کراچی میں شدید بارشوں سے سیلاب: ’نالوں کی عدم صفائی، اونچی سڑکوں اور فٹ پاتھوں نے مارکیٹوں کو ڈبو دیا‘

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

دکاندار نے گھٹنوں تک شلوار کو اونچا کیا ہوا ہے جبکہ زمین پر سیاہ رنگ کا پانی اس کے ٹخنوں سے بھی اونچا ہے، ایک چھوٹی دکان سے کپڑے کا تھان نکال کر پانی کی نکاسی کی جاری ہے۔ ندیم قادری کی دکان کراچی کے اولڈ ایریا کی پرانی مچھلی میانی بازار میں ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حالیہ مون سون کی بارشوں سے متاثر ہونے والے بازاروں میں کھارادر کی مچھلی میانی مارکیٹ بھی شامل ہے جو قیام پاکستان سے قبل یہاں موجود تھی جس میں چار سو سے زیادہ دکانیں واقع ہیں۔

ندیم قادری نے بی بی سی کو بتایا کہ بارش کے پانی نے گٹر کے پانی کی شکل اختیار کرلی ہے اور یہ پانی تمام دکانوں میں داخل ہوگیا ہے۔

’پانی تو پہلے بھی آتا تھا لیکن دکانیں بچ جاتی تھیں لیکن اس بار توقع سے زیادہ پانی آیا ہے نتیجے میں مال پانی سے خراب ہوگیا ہے اور ہر کوئی کوشش کر رہا ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت نکاسی اور صفائی کرے۔‘

محمد شفیق نقلی زیورات کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد پہنچ گئے لیکن اس کے باوجود انہیں ساٹھ سے ستر ہزار کا نقصان پہنچا ہے، ’کئی ایسے دکاندار ہیں جو نہیں پہنچ پائے اس لیے ان کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔‘

مزید پڑھیے

وہ بتاتے ہیں ’بارش کی شدت تھی لیکن مرکزی سڑک کو اتنا اونچا کیا ہوا ہے، اس کا سارا پانی مارکیٹ میں آجاتا ہے، کم از کم بھی تین فٹ پانی کھڑا تھا، کوئی انتظامی مدد نہیں تھی۔ ہم نے جنریٹر کی مدد سے پمپ چلاکر پانی کی نکاسی کی ہے، وفاقی وزیر علی حیدر زیدی آئے تھے لیکن وہ بھی لولی پاپ دیکر چلے گئے، لیکن پانی کی نکاسی نہیں ہوئی۔‘

کراچی کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ، مائی کولاچی بائی پاس سمیت دیگر سڑکوں سے پانی اولڈ ایریا میں جمع ہوجاتا ہے جس وجہ سے یہاں کے تھوک کے سامان کی مارکیٹیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

کراچی تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ ہر شہر میں تاجروں کا ایک حب ہوتا ہے جس سے پورا شہر چلتا ہے، ’کراچی میں اولڈ سٹی ایریا وہ حب ہے جہاں سو سے سوا سو ایسی مارکیٹیں ہیں جہاں ابھی تک پانی موجود ہے۔‘

کراچی کی شاہراہ فیصل پر واقع فرنیچر مارکیٹ بھی سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں دکاندار اس وقت دکانوں سے صفائی اور متاثرہ فرنیچر کو کباڑ کی صورت میں باہر پھینک رہے ہیں۔

ایک دکاندار ناصر محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ بارشوں میں بچاؤ کے لیے وہ دکانوں کے باہر جو گیٹ ہیں اس پر نٹ بولٹ سے واٹر پروف پلائی لگا دیتے تھے تاکہ پانی اندر نہ جائے لیکن اس سال بارش اس قدر ہوئی ہے کہ پانی اس کو عبور کر کے اندر داخل ہو گیا۔

وہ بتاتے ہیں ’نرسری پر جو مرکزی نالہ ہے اس کی صفائی نہیں ہوتی۔ اگر اس کی ہر سال درست انداز میں صفائی کی جائے تو نالے کا بہاؤ الٹا نہ ہو۔ اس وقت پانی نالے میں نہیں جاتا بلکہ الٹا واپس آجاتا ہے جس کے نتیجے میں دکانیں زیر آْب آ جاتی ہیں۔‘

