آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شمالی علاقہ جات میں سیاحت کی بحالی، کورونا وائرس ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اگر آپ کسی بھی طرح کچھ لمحوں کے لیے گذشتہ چند ماہ کو بھول جائیں تو یقین مانیے نتھیا گلی یا اس سے پہلے مری میں کوئی ایسا منظر نہیں جو آپ کو یہ یاد کروائے کہ ہم سب اب بھی ایک عالمی وبا کی زد میں ہیں۔
یہ علاقے سیاحت کے لیے کھلے ہی تھے کہ ملک بھر سے سیاح پہاڑی علاقوں کی جانب امڈ آئے اور اتوار کو خیبرپختونخواہ کے علاقے نتھیا گلی میں ہی 46 ہزار سے زیادہ گاڑیاں داخل ہوئیں اور دو روز میں ڈھائی لاکھ سیاحوں نے یہاں کا رخ کیا۔
بیشتر ہوٹلز میں مکمل بکنگ رہی جبکہ دکانیں، ریستوران بھی کھچا کھچ بھرے رہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی مہینوں سے لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی پابندیاں شہریوں کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا۔ سیاحت پر پابندی ختم ہوتے ہی کئی لوگوں کا سیاحتی مقامات کی طرف چلے آنا بھی سمجھ میں آتا ہے، مگر بنیادی ایس او پیز کا خیال نہ رکھنے کا جواز بھلا کیا ہو سکتا ہے؟
کہنے کو تو سیاحتی سرگرمیوں پر عائد پابندی ’نو ماسک، نو ٹوئرزم‘ پالیسی کے تحت ہٹائی گئی تھی، مگر اب ان مقامات پر ایسے سیاح شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں جو اس پالیسی پر عمل کر رہے ہوں، بیشتر فی الحال صرف ’نو ماسک‘ پر ہی عمل پیرا ہیں۔
بی بی سی کی ٹیم نے اتوار کو تقریباً دس گھنٹے پنجاب کے مشہور سیاحتی مقام مری اور خیبرپختونخواہ کے علاقے گلیات میں نتھیا گلی میں گزارے۔ ان دس گھنٹوں میں بمشکل دس افراد ہی ایسے دکھائی دیے جنھوں نے ماسک پہن رکھے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جہاں تک تعلق ہے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا ہے تو ایک چھوٹے سے سیاحتی مقام پر ڈھائی لاکھ افراد کیسے دو میٹر یا چھے فٹ یا چلیں ایک میٹر کا ہی فاصلہ قائم کر سکتے ہیں؟
مری اور نتھیا گلی میں اس قدر رش رہا کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔
نتھیا گلی کی حسین بل کھاتی سڑک پر بادل آپ کے ساتھ ساتھ اڑتے ہیں۔ ان ہی مناظر سے لطف اندوز ہوتی کئی فیملیز سڑک کنارے بار بی کیو میں مگن نظر آتی ہیں، کئی مقامات ’بندر پوائنٹس‘ ہیں جہاں بچے بندروں کو کھانا کھلانے میں مصروف نظر آتے ہیں اور کہیں گھڑسواری کی جاتی ہے۔
کئی ماہ بعد ایسے مناظر دیکھ کر آپ کو بھی اچھا لگے گا کہ وہ رونقیں جو کورونا وائرس کی وجہ سے ماند پڑ چکی تھیں، اب بحال ہو گئی ہیں۔
مگر یہ سب اس وقت تک ہی بھلا لگتا ہے جب تک آپ کسی ریستوران، بازار یا ریسٹ ایریاز میں داخل نہ ہو جائیں، کیونکہ یہاں کے مناظر کسی بھی سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان کو واپس موڑ سکتے ہیں۔
نتھیا گلی کے بازار میں قسم قسم کی جیولری، دیدہ زیب نقش و نگار والی شالز دیکھ کر کئی بار میرا دل بھی للچایا کہ کیوں نہ کچھ شاپنگ کی جائے، مگر ان دکانوں میں اور سڑک پر لوگوں کا ہجوم ہر بار میرے قدم روک لیتا کہ شاپنگ کے ساتھ وائرس مفت میں مل سکتا ہے۔
تاہم زیادہ پریشانی اس وقت ہوئی جب ہمیں خیال آیا کہ عوام کے اس جمِ غفیر میں کھانا کہاں کھایا جائے۔
انتظامیہ کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ ریستوران اپنی مجموعی گنجائش سے پچاس فیصد کم افراد کو بیٹھنے کی اجازت دیں گے۔ یعنی کسی ریستوران میں پچاس افراد کی بیٹھنے کا انتظام ہے تو ایک وقت میں صرف پچیس افرا د کو ہی کھانا پیش کیا جائے گا۔
مگر چھے ماہ بعد کھلنے والے ان ریستورانوں کے مالکان بھی شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ جتنا کمایا جا سکتا ہے، کما لیا جائے اور سیاحوں کو بھی سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پرواہ ہے نہ ہی وائرس کے پھیلاؤ کا خوف۔
ایسا لگتا ہے جیسے حکومتی ہدایات کے برعکس ریستورانوں نے اب تعداد نصف کرنے کی بجائے دگنی کر دی ہے۔
ہم ڈھونڈتے ڈھونڈتے بالآخر ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں ہم ماسک کے بغیر موجود ہجوم سے الگ کرسیاں لگوانے میں کامیاب ہوئے اور کھانا کھایا۔
یہاں موجود بڑے ہوٹلز میں تو صوبائی حکومتوں کی جانب سے نافذ کیے گئے ایس او پیز کی پابندی کے انتظامات تو موجود ہیں تاہم چھوٹے ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر پکنک پوائنٹس پر ایسے کوئی انتظامات نہیں ہیں۔
کئی مقامات پر یہ تو درج تھا کہ ہوٹل میں ماسک کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں، مگر عام طور پر ان جگہوں پر جو بھی داخل ہوا وہ ماسک کے بغیر ہی اندر گیا۔
واضح رہے کہ مارچ کے وسط میں سیاحتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جسے دو روز پہلے بحال کیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سیاحت کے شعبے کی بندش کے باعث 800 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔
اس سے پہلے گذشتہ ماہ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں سیاحت سے براہ راست نقصان کا تخمینہ تقریباً چار ارب ڈالر لگایا گیا تھا جبکہ اس سے وابستہ نو لاکھ خاندانوں کا روزگار ختم ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا مگر اس بے روزگاری سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا گیا تھا۔
اب سیاحتی مقامات کو شہریوں کے لیے کھولا گیا لیکن شہریوں اور ہوٹل انتظامیہ کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
ایک مقامی ہوٹل کے منیجر سردار حسن نے بتایا کہ سیاحت پر پابندی کے دوران اربوں کا نقصان ہوا اور صرف ہوٹلز ہی نہیں بلکہ اس سے منسلک تمام چھوٹے بڑے کاروبار تباہ ہوئے ہیں، ’مگر یہ ایک ’نیو نارمل' ہے، ہمیں ایس او پیز کو فالو کرنا ہو گا، ورنہ دیگر کئی ممالک کی طرح یہاں بھی دوسری لہر آ سکتی ہے۔‘
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایس او پیز کے مطابق ہوٹلز پر لازم ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ ماسک کے بغیر کوئی ہوٹل یا ریستوران میں داخل نہ ہو سکے۔
مہمانوں کے رخصت ہونے کے بعد ان کے زیر استعمال کمرے کو ڈس انفیکٹ کیا جائے اور اگلے 24 گھنٹوں کے لیے اس کی بکنگ نہ کی جائے۔
کمرے میں زیادہ سے زیادہ تین افراد کی بکنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہینڈ سینیٹائزر فراہم کیے جائیں جبکہ کھانے کی جگہوں پر تعداد نصف کر دی جائے۔
دوسری جانب ریستوران مالکان کو بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ میزوں کی درمیان فاصلہ بڑھایا جائے اور پہلے کی نسبت نصف افراد کو ایک وقت میں کھانا پیش کیا جائے۔
لیکن بیشتر ہوٹلز اور ریستورانوں میں ان ہدایات پر عملدرآمد تو کیا، اس بارے میں بات بھی نہیں کی جا رہی۔
نتھیا گلی میں ہی قائم ایک ہوٹل کے مالک حسن اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ گاہکوں سے ایس او پی کی پابندی کروائی جائے ’مگر یہ نہایت مشکل کام ہے۔ ہم تو صرف انھیں کہہ سکتے ہیں کہ ماسک پہنیں، اگر وہ نہیں مانتے تو ہم زبردستی نہیں کر سکتے۔‘
ایک اور دکاندار جنھوں نے خود بھی ماسک نہیں پہن رکھا تھا کہنے لگے کہ لاکھوں کے نقصان کے بعد اب کاروبار کا آغاز ہوا ہے اور یہ نہیں پتا کہ کب یہ پابندی دوبارہ لگ جائے۔
’میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی ماسک پہننا چاہییے اور سیاحوں کو بھی۔ ابھی تک میں نے دکان پر لکھ کر تو نہیں لگایا مگر اب سوچ رہا ہوں کہ لکھ لوں!‘
دوسری جانب اس بھیڑ میں حکومتی مشینری بھی بے بس نظر آتی ہے۔
’ہم اب سیاحوں کی مار پیٹ تو نہیں کر سکتے کہ وہ ماسک پہنیں‘، یہ جملہ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایک اہلکار نے اس وقت کہا جب میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں آنے والے سیاحوں نے ماسک پہن رکھے ہیں نہ ہی سماجی فاصلہ رکھا ہے۔
گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ماسک نہ پہننے والوں کو ایک ہزار روپے کا جرمانہ کیا جائے گا مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک بھر میں سیاح ایس او پیز کی پابندی نہیں کر رہے اور ’آگہی مہم چلانے کے باوجود انھیں وائرس کی موجودگی کا احساس ہے نہ ہی ایس او پیز کا خیال۔‘