عاصم سلیم باجوہ پر احمد نورانی کے الزامات: شہباز شریف کا عمران خان سے قوم کو جواب دینے کا مطالبہ

چین پاکستان اقتصادی راہداری اتھارٹی کے سربراہ اور وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کے اہلخانہ اور دیگر خاندان والوں کے اثاثہ جات کا معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور اب مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے بھی وزیراعظم عمران خان سے اس معاملے کا نوٹس لینے اور قوم کو اس بارے میں جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہباز شریف نے بدھ کو کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران اس بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نیازی جو دن رات کہتے ہیں کہ میں اپوزیشن سے بات نہیں کروں گا کیونکہ وہ (اپوزیشن) چور ہیں، ڈکیت ہیں۔ ان کی اپنی حکومت میں جو بڑے بڑے سکینڈل آئے ہیں، جن کے بھی ہیں، وہ (عمران خان) ان کا نوٹس لیں، جواب دیں اور قوم کو بتائیں اس کے بارے میں۔'

امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی نے حال ہی میں اپنی ایک خبر میں باجوہ خاندان کے مالی مفادات کے بارے میں الزامات عائد کیے تھے جس کی پاکستانی فوج کے سابق ترجمان عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے تردید کی تھی۔

انھوں نے اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد ٹوئٹر پر ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ 'ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔'

بعدازاں وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'میری عاصم باجوہ صاحب سے بات ہوئی ہے۔ وہ تفصیل سے چند دنوں میں اپنے اثاثوں کے متعلق خبروں کی وضاحت کریں گے۔'

ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی شبلی فراز سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا تھا کہ ’وہ ایک، دو دن میں اپنی پوزیشن کو واضح کریں گے۔ (پوزیشن واضح کرنے کا) یہ حق سب کو ملنا چاہیے۔ بس ایک، دو دن کی بات ہے وہ آئیں گے اور اپنی وضاحت دیں گے اور جو بھی وہ ہو گی۔۔۔اس کے مطابق ہی ان کا مستقبل ہو گا۔‘

شبلی فراز نے یہ بھی کہا تھا کہ ’خبریں کسی کے بارے میں بھی آ سکتی ہیں، آپ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ انھوں نے کوئی ایسی خلاف ورزی کی ہے یا معلومات چھپائی ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ہر شخص معصوم ہوتا ہے جب تک اس پر الزام ثابت نہ ہو جائے۔ وہ ذمہ دار شخص ہیں وہ خود آ کر اپنی پوزیشن کو واضح کریں گے کیونکہ پبلک آفس میں ہوتے ہوئے آپ پر یہ ذمہ داری آ جاتی ہے کہ آپ کو عوام کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے، چاہے آپ رکن پارلیمان ہوں یا نہ ہوں۔‘

شہباز شریف سے قبل مریم نواز نے بھی یکم ستمبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر اس معاملے پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ’ان (عاصم باجوہ) کے خِلاف جو ثبوت سامنے آئے ہیں۔۔ بہت بڑے ثبوت ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ آ کر اپنا دفاع کریں، وہ اپنی پوزیشن قوم کے سامنے واضح کریں، اگر آپ ٹیکس دینے والوں کے پیسے پر سرکاری عہدے پر ہیں اور آپ پر الزام لگتے ہیں اور ثبوت دیے جاتے ہیں۔ ہمارے پر تو الزامات لگے مگر کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادف کچھ نہ نکلا۔ مگر پھر بھی سزائیں بھی کاٹیں۔ دو، دو تین، تین مرتبہ سزائیں کاٹیں۔ اب اگر آپ کے اوپر کوئی الزام لگا ہے اور اس کے ثبوت سامنے آئے ہیں تو آپ کو قانون کا سامنا کرنے سے کترانا نہیں چاہیے۔‘

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’احمد نورانی اگر کوئی چیز نکال کر لائے ہیں تو ان کا جواب دینا چاہیے، دھمکیاں نہیں۔ عمران خان کو چاہیے کہ اس کیس کے بعد اپنے احتساب کے بیانیے کے، جو پہلے بہت مرتبہ ایکسپوز ہو چکا ہے، کفن دفن کا انتظام کر لیں۔‘

مریم نواز نے کہا تھا کہ ’میں عمران خان سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ عاصم باجوہ پر جو الزامات لگے ہیں تو اب ان کا احتساب کا بیانیہ کس غار میں سو رہا ہے، وہ کہاں چھپا ہوا ہے۔ وہ آگے بڑھیں اور بتائیں۔ اس سے متعلقہ سوالات کا جواب نہ کوئی سازش ہے اور نہ ہی اس میں سی پیک کو لانا چاہیے۔ یہ ایک شخص کا معاملہ ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ جب حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کی تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کا خوب چرچا ہوا۔

ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ اور بعد میں فوج کے سدرن کمانڈ کی قیادت کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ، جو کہ اب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں، کے اثاثہ جات پر کڑی تنقید کی گئی۔