ایک دوسرے دکاندار محمد اسلام کا کہنا ہے کہ نرسری کی مارکیٹ زیر آب آنے کی وجہ شاہراہ فیصل کا فٹ پاتھ ہے۔ بقول ان کے فٹ پاتھ کو زیادہ ہی اونچا کر دیا گیا ہے۔ پہلے اس کے نیچے سے پانی گزرنے کے راستے تھے جن کو ختم کردیا گیا ہے، اب پانی اس کی دیوار سے رکتا ہے اور وہ مارکیٹ میں داخل ہو جاتا ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر نعمان احمد کے مطابق جو فیڈر ڈرین ہیں ان کے لیے بھی اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنی گنجائش کے مطابق کام کریں تاکہ جیسے ہی سڑک پر پانی آئے تو فوری اس کی نکاسی ہو جائے۔

'کراچی کے پرانے شہر میں یہ نظام موجود تھا کہ اگر ایک دو گھنٹے بھی مسلسل بارش ہوتی تو پانی کی نکاسی ہو جاتی تھی لیکن ماضی قریب میں جو سڑکیں بنی ہیں وہ مقامی نکاسی آب کے نظام سے منسلک نہیں ہیں کیونکہ سڑکوں کی تعمیر میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا۔'

انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے یہ مقامی ڈرین اپنی گنجائش کے مطابق پانی کا نکاس نہیں کر پاتے اور یہ پانی شہری آبادیوں میں داخل ہو جاتا ہے

کراچی کی وال سٹریٹ کہلانے والی سڑک آئی آئی چندریگر روڈ ہو، کورنگی یا سائیٹ ایریا، فیکٹری مالکان کسی نہ کسی طرح متاثر ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اولڈ ایریا اور فرنیچر مارکیٹ کا خود دورہ کیا اور متاثر دکانداروں کو یقین دہانی کرائی کہ پانی کی جلد نکاسی کی جائیگی، جس کے بعد نرسری سے پانی تقریباً نکال دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر گزشتہ سال نالوں سے کئی مارکیٹیں بھی ہٹائی گئیں تھیں، کے ایم سی حکام نے شکایت کی تھی کہ ان کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام متاثر ہوتا ہے جس کے بعد صدر، گارڈن اور اولڈ ایریا میں تجاویزات کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا۔

تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے مارکیٹیں زیر آب آنے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ عمارتیں ناقص تھیں بلکہ جو قریب سے گزرنے والا نالہ تھا اس کی صفائی نہیں ہوئی، وہ اوور فلو ہوگیا نتیجے میں پانی نشیبی علاقوں کی مارکیٹ میں داخل ہو گیا۔

’کراچی کی 95 فیصد مارکیٹیں، گودام اور کارخانے متاثر ہوئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ جزوی، تو کچھ زیادہ اور کچھ مکمل طور پر متاثر ہوئے ہیں۔‘

ان کے اندازے کے مطابق کم از کم بھی ’تاجروں کے 25 ارب ڈوب گئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب لاکھوں کا نقصان ہوتا تھا، اس وقت کروڑوں روپے کا مال گوداموں اور شورومز میں موجود ہوتا ہے۔‘

واضح رہے کہ حکومت سندھ نے کراچی کے 6 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا ہے اور ڈپٹی کمشنرز کو نقصان کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کراچی کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں تھیں، عید سے قبل ان سرگرمیوں کی مکمل بحالی کی اجازت دی گئی لیکن بارشوں نے معاشی طور پر کمزور تاجروں کا بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔

تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ ’کورونا لاک ڈاؤن کے وقت بھی کہا گیا تھا کہ بلا سود قرضے دیے جائیں گے، ٹیکسوں میں چھوٹ ملے گی لیکن یہ سب کچھ زبانی کلامی تھا۔ ایک بار پھر اعلانات اور یقین دہانی کرائی جارہی ہے۔‘