آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماں کی ہلاکت کے بعد کم عمر برفانی تیندووں کی تلاش جاری
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
گلگت بلتستان کا محکمۂ جنگلی حیات آج کل برفانی تیندوے کے ان دو بچوں کی تلاش میں ہے جن کی ماں کو ہلاک کر کے اس کی کھال فروخت کرنے کی کوشش کرنے والے دو افراد کو حال ہی میں جرمانے اور قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
مادہ برفانی تیندوے کی ہلاکت کا واقعہ چند دن قبل پیش آیا تھا اور حکام کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں اس کے ذمہ دار دو افراد کو معدومیت کا شکار برفانی تیندوے کے غیر قانونی شکار اور اس کی کھال کے کاروبار کا الزام ثابت ہونے پر پچاس، پچاس لاکھ روپے جرمانہ اور دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مجرموں کو ایک سال مزید قید کی سزا بھگتنا ہو گی جبکہ دو مجرموں کو معاونت کرنے پر ایک ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ڈی ایف او وائلڈ لائف ہنزہ، نگر اور خنجراب نیشنل پارک جبران حیدر کے مطابق دورانِ تفتیش ان ملزمان نے بتایا تھا کہ ہلاک کی گئی مادہ برفانی تیندوا تقریباً ایک ماہ عمر کے دو تیندووں کی ماں تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ماں سے محروم ہونے والے یہ بچہ تیندوے اب کسی مدد کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ان کے مطابق محکمۂ جنگلی حیات نے ضلع نگر میں اس مقام پر جہاں مادہ تیندوے کو ہلاک کیا گیا تھا، بچوں کی تلاش کے لیے کیمپ لگا رکھا ہے مگر ابھی تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمیں وہ تیندوے مل گئے تو انھیں برفانی تیندووں کی مدد کے لیے قائم ریلیف سنٹر منتقل کر دیا جائے گا‘۔
جبران حیدر کے مطابق برفانی تیندوا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان اور چترال وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ مختلف بین الاقوامی سروے کے مطابق اس کی پاکستان میں کل آبادی 450 ہے جس کا ساٹھ فیصد گلگت بلتستان میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برسوں میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں برفانی تیندووں کی آبادی بڑھی ہے لیکن اس کے باوجود انھیں لاحق خطرات کم نہیں ہوئے ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات غیر قانونی کاروبار میں ملوث گروہ تک کیسے پہنچا؟
جبران حیدر نے بتایا کہ انھیں ایک ذریعے سے اطلاع ملی کہ برفانی تیندوے کا شکار کیا گیا ہے۔ ’ہم نے ابتدائی معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ فیس بک پر موجود بلیک مارکیٹ کے لوگوں کے ایک گروپ میں ایک شخص برفانی تیندوے کی کھال فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجرم نے فیس بک پر اپنی شناخت نہیں دی تھی جبکہ جو تصاویر دے رکھی تھیں اس میں ماسک استعمال کیا ہوا تھا۔ اس وجہ سے ہمارے لوگوں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس تک پہچنے کے لیے خریدار کا روپ دھارا۔ فیس بک کے ذریعے ہی سے رابطہ قائم کیا اور اس کا نمبر لیا‘۔
جبران حیدر کے مطابق اس موقع پر محکمہ وائلڈ لائف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے نمبر کے مالک تک پہنچا تو پتا چلا کہ یہ نمبر کسی اور کے نام پر جعلسازی سے حاصل کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اس کے بعد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سے کھال بیچنے والے شخص کے ماسک والی تصاویر کے خاکے تیار کروائے گئے جن کی مدد سے مجرم کی شناخت ضلع نگر کے دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والے سلیم نامی شخص کی حیثیت سے ہوئی۔ جس کے بعد ایف سی، پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف گلگت بلتستان کے اہلکاروں کی مدد سے چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ وہ اور اس کا ایک اور ساتھی سلاجیت کی تلاش میں پہاڑوں پر گئے تھے جہاں ایک غار میں مادہ برفانی تیندوا اپنے دو بچوں کے ساتھ موجود تھی اور انھوں نے اپنی جان بچانے کے لیے اس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور بعد میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے اس کی کھال اتار لی تھی۔
جبران حیدر کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سلاجیت اور دیگر معدنیات حاصل کرنے والے اکثر پہاڑوں اور جنگلات میں جاتے ہیں جہاں اکثر ان کا سامنا برفانی تیندووں اور دیگر جنگلی حیات سے ہوتا ہے مگر جنگلی جانور اس وقت تک انھیں نقصاں نہیں پہنچاتے جب تک انھیں اپنی جان کا خطرہ نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ویسے بھی جو ثبوت ہمیں ملے ہیں۔ ان کے مطابق برفانی تیندوے کو غار کے اندر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے‘۔
جبران حیدر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے تیندوے کی کھال محفوظ کرنے کے لیے ضلع ہنزہ کے ایک ٹیکسیڈرمسٹ کو دی تھی جہاں سے وہ برآمد کر لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھال کے علاوہ مجرموں کے پاس ہلاک کی جانے والی مادہ کی تصاویر بھی برآمد ہوئی ہیں۔
بلیک مارکیٹ میں برفانی تیندوے کے کھال کی قیمت
جبران حیدر کا کہنا تھا کہ ’گرفتاری سے قبل مجرم سے فون پر جو سودا کیا جا رہا تھا اس میں وہ کھال کے ساڑھے تین لاکھ روپے مانگ رہا تھا اور میرے خیال میں گلگت بلتستان میں برفانی تیندوے کے کھال کی یہی قیمت ہے۔
’اس کی اصل مارکیٹ پاکستان کے بڑے شہروں میں ہے جہاں پر مختلف غیر سرکاری اداروں کے سروے کے مطابق اس کی قیمت آٹھ سے دس لاکھ روپے تک جاتی ہے کیونکہ اسے امیر اور شوقین لوگ سجاوٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