آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستانی پرچم اتارنے پر دو افراد گرفتار
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع میرپور کی پولیس کے مطابق ڈھوڈیال میں پاکستانی پرچم اتارنے پر دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ 21 اگست جمعہ کی شام پیش آیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر میرپور طاہر ممتاز کا کہنا تھا کہ مقبول بٹ اسکوائر بلدیہ ڈھوڈیال کی پراپرٹی ہے۔ یہاں پر پاکستان کا پرچم 14 اگست کی تقریبات کے لیے لگایا تھا۔ جس کے بعد ایک گرفتار ملزم نے پہلے بھوک ہڑتال کی اور پھر پاکستانی پرچم اتار دیا تھا۔ جس پر ان کے خلاف عوامی جذبات امڈ پڑے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام پرچم اتارنے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ غم وغصہ کا اظہار کیا جارہا تھا۔ جس پر قانون کے مطابق کاروائی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
واقعہ کیا ہوا ہے؟
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ ضلع میرپور کے صدر سعد انصاری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مقبول بٹ کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ڈھوڈیال میں مقبول بٹ شہید اسکوائر قائم کیا گیا تھا۔ اس اسکوائر پر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے پرچم لگے ہوئے تھے جن کو اتار کر کشمیر ریاست کے غیر ریاستی پرچم پاکستان کا پرچم لگایا گیا تھا۔
جس پر راجہ تنویر احمد اور ہمارے ساتھیوں نے انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ 14اگست کی تقریبات کے بعد کشمیر کے غیر ریاستی پرچم کو اتار لیا جائے گا اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے پرچموں کو دوبارہ لگا دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 14 اگست کی تقریبات ختم ہوئیں تو ہم نے انتظامیہ سے اپنا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ مگر جب ایسا نہ ہوا تو پہلے راجہ تنویر احمد نے 72 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کی۔ اس کے بعد عدالت سے رجوع کیا جب کسی بھی جگہ سے ان کے مطالبے کو پورا نہیں کیا گیا تو انھوں نے خود پاکستانی پرچم کو اتارا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعد انصاری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ انھوں نے پرچم کو صرف اتارا ہے کوئی توہین وغیرہ نہیں کی تھی بلکہ پرچم اتارنے کے بعد اس کو اپنے پاس اسی مقام پر رکھ لیا تھا کہ انتظامیہ آئی گئی تو اس کو یہ پرچم دے دیں گے۔
ڈپٹی کمشنر طاہر ممتاز نے سعد انصاری کے دعوی کو مکمل مسترد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے تھے۔ ہم نے کبھی بھی کسی سے کوئی پرچم دوبارہ لگانے اور اتارنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی سیاسی پارٹی، تنظیم وغیرہ کو کسی بھی مقام پر اپنے پرچم وغیرہ لگانے کے لیے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم سے ایسی کوئی اجازت کسی نے بھی حاصل نہیں کی تھی۔ مقبول بٹ اسکوائر کے دیکھ بھال انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جو وہ احسن طریقہ سے پوری کررہے ہیں۔ ‘
تنازع کیا ہے؟
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی پرچم کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے اور نہ ہی راجہ تنویر اور ہمارے دوسرے گرفتار ساتھی سفیر کشمیری نے ایسی کوئی توہین کی ہے۔
’یہ معاملہ نظریات کا ہے۔ حکومت نے ڈھوڈیال میں مقبول بٹ اسکوائر قائم کیا ہے۔ یہ کام ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ جس کو ہم بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مگر مقبول بٹ اور اب ان کے ساتھی اس وقت خود مختار کشمیر کی جدوجہد کررہے ہیں۔ ‘
ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا تھا کہ ’اب وہ اسکوائر جو مقبول بٹ کے نام سے منسوب ہے۔ وہاں پر کشمیرکے علاوہ کوئی بھی غیر ریاستی پرچم لگانا مناسب نہیں ہے۔ جس سے ہمارے ساتھیوں کے جذبات مجروع ہوئے ہیں۔ ‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعت اسلامی کے سابق امیر اور مرکزی رہنما سردار اعجاز افضل خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا پرچم اتارانا غداری کے مترادف ہے۔‘
ان کا دعوی تھا کہ ’اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آر اور پار کے کشمیری، کشمیر کو پاکستان بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ڈوڈھیال کی تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے کارکناں اکھٹے ہوئے اور انھوں نے دوبارہ پاکستان کا پرچم لہرایا ہے۔ ‘
مقبول بٹ اسکوائر سے پاکستانی پرچم اتارنے کے واقعہ کے بعد اس کے حق اور مخالفت میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ پرچم اتانے کی مخالفت کرنے والے اس پر سخت کاروائی کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ راجہ تنویر احمد اور سفیر کشمیری کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