پاکستان میں ’غیر معمولی‘ مون سون بارشوں کے دوران اگست میں 116 ہلاکتیں

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق یکم اگست سے تیس اگست تک ملک بھر میں مون سون بارشوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 116 ہوچکی ہے۔

حکام کے مطابق مجموعی طور پر دس چھوٹے بڑے روڈ، نو پلوں اور دو پاور ہاوسز کو نقصاں پہنچ چکا ہے جبکہ مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی تعداد 1051 اور جزوی طور پر 543 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق یکم جولائی سے شروع ہونے والی مون سون بارشوں کے دوران 28 اگست تک بارشوں کے حالیہ سلسلے کے شروع ہونے سے پہلے تک 31 فیصد ’غیر معمولی‘ بارشیں ہوچکی ہیں۔

صوبائی سطح پر ہونے والے نقصانات

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 30 اگست تک بلوچستان میں دس مختلف شاہراؤں کو نقصان پہچنے کے علاوہ تین پلوں، ایک نجی ہوٹل کے علاوہ 887 گھر مکمل تباہ ہوئے ہیں جبکہ 98 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران بارشوں سے ہونے والے مختلف حادثات میں 17 لوگ ہلاک ہوئے ہیں، جس میں آٹھ بچے شامل ہیں۔

بلوچستان سے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلے سے مجموعی طور پر 16 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ حالیہ بارشوں سے دو افراد مزید ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی طو رپر 19 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیے

سب سے زیادہ متاثر ضلع جعفر آباد ہے جہاں گھروں کے متاثر ہونے کی تعداد 700 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر گھروں کو سب سے زیادہ نقصان جھل مگسی میں پہنچا ہے جہاں یہ تعداد 136 ہے۔

بتایا گیا ہے کہ سیلابی صورتحال سے چار اضلاع میں فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خیبر پختونخوا

صوبہ خیبر پختونخوا میں یکم اگست سے تیس اگست تک دو پلوں، دو کانوں اور ایک مسجد کو نقصاں پہنچا ہے۔ مکمل تباہ ہونے والے گھروں کی تعداد 86 ہے جبکہ جزوی طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی تعداد 105ہے جبکہ 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس میں دس بچے شامل ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی صوبہ خیبر پختونخوا کے مطابق 29 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کے دوران ابھی تک کسی بھی مقام سے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

پنجاب

صوبہ پنجاب میں یکم اگست سے تیس اگست تک دو گھروں کے مکمل اور پانچ کو جزوی طور پر نقصاں پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ بارشوں سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں،جن میں چار بچے شامل ہیں۔

سندھ

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق کراچی اور سندھ میں حالیہ بارشوں کے دوران ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔

سندھ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 61 ہے، جن میں 14 بچے شامل ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 35 گھروں کو مکمل اور 94 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہاں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں جس میں سات بچے شامل ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کشمیر کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کشمیر کے ضلع کوٹلی میں دریائے پونچھ میں سیلابی صورتحال رہی تھی جو کہ اب کم ہوچکی ہے۔ اس دوران کوٹلی، بھمبر، راولاکوٹ میں سیلابی ریلے آئے ہیں جبکہ وادی نیلم اور مظفر آباد میں لینڈ سلائیڈنگ سے رابطہ روڈ بند ہیں جن کی بحالی کے لیے کام شروع ہے۔

گلگت بلتستان

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق یکم اگست سے تیس اگست تک گلگت بلتستان میں چار پلوں اور دو پاور ہاوسز کو نقصان پہنچا ہے۔ وہاں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی گلگت بلتستان کے مطابق اتوار کو لینڈ سلائیڈنگ سے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں شاہراہ قراقرم ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوگئی تھی جس کو سوموار کے روز جزوی طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ حکام کو امید ہے کہ مکمل ٹریفک کی بحالی سوموار کے روز رات گئے تک ممکن ہوجائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔

غیر معمولی بارشیں

محکمہ موسمیات کے ترجمان ڈاکٹر محمد خالد ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والی مون سون بارشوں کے دوران ملک بھر میں 28 اگست تک 31 فیصد غیر معمولی بارشیں ہوچکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس مرتبہ ہم توقع کر رہے ہیں کہ پاکستان میں مون سون جو کہ 15 ستمبر تک ہوتا ہے اس مرتبہ 30 ستمبر تک جائے گا۔‘

’بارشوں کے حالیہ سلسلہ جمعے تک چل سکتا ہے۔ جس کے بعد بارشوں کی شدت میں ستمبر کے ماہ میں کمی آئے گی۔ ستمبر کے ماہ میں ہونے والی بارشوں میں وہ شدت نظر نہیں آئے گی جو کہ اگست میں ہوئی ہیں۔‘

ڈاکٹر محمد خالد ملک کا کہنا تھا کہ عموماً پاکستان میں مون سون کے دو ٹریک ہیں۔

’ایک پنجاب اور دوسرا سندھ ہے۔ عموماً پنجاب میں مون سون کی 80 فیصد بارشیں ہوتی ہیں۔ جس میں ملک کے شمالی علاقہ جات بھی شامل ہوتے ہیں جبکہ سندھ میں یہ بیس فیصد ہوتی ہیں۔ مگر اس سال یہ ہوا ہے کہ مون سون کے دو ٹریک میں پچاس پچاس فیصد بارشیں ہوئی ہیں۔ جس وجہ سے پانی کھڑا بھی ہوا اور ہمیں شدید صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ‘

دریاؤں اور نالوں کی صورتحال

ڈاکٹر محمد خالد ملک کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے جنوبی دریاؤں میں بہاؤ تیز ہے اور وہاں بھی سیلاب کی صورتحال تھی۔ اس وقت بھی دریائے جہلم اور چناب کے ملاپ کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دریائے سندھ کے بالائی علاقوں گلگت بلتستان میں بارشیں ہورہی ہیں۔ بارشوں کے اس سلسلے کے ختم ہونے کے بعد سندھ میں دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کچھ تیز ہوسکتا ہے اور شاید کوئی معمولی یا درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو۔

ڈاکٹر محمد خالد کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں نالہ لئی کے علاوہ راولپنڈی اسلام آباد میں موجود دیگر ندی نالوں، ڈیرہ غازی خان اور لاہور کے گرد و نواح میں طیغانی کے امکانات موجود ہیں۔