مگر جب 27 اگست کو صحافی احمد نورانی کی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار کے بارے میں ایک رپورٹ 'فیکٹ فوکس' نامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی تو سوالات اور تنقید کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا اور ٹوئٹر پر مسلسل 'عاصم باجوہ' اور 'باجوہ لیکس' ٹرینڈ کر رہا تھا۔

رپورٹ میں عاصم باجوہ اور ان کے خاندان سے متعلق دعوے

صحافی احمد نورانی نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کے 'خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔'

اپنی رپورٹ میں احمد نورانی نے عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق دعوے کیے ہیں جن میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ یہ جائیدادیں چار ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔

احمد نورانی نے ایک نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ 'عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم میں باقاعدہ 'نہیں ہے‘ لکھا ہے۔'

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ جاری کیے گئے اثاثہ جات کی فہرست میں عاصم باجوہ نے اپنی اہلیہ کے نام پر 'خاندانی کاروبار' میں صرف 31 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی اور اس حلف نامے کے آخر میں تصدیق کی کہ 'میری، اور میری بیوی کی اثاثہ جات کی فہرست نہ صرف مکمل اور درست ہے بلکہ میں نے کوئی چیز نہیں چھپائی۔'

عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے الزامات کی 'پر زور تردید'

احمد نورانی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ سے ان کی اہلیہ کی امریکہ میں جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ 'انھوں اپنے اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن میں اپنی بیوی کے حوالے سے واضح طور یہ کیوں لکھا کہ ان کا پاکستان سے باہر کوئی کاروباری سرمایہ نہیں ہے تو جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے جواب دینے سے گریز کیا۔'

تاہم مضمون کی اشاعت کے بعد ٹوئٹر پر عاصم باجوہ نے دو ٹوک انداز میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ 'ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔'

جب بی بی سی نے احمد نورانی سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ 'میں صرف یہ کہوں گا مناسب طریقے سے جواب دینے کے لیے انھیں واضح کرنا ہوگا کہ میرے مضمون میں کون سے حقائق غلط ہیں اور انھیں اس کے لیے شواہد فراہم کرنے ہوں گے۔'

احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ 'عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کا سنہ 2002 سے قبل مکمل ملکیت کا کوئی ذاتی کاروبار نہیں تھا اور اسی سال وہ سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں لیفٹنٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہوئے اور پرویز مشرف کے سٹاف میں تعینات ہوئے۔'

احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ 'یہ تمام سلسلہ شروع کیسے ہوا اور ابتدائی سرمایہ کیسے لگایا گیا اور وہ رقم کہاں سے حاصل کی گئی اور تین ہفتوں تک جوابات کا انتظار کرنے کے باوجود عاصم سلیم باجوہ خاموش کیوں رہے۔'

سوشل میڈیا پر رد عمل کیا رہا؟

جب گذشتہ ماہ اثاثہ جات کی فہرست شائع ہوئی تھی تو اُس وقت عاصم سلیم باجوہ سے ان کی 'ٹیوٹا زیڈ ایکس' گاڑی کی قیمت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔

اس بار احمد نورانی کے مضمون کی اشاعت کے بعد ایک بار پھر سوشل میڈیا کی توپوں کا رخ ان کی جانب ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ اچھا ہے کہ آپ نے رپورٹ کی تردید کر دی لیکن عوامی عہدے پر فائز ہونے کے بعد ایک فقرے کی تردید کافی نہیں ہوگی۔'

عسکری امور کی تجزیہ نگار اور محقق عائشہ صدیقہ نے بھی عاصم باجوہ کی ٹویٹ کی جواب میں کہا کہ 'جنرل صاحب، یہ بہت مناسب ہوگا اگر آپ دستاویزی ثبوت کے ساتھ الزامات کی تردید کریں۔ ایک جملے سے بات نہیں بنے گی۔'

صارف ذیشان خان نیازی لکھتے ہیں کہ 'بالکل غلط ہوگی سٹوری سر، آپ عدالت سے رجوع کریں اور اس جھوٹی سٹوری پر سزا دلوائیں۔تمام منی ٹریل مہیا کریں تاکہ یہ روز روز کے الزامات ختم ہوں۔'

اسی نوعیت کا تبصرہ ایک اور صارف شفیق احمد نے بھی کیا جو لکھتے ہیں کہ 'باجوہ صاحب جس طرح احمد نورانی صاحب نے مکمل تفصیلات دیں ہیں تو آپ بھی اسی طرح ہر بات کا تفصیلاً جواب دیں تاکہ ہم بھی انکی غلط بیانی کی مذمت کرسکیں کیونکہ انھوں ایسے ہی تماشا بنایا ہوا ہے۔۔۔'

صارف علی اظہر نے عاصم باجوہ کی تردیدی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ 'امریکہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات کے آڈٹرز اور حکام سے شفاف اور جامع تحقیقات کرائیں تاکہ یہ معاملہ ختم ہو سکے۔

٭٭٭اس خبر کے بعض حصوں کو شائع کیے جانے کے بعد ایڈٹ کیا گیا ہے۔