آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سندھ میں بارشوں اور سیلاب کی صورتحال: جنوبی اضلاع میں منافع بخش فصلیں تباہ، متاثرین پینے کے پانی اور سائبان سے بھی محروم
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
’میرا کوئی سہارا نہیں، ماسوائے آٹھ سال کے ایک بیٹے کے۔ ہماری کوئی مدد نہیں کر رہا، مزدوری کا بھی کوئی آسرا نہیں ہے۔‘
شریمتی آسی اُن ڈیڑھ سو سے زائد کسان خاندانوں میں شامل ہیں جو صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کی تحصیل سامارو کے علاقے لیاقت رستی میں سڑک کنارے عارضی پناہ گاہوں میں موجود ہیں۔
عمر کوٹ سمیت سندھ کے 20 اضلاع حالیہ بارشوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور حکومت انھیں آفت زدہ قرار دے چکی ہے۔
جنوبی سندھ کے اضلاع سانگھڑ، میرپور خاص، عمر کوٹ اور بدین کے کئی علاقوں میں ابھی تک بارش کا پانی موجود ہے۔ صوبائی محکمہ آفات و انتظام کاری کی رپورٹ کے مطابق ان اضلاع میں اب تک 18 لاکھ 90 ہزار لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سڑک کنارے امداد کے منتظر افراد
شریمتی آسی نے بتایا کہ وہ کھیتوں میں کپاس اور مرچ کی فصلیں چنتی ہیں جس سے اُن کی یومیہ آمدن سو سے ڈیڑھ سو روپے تک ہو جاتی تھی، لیکن فصلیں زیرِ آب آنے کے بعد اب ان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں رہا۔
عمر کوٹ، میرپور خاص اور سانگھڑ کی سڑکوں پر کئی ہزار افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں جنھیں حکومتی اداروں نے ابھی تک خیمے تک فراہم نہیں کیے۔ صوبائی وزیر ثقافت اور نوادرات سردار علی شاہ کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں موجود کچے مکانات میں سے 80 فیصد گر چکے ہیں یا کمزور ہو گئے ہیں۔
سردار علی شاہ نے کہا کہ ’اگر صرف عمر کوٹ ضلع کی بات کی جائے تو 11 لاکھ کی آبادی میں سے چھ لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔‘
’لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں کے قریب سڑکوں پر بیٹھی ہے جن کو ہم مچھر دانیاں اور خیمے فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
خیموں کی عدم فراہمی
جنوبی سندھ میں لگ بھگ گذشتہ 20 روز سے مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، سڑکوں کے کنارے لوگوں نے چارپائیوں کے ساتھ یا لکڑیوں کی مدد سے عارضی سائباں بنائے ہوئے ہیں جن پر پلاسٹک کی چادریں ڈال دی گئی ہیں۔
گذشتہ جمعے کو بارشوں کے ایک اور سلسلے نے اِن افراد کی کی مشکلات مزید بڑھا دیں، آس پاس کی زمینوں سے پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے مچھروں کی بہتات ہے جن سے لوگ اور اُن کے جانور پریشان ہیں۔
صوبائی محکمہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے صرف 40 ہزار خیمے فراہم کیے گئے ہیں، 19 لاکھ متاثرین میں سے جنوبی سندھ کے اضلاع کے صرف 22 ہزار کے قریب لوگ سرکاری کیمپوں میں موجود ہیں جن کی اکثریت بھی خیموں سے محروم ہے۔
صوبائی وزیر سردار علی شاہ کا کہنا ہے کہ بارشوں سے کراچی متاثر ہوا جس سے خیموں کی رسد بھی متاثر ہو رہی ہے، خیمے کی خریداری کے آرڈر ہو چکے ہیں اور جو رسد عام دنوں میں ایک ہفتے میں ہونی ہے وہ 15، 15 دن میں ہو رہی ہے۔‘
یہاں لوگوں میں صبر ختم ہو رہا ہے اور مچھروں کے باعث وہ ایک عجیب کرب سے گزر رہے ہیں۔
بیماریاں پھیلنے کا خدشہ
فصل اور گھر زیر آب آنے کے بعد اب ان کسانوں کا آخری اثاثہ اُن کے جانور ہیں لیکن وہ بھی اس غیر معمولی صورتحال کے باعث خطرات سے دوچار ہیں۔ انھیں بچانے کے لیے کئی خاندان تھر کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔
ضلع میرپور خاص سے ملحقہ نو کوٹ اور عمر کوٹ کے صحرائی علاقے میں یہ متاثرین مال مویشی کے ساتھ موجود ہیں۔
فصلوں سے کھاد اور زرعی ادویات بارش کے پانی میں مل کر نہری پانی میں شامل ہو رہی ہیں جس سے یہ پانی آلودہ ہو رہا ہے جبکہ زیر زمین پانی بھی کھارا ہے جس کے باعث متاثرین کے لیے پینے کے پانی کی سہولت ناپید ہو گئی ہے۔
