخی طور پر آرمینیا، آذربائیجان تنازعے میں واضح انداز میں آذربائیجان کی سائیڈ لیتا رہا ہے اور آرمینیا کو ہدف تنقید بناتا رہا ہے؟ چند لوگ یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان کی آذربائیجان کے لیے حمایت میں ترکی کا بھی کوئی کردار ہے؟

آذربائیجان کے صدر الہام علیئف

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجھڑپیں شروع ہونے کے بعد آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے کہا ہے کہ وہ اس خطے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پراعتماد ہیں

’پاکستان نے روزِ اول سے ناگورنو قرہباخ پر آرمینیا کے ناجائز قبضے کی مذمت کی ہے

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان باہمی تعلقات ہمیشہ سے قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا دوسرا ملک تھا جس نے سنہ 1991 میں آذربائیجان کی آزادی کو تسلیم کیا جبکہ آذربائیجان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک ترکی تھا۔

’درحقیقت ترکی کے آذربائیجان کو تسلیم کرنے کے فقط آدھے گھنٹے بعد پاکستان نے بھی آذربائیجان کو تسلیم کر لیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شروع سے ہی پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہری قربت اور تعلقات رہے ہیں اور آذربائیجان نے ہمیشہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔

مشاہد اللہ سید کا کہنا تھا کہ پاکستان نے روزِ اول سے ناگورنو قرہباخ پر آرمینیا کے ناجائز قبضے کی مذمت کی ہے کیونکہ اس وقت آذربائیجان کے 30 فیصد علاقے پر آرمینیا کا غیرقانونی قبضہ ہے۔

’جس طرح مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں بالکل اسی طرح ناگورنو قرہباخ، آذربائیجان کا حصہ ہے اور ہم دونوں ممالک ان معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔‘

آرمینیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآرمینیا نے آذربائیجان پر فضائی اور توپ خانوں سے حملوں کا الزام لگاتے ہوئے آذربائیجان کے ہیلی کاپٹر گرانے اور ٹینک تباہ کرنے کی اطلاعات دی ہیں

’پاکستان، کشمیر پر حمایت کے بدلے میں ترکی کا احسان چکا رہا ہے‘

تاہم تجزیہ کار اور پنجاب یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے سابقہ پروفیسر رشید خان سینیٹر مشاہد حسین سید سے اتفاق نہیں کرتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں آذربائیجان اور آرمینیا کے تنازع پر پاکستان کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان کا موقف کچھ حد تک محتاط ہوتا تھا۔ اگر ہم اس کو غیر جانبدار نہیں کہہ سکتے تو وہ مکمل حمایت بھی نہیں ہوتی تھی۔‘

پاکستان کے موقف میں آنے والی مبینہ تبدیلی کی وجہ بتاتے ہوئے پروفیسر رشید خان کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے ساتھ پاکستان کے موجودہ کشیدہ تعلقات، امریکہ کے ساتھ جاری ان بن اور انڈیا کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے باعث پاکستان خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے اور ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ترکی کی حمایت بہت اہمیت کی حامل ہے۔‘

پروفیسر رشید خان کہتے ہیں کہ ’چونکہ اُس خطے میں جہاں آذربائیجان اور آرمینیا شامل ہیں، ترکی کے وسیع تر مفادات ہیں، اسی لیے ایسے وقت میں جب پاکستان خود کو بالکل تنہا محسوس کر رہا ہے، اس تنازع پر ترکی کے مؤقف کی حمایت کر کے پاکستان ایک طرح سے کشمیر کے مسئلے پر ترکی کی غیر مشروط اور بے مثال حمایت کے بدلے میں ان کا احسان چکا رہا ہے۔‘

ترکی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناتوار کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس نئے بحران میں آذربائیجان کی حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آرمینیا علاقائی امن و امان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘

سینیٹر مشاہد حسین سید حالیہ موقف کے پیچھے ترک فیکٹر کا ہاتھ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایسا بالکل نہیں ہے، ترکی کی شروع سے آرمینیا سے چپقلش رہی ہے اور آرمینیا کے حوالے سے ترکی کا اپنا ایک علیحدہ موقف ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’آرمینیا، ترکی اور آذربائیجان کے خلاف کافی بے بنیاد الزامات لگاتا رہا ہے۔ لیکن آذربائیجان کے ساتھ ہمارا ایک براہِ راست تعلق ہے جو پہلے بھی قائم تھا، کسی حکومت کے دوران اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اب بھی ہم وہی موقف دہراتے ہیں۔‘

مشاہد حسین بتاتے ہیں کہ اسی باعث یاروان میں ہمارا کوئی سفارت خانہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی آرمینیا کا کوئی سفارت خانہ اسلام آباد میں قائم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آذربائیجان آرمینیا تنازع کے حوالے ہمارا ایک دیرنہ موقف ہے اور میں اسے درست موقف سمجھتا ہوں۔ اور یہ کوئی نیا نہیں بلکہ گذشتہ 30 برسوں سے ہمارا یہی موقف چلتا آ رہا ہے۔‘

مشاہد اللہ سید کے مطابق ہمارا ترکی فیکٹر صرف شمالی قبرص کے مسئلہ پر آتا ہے۔

ممنون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسید مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ شروع سے ہی پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہری قربت اور تعلقات رہے ہیں اور حکومتوں کے آنے جانے سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا

یہ کسی حکومت کا نہیں، ایک دیرینہ اصولی موقف ہے

تو کیا پاکستان کے کسی دورِ حکومت کے دورِان اس موقف میں تبدیلی نہیں آئی؟ اس بارے میں سید مشاہد حسین کہتے ہیں ’یہ کسی حکومت کا موقف نہیں، پاکستان کے قومی مفاد و سلامتی اور ہمارے خارجہ تعلقات کے حوالے سے ایک دیرینہ اصولی موقف ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت آنی جانی چیز ہے لیکن جیسے کشمیر، فلسطین، سی پیک اور نیوکلئیر ایشو پر ہمارے دیرینہ موقف ہوتے ہیں، بالکل ویسے ہی اس تنازع پر بھی ہے اور حکومت کے آنے جانے سے اس موقف پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے سابقہ ادوار کو یاد کرتے ہوئے مشاہد حسین بتاتے ہیں کہ ’میاں صاحب کے دور میں ہم نے اسی معاملے پر آرمینیا کی بڑی سخت مذمت کی تھی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ بینظر بھٹو صاحبہ کے دور میں آذربائیجان کے صدر حیدر علیو نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جبکہ جنرل مشرف نے آذربائیجان جا کر ترک زبان میں ان کی پارلیمنٹ سے خطاب بھی کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اسی کا تسلسل ہے اور اب ہم نے کوئی نئی بات نہیں کی اور اس میں حکومت کا کوئی تعلق نہیں بلکہ ریاست کا ہے۔

آذربائیجان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں لڑائی شروع ہوئی تھی جو کہ سنہ 1991 میں مکمل جنگ کی شکل اختیار کر گئی تھی

’کسی ایک ملک کی مکمل سائیڈ لینا کوئی سمجھداری نہیں‘

پروفیسر رشید خان پاکستان کے حالیہ موقف کو جذباتی مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے عالمی برادری کا موقف پاکستان سے مختلف ہے اور وہ اس خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے حالیہ بیان سے وہ یہی نتیجہ اخذ کریں گے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اپنے بیانات کے ذریعے اس لڑائی کو مزید ہوا دینا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس طرح کسی ایک ملک کی مکمل سائیڈ لینا کوئی سمجھداری نہیں۔ پاکستان آذربائیجان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تھوڑا اعتدال پسندانہ بیان جاری کر سکتا تھا۔ لیکن حالیہ بیان سے پاکستان کی ایک الگ فریق کے طور پر شناخت ہو گئی ہے۔‘

پروفیسر رشید خان کا کہنا تھا کہ ’خارجہ پالیسی میں ایسے بیانات سے تھوڑے عرصے تو آپ واہ واہ سمیٹ سکتے ہیں، لیکن ایسے بیانات سے خارجہ پالیسی کے طویل مدتی مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔‘

سوشل میڈیا پر ردِعمل

پاکستان میں سوشل میڈیا پر زیادہ تر صارفین آذربائیجان کی حمایت میں ٹویٹس کرنے کے علاوہ ترکی کے صدر اردوغان کی تعریف بھی کرتے نظر آ رہے ہیں۔

تاہم آذربائیجان کے اس حمایتی ٹرینڈ کے پیچھے ایک بڑا ہاتھ ترک شہری علی کیسکن کا بھی ہے جنھوں نے اپنے ’پاکستانی بھائیوں کو اس معاملے پر مدد کے لیے پکارا ہے۔‘

علی نے لکھا ’میں اپنے پاکستانی بھائیوں کو پکار رہا ہوں۔ آج آذربائیجان کی حمایت کرنے وقت کا ہے۔ ترکی، پاکستان اور آذربائیجان اس ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کریں۔‘

بس ان کا یہ کہنا تھا اور پاکستانی بھائیوں نے ناصرف ٹرینڈ چلانے میں ان کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ کئی صارفین تو حکومتِ پاکستان کو فوج بھیجنے کے مشورے بھی دیتے نظر آئے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

عابد مجید نامی صارف دعاگو ہیں کہ انشا اللہ فتح مسلم ملک آذربائیجان کی ہی ہو گی۔

رئیس وحید احمد نے لکھا ’آذربائیجان ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور پاکستان کی آواز بنا ہے لہذا اب پاکستان کو وقت ضائع کیے بغیر اپنی فوج آذربائیجان بھیج دینی چاہیے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

جس کے جواب میں کئی صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کو یہ تک تو معلوم نہیں کہ آرمینیا ہے کہاں لیکن بس فوج بھیجنے کا شوق ہے۔

ایک صارف کا یہ بھی کہنا ہے کہ آذربائیجان یا آرمینیا سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے لہذا براہ کرم اپنے معاملات پر توجہ دیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3