آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال، امدادی کارروائیاں جاری
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں طوفانی بارشوں کے بعد نظام زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جن میں سول انتظامیہ کے ساتھ فوج بھی شریک ہے۔
کراچی پولیس کے مطابق جمعرات کو شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کراچی پولیس تعلقات عامہ کے دفتر کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب شرقی ضلع کے علاقے سچل میں تین افراد انتہائی تیز پانی میں بہہ گئے تھے۔ تاہم پولیس کے مطابق ابھی بھی مختلف واقعات میں بہہ جانے والے افراد کی لاشیں ملنے کا عمل جاری ہے جن کو مختلف سرد خانوں میں رکھا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
صحافی محمد زبیر خان کے مطابق کراچی پولیس کے پبلک ریلیشن آفس کا کہنا ہے کہ ابھی پولیس اس صورتحال میں نہیں ہے کہ وہ ہلاک ہونے والوں یا جمعے کے روز ملنے والی لاشوں کے حوالے سے اعداد و شمار بتا سکے۔
جبکہ ایدھی سروس کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق جمعے کو انھیں کراچی سے آٹھ لاشیں ملی ہیں۔ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران 26 اگست کو 17 افراد، 27 اگست کو 24 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 28 اگست کو آٹھ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایدھی کے ریکارڈ کے مطابق شہر میں بارش کے باعث سیلابی پانی میں ڈوب کر، دیواریں اور چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے کے مختلف حادثات میں 49 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
'کراچی میں بارشوں کے حالیہ دور میں 35 ہلاکتیں'
کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے جمعرات کی شب بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ شہر میں بارشوں کے حالیہ دور میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان میں سے 23 افراد جمعرات کو ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 17 مختلف علاقوں میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے مارے گئے۔
کراچی کے ایس ایس پی شرقی ساجد سدوزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ چھ افراد جن میں چار بچے اور دو خواتین شامل ہیں، گلستانِ جوہر میں ممکنہ طور پر آسمانی بجلی کا نشانہ بننے والی ایک رہائشی عمارت کی بیرونی دیوار گرنے کے واقعے میں ہلاک ہوئے جبکہ دو بچے ابھی لاپتہ ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں چار افراد پانی میں ڈوب کر، ایک شخص کرنٹ لگنے جبکہ ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوا۔
کراچی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے
فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ لوگ اب متاثرہ علاقوں اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں مگر اس کے باوجود کئی علاقے متاثر ہیں۔ ان کے مطابق ان شدید متاثرہ علاقوں میں نیو ناظم آباد کا علاقہ بھی شامل ہے جہاں پر تین سو خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کے علاوہ ان کو نقل مکانی میں مدد فراہم کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے چند افراد واپس گھروں کو پہنچ گئے ہیں مگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ کئی ابھی تک اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹے کیوں کہ ان کے گھر اس وقت رہائش کے قابل نہیں رہے ہیں۔
الخدمت کراچی کے چیف ایگزیکٹو راشد قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ویسے تو پورا کراچی ہی متاثر ہوا ہے مگر اس وقت شہر کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سرجانی، یوسف گوٹھ، اورنگی ٹاون اور قائد آباد شاہ لطیف ٹاون شامل ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان علاقوں میں سے رینجرز، پولیس، انتظامیہ اور غیر سرکاری اداروں نے کم از کم دس ہزار خاندانوں کو حفاظتی مقامات پر پہنچایا تھا۔ جس میں سے ممکنہ طور پر کچھ تو واپس چلے گئے ہوں گے مگر مکانوں کی بڑی تعداد رہائش اختیار کرنے کے قابل ہی نہیں رہی ہے۔‘
دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں جمعے کے روز مجموعی طور پر موسم بہتر رہا۔ اکثر علاقوں میں بارش نہیں ہوئی۔ تاہم مضافاتی علاقوں میں ہلکی پھلکی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
کراچی محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق جمعہ کے روز کراچی میں سب سے زیادہ بارش گلشن حدید کے علاقے میں 84 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
’معمول کی زندگی شروع کرنے کے قابل نہیں ہیں‘
حسیب خان قائد آباد شاہ لطیف کے رہائشی ہیں۔ کراچی میں منگل سے جاری انتہائی شدید بارش کے سلسلے سے متاثر ہونے والوں میں ان کا خاندان بھی شامل ہے۔
وہ بتاتے ہیں ابھی تک ہمارے علاقے میں زندگی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔
’گھر میں اتنا پانی تھا کہ پانی اتر جانے کے بعد اب گھر رہائش کے قابل نہیں رہا ہے۔ علاقے میں کچھ امدادی سرگرمیاں شروع ہیں مگر ابھی تک پانی، بجلی اور گیس بحال نہیں ہوئی ہے۔ جس وجہ سے ہم معمول کی زندگی شروع کرنے کے قابل نہیں ہیں۔‘
کراچی کے مسائل کے لیے طویل المدتی پلان
نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کووڈ-19 کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے طویل المدتی پلان تشکیل دیا جا رہا ہے۔ وہ آئندہ چند روز میں خود کراچی جائیں گے اور حالات کا جائزہ لیں گے۔
وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سے کراچی کے حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہونے والی تباہی اور اس کے نتیجے میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی اور اس ضمن میں تمام وفاقی اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ریلیف سرگرمیوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
صوبہ سندھ میں بارش کی صورتحال
سردار سرفراز کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران صوبہ سندھ کے دیگر شہروں میں سے سب سے زیادہ بارش میرپور میں 216 ملی میٹر، بدین، ٹھٹہ، تھرپارکر اور عمر کوٹ کے علاقوں میں سو سے ایک سو دس ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ دادو 170 اور موہنجو داڑو میں 35 سے 40 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کراچی میں مختلف مقامات پر میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں پر چھوٹے بڑے موبائل ہسپتال بھی قائم ہیں۔ ان میڈیکل کیمپوں میں متاثرہ آبادی کو کھانا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ علاج بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد و راولپنڈی کی صورتحال
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے ابھی تک سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دو روز کے دوران پانی کا لیول بڑھنے کی وجہ سے راول ڈیم اور سملی ڈیم کے سپل ویز کھولے ہیں۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ ان دونوں ڈیمز میں پانی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے سپل ویز کھولے گئے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سپل ویز کو کھولنے سے پہلے دریائے سواں کے قریب آباد ہاوسنگ سوسائٹیز کے علاوہ دیگر گاؤں والوں کو بھی آگاہ کیا جارہا ہے اور اس ضمن میں مساجد میں اعلانات کے علاوہ ان علاقوں میں مقامی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں موجود ہیں جو لوگوں کو سپل ویز کھولنے سے متعلق آگاہ کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ اسلام آباد میں دفعہ 144 کے تحت دریائے سواں میں نہانے اور مچھلیاں پکڑنے پر پابندی ہے اس لیے جہاں سے یہ دریا گزر رہا ہے وہاں پر پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں کہ جب دونوں ڈیموں کے سپل ویز کھولے جاتے تھے تو لوگ مچھلیاں پکڑنے کی غرض سے دریا سواں میں اتر جاتے جس کی وجہ سے متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب ان دونوں ڈیموں کے سپل ویز کھولے جاتے ہیں تو راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کو بھی اس بارے میں پیشگی اطلاع دی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو سملی ڈیم اور راول ڈیم سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار عبدالرشید کے مطابق اس وقت شہر میں صورت حال قابو میں ہے اور جمعے کے روز بارش نہ ہونے کی وجہ سے شہر کے کسی علاقے میں بارش کا پانی موجود نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نالہ لئی کی برسات کا موسم شروع ہونے سے ایک ماہ پہلے صفائی کر دی گئی تھی جس کی وجہ سے ابتک شہر میں جتنی بارش ہو چکی ہے اس کی وجہ سے اس نالے میں سیلاب کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی۔
خیبرپختونخواہ میں بارش کے باعث نقصانات
خیبرپختونخواہ کے محکمہ قدرتی آفات (پی ڈی ایم اے) کے مطابق جمعرات کی شب صوبے کے پہاڑی علاقوں شاہ گرام، ترات، مدیان اور سوات میں تیز آندھی کے ساتھ موسلادھار بارش کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے احکامات پر متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے سیکرٹری ریلیف آبادکاری و بحالی، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 اور ڈپٹی کمشنر نے سوات کا دورہ کیا اور جانی و مالی نقصانات کا جائزہ لیا۔
صوبائی محکمہ قدرتی آفات کے مطابق سیکرٹری ریلیف و آبادکاری کا کہنا تھا کہ متاثرین کو بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
کوہستان بالا میں آٹھ، سوات میں چھ جبکہ شانگلہ میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ حالیہ بارش سے 40 گھر مکمل تباہ ہوئے جبکہ 26 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا کی جانب سے متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے پانچ لاکھ اور زخمیوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور سوات، چترال شگرام کے متاثرین میں ضروری امدادی سامان تقسیم کر دیا گیا ہے جبکہ بند سڑکیں کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم کے مطابق سوات کی تحصیل بحرین کے علاقے شاہ گرام مدین میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی ہے۔
مجموعی طور پر گیارہ افراد کو سیلابی ریلہ اپنے ساتھ بہا کر لے گیا تھاجس میں سے چھ کی لاشیں بر آمد کرلی گئی ہیں جبکہ پانچ افرادکی تلاش کا کام شام گئے تک جاری تھا۔
ثاقب رضا اسلم کے مطابق سیلابی ریلوں میں 40 سے زائد مکانات کے علاوہ انفراسٹرکچر کو بھی نقصاں پہنچا ہے جس کی بحالی اور لوگوں کی امداد کے لیے کام شروع کردیا ہے۔
کوھستان پولیس کے مطابق اپر کوھستان کے دور دراز علاقے لاچی میں بارشوں کے بعد سیلابی ریلے میں آٹھ افراد بہہ گے ہیں جس میں سے سات کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔
پولیس کے مطابق سیلابی ریلے کی زد میں آکر کئی گھروں، مکانات اور باغات کو نقصان پہنچا ہے اور ابھی نقصانات کا اندازہ کیا جارہا ہے۔