سامارو کے باہر پانی میں گِھرے بعض لوگوں نے بتایا کہ وہ پینے کا پانی پیسوں کے عوض خریدنے پر مجبور ہیں۔
صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پینے کے پانی کا مسئلہ خاصا گھمبیر ہے کیونکہ نہروں میں بارشوں کا پانی مکس ہو چکا ہے جس کے باعث وہ آلودہ ہے۔
’لوگ پیئیں گے تو بچوں میں بیماریاں آئیں گی جبکہ زیر زمین پانی کھارا ہے۔‘
بارش کے بعد مچھروں اور بیماریوں سے مال مویشی بیماری کا شکار ہو کر کمزور ہو رہے ہیں۔
سامارو کے سینیئر میڈیکل افسر ڈاکٹر شیوا رام کا کہنا ہے کہ یہاں ملیریا اور ڈائریا سمیت دیگر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ موجود ہے، اور اس سے محفوظ رہنے کے لیے لوگوں کو مچھروں سے بچانا ہو گا اور پینے کا صاف پانی فراہم کرنا ہو گا۔
’کیش کراپس‘ متاثر
میرپورخاص سے نوکوٹ سڑک ہو یا میرپورخاص عمرکوٹ اور کھپرو سڑک دونوں اطراف میں دور دور تک سیلابی پانی نظر آ رہا ہے۔
صرف چند ہی ایسے علاقے ہیں جہاں کچھ فصلیں محفوظ رہی ہیں۔ صوبائی محکمہ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور بدین اضلاع میں پانچ لاکھ ایکڑ پر موجود فصل متاثر ہوئی ہے۔ ان اضلاع میں کپاس اور مرچ کی فصل لگائی جاتی ہے جن کو ’کیش کراپ‘ یعنی منافع بخش فصلیں بھی کہا جاتا ہے۔
بعض کاشتکار اب بھی اپنے فصلوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ٹریکٹروں اور ڈگڈگی پمپوں کی مدد سے بارش کے پانی کی نہری نظام میں نکاسی کی جا رہی ہے، مگر نکاسی کا یہ عمل کافی مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ کھیتوں میں دو سے تین فٹ پانی موجود ہے۔
سامارو کے کاشت کار خالد قائم خانی نے بی بی سی کو بتایا کہ مرچ کمزور فصل ہوتی ہے وہ اتنا پانی برداشت نہیں کر سکتی۔ ’اگر بارشوں کے دوران بھی کسی کی فصل سے پانی کی نکاسی ہو گئی ہے تو وہاں بھی فصل ختم ہو چکی ہے۔‘
’فی ایکڑ ہمارا پچاس سے ساٹھ ہزار روپے خرچہ آیا ہے، آمدنی کا تعلق مارکیٹ کے ریٹ سے ہوتا ہے کبھی دو لاکھ تو کبھی چھ لاکھ روپے بھی فی ایکڑ بن جاتا ہے لیکن اس بار نقصان ہی نقصان ہے۔‘
عمرکوٹ اور آس پاس کے اضلاع میں حکومت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق 38 ہزار ہیکٹرز پر مرچ کی کاشت ہوتی ہے۔ اس کی کاشت جنوری میں کی جاتی ہے اور اگست میں فصل تیار ہوتی ہے لیکن اس بار کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ ہاری بھی معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔
ایک کسان دہنو کمار کا کہنا ہے کہ کسان کا نقصان زیادہ ہوا ہے کیونکہ ہل چلانے اور ٹریکٹر کا خرچہ کسان پر زیادہ ہے، زمیندار پر دو تین بوری کھاد کا خرچہ آتا ہے باقی دوسرے اخراجات کسان کو دینے ہوتے ہیں۔
’مرچ اور کپاس کی فصل ختم ہو گئی۔ مکئی یا دوسری فصل جو بھی موجود تھی اس پر خرچہ تو ہو چکا تھا وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔‘
گندم کے بحران کا امکان
ستمبر میں کپاس اور مرچوں کی فصل کی چنوائی کے بعد اگلی فصل کی تیاری کی جاتی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پانی کی نکاسی اور زمین کی بہتری میں کم از کم بھی ڈیڑھ سے دو ماہ لگ سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر سردار علی شاہ کا خاندان بھی زراعت سے وابستہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرپورخاص ڈویژن میں زیر کاشت رقبے کی 80 سے 90 فیصد فصل تباہ ہو چکی ہے اور یہ کپاس اور مرچ کی فصلیں ہے۔
’اب سب سے بڑا چیلنج خریف ہے۔ اگر خریف نہیں ہوا تو ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے کیونکہ غریب کسان بڑی مشکلات میں آ جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پانی کی نکاسی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ جو فصل جانی تھی وہ تو گئی لیکن اگر پانی کی نکاسی نہیں ہوئی تو آئندہ فصل بھی مقررہ وقت میں نہیں ہو سکے گا، حکومت اس پانی کی نکاسی کی کوشش کر رہی ہے۔‘
