راول ڈیم نیوی کلب: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے سے معائنے کے بعد رپورٹ طلب کر لی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے راول ڈیم کے کنارے پاکستان بحریہ کی جانب مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر تعمیر کیے گئے نیوی کلب کے خلاف ایک درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سنگل بینچ نے آئندہ سماعت پر چیف آف نیول سٹاف، چیئرمین سی ڈی اے، اٹارنی جنرل اور وزارت ماحولیاتی تبدیلی سے تحریری جواب طلب کر لیے ہیں۔

نمائندہ بی بی سی شہزاد ملک کے مطابق پاکستان بحریہ کی ایک ایگرو فارم سکیم میں پلاٹ کی بروقت الاٹمنٹ نہ ہونے کے باعث عدالت میں مقدمے کی پیروی کرنے والی اسلام آباد کی رہائشی ایک خاتون نے جمعرات کو روال ڈیم کے کنارے نیوی کلب کی صورت میں ہونے والے مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایک متفرق درخواست دائر کی جسے سماعت کے لیے منظور کر لیا گیا۔

اس کیس کی آئندہ سماعت 23 جولائی کو ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ پاکستان نیوی راول ڈیم کے کنارے 'پاکستان نیوی سیلنگ کلب' کی تعمیر کر رہی ہے جسے حال ہی میں وفاقی ترقیاتی ادارے نے 'غیرقانونی' قرار دیا ہے تاہم بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جس جگہ یہ تعمیرات ہو رہی ہیں وہ جگہ پاکستان بحریہ کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے الاٹ کی تھی۔

دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ ایک افسر مقرر کریں جو اس جگہ کا معائنہ کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے نے کس اتھارٹی کے تحت یہ جگہ الاٹ کی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ یہ اہم نوعیت کا کیس ہے اس لیے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل بھی عدالت کی معاونت کریں۔

درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں تعمیرات کی تصاویر بھی پیش کی گئیں۔

’کلب کے لیے زمین کی منظوری 1991 میں وزیر اعظم نے دی‘

اس سے قبل بی بی سی کے نمائندے اعظم خان سے بات کرتے ہوئے بحریہ کے حکام کا کہنا تھا کہ اس کلب کی منظوری سنہ 1991 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے دی تھی۔

پاکستان بحریہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’پاکستان نیوی سیلنگ کلب‘ راول ڈیم پر سنہ 1992 سے قائم ہے اور اب اس میں تفریحی مقاصد کے لیے کچھ تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں جس کی وجہ سے سی ڈی اے نے غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس بھیجا۔‘

تاہم سی ڈی اے کے حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ریکارڈ میں پاکستانی بحریہ کو ایسے مقاصد کے لیے کوئی جگہ راول ڈیم کے ساتھ کبھی الاٹ نہیں کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