مرچ کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ
ایک چار دیواری کے اندر میدان پر سرخ مرچ بوری سے نکال کر زمین پر ڈال دی جاتی ہے اور بولی کا عمل شروع ہوتا ہے، آس پاس موجود تاجر اپنا دام بتاتے ہیں اور مناسب قیمت پر سودا طے ہو جاتا ہے۔ یہ کنری مرچ منڈی کے مناظر ہیں، جہاں گذشتہ سنیچر کو 32 ہزار من مرچ کی فروخت ہوئی۔
کنری مرچ منڈی میں اگست کے مہینے سے یومیہ ہزاروں بوری مرچ کی آمد شروع ہو جاتی ہے، لیکن ان دنوں صرف چند سو بوریاں ہی آ رہی ہیں جس کی وجہ حالیہ بارشیں ہیں جس نے مرچ کی فصل کو شدید متاثر کیا ہے۔
کنری مرچ منڈی پاکستان کی سب سے بڑی مرچ منڈی ہے جہاں ملکی پیدوار کے اسی فیصد کے سودے ہوتے ہیں، اس منڈی کے رہنما ایس ایم سلیم کہتے ہیں کہ منڈی میں سالانہ سات آٹھ لاکھ بوری مرچ آتی ہے۔
’ستر فیصد مرچ ختم ہو چکی ہے جھڈو، نو کوٹ، کھپرو میں کچھ نظر نہیں آ رہا ہے ملکی پیدوار کا بڑا حصہ مقامی کھپت میں صرف ہوتا ہے اور اسے سعوی عرب، عرب ریاستوں، امریکہ اور یورپی ممالک کو درآمد کیا جاتا ہے۔‘
ایس ایم سلیم کا کہنا ہے کہ جب منڈی میں قیمت میں اضافہ ہوا ہے تو عام مارکیٹ میں بھی نرخ بڑھیں گے اس لیے مقامی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہو سکتا ہے کہ مرچ برآمد کرنی پڑے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کپاس کی کاشت میں بھی مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ حالیہ بارشوں سے مرچ کے ساتھ کپاس کی فصل بھی شدید متاثر ہوئی ہے جس سے آنے والے دنوں میں ٹیکسٹائل اور ہوزری صنعت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
غیر سرکاری اداروں کی بھی عدم دستیابی
اس سارے عرصے میں پاکستان کے قومی میڈیا پر کراچی کی سیلابی صورتحال چھائی رہی جبکہ سندھ کے دیگر متاثرہ اضلاع کی صورتحال پر واضح کوریج نہیں کی گئی جبکہ مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں کا کردار انتہائی محدود دکھائی دیتا ہے۔
اویئر نامی غیر سرکاری تنظیم کے ڈائریکٹر علی اکبر راہموں کا کہنا ہے کہ جب سے ڈونر تنظیموں کی تعداد کم ہوئی ہے تب سے این جی اوز کا کردار بہت محدود ہو گیا ہے، اس لیے سنہ 2010 اور سنہ 2011 کے مقابلے میں ان کی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہی ہیں۔
صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ کے مطابق عام دنوں میں ’کراچی کے مخیر حضرات بھی مدد میں آگے ہوتے ہیں لیکن حالیہ بارشوں سے کراچی بھی متاثر ہوا ہے اس لیے سنہ 2011 کے سیلاب اور حالیہ صورتحال میں فرق ہے۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس وقت عالمی فلاحی اداروں کی مدد کی ضرورت ہے اور انھیں امید ہے کہ انھیں مدد ملے گی۔
قرضوں میں رعایت یا معافی کا مطالبہ
حکومت سندھ کی جانب سے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا تھا جس کے بعد عام طور پر ان اضلاع سے لگان اور دیگر ٹیکسز کی وصولی مؤخر یا معاف کر دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے لوگوں کی جانب سے ٹیکس میں معافی کے ساتھ قرضوں میں رعایت کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔
صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں نے جو بینکوں سے قرضے لیے ہیں ان کی معافی یا رعایت وفاقی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔
’پانی کی نکاسی کے لیے موٹریں چلانے کے لیے بجلی درکار ہے لیکن متاثرہ علاقوں میں کئی گھنٹے بجلی دستیاب نہیں ہوتی ہے۔‘
واضح رہے کہ وفاقی حکومت یا اس کے ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے کوئی اعلان یا ریلیف کی کارروائی سامنے نہیں آئی۔
تاہم عمر کوٹ میں متاثرین کے کیمپ میں تحریک انصاف کے مخصوص نشستوں پر منتخب رکن قومی اسمبلی لال مالھی کی جانب سے ٹینکروں میں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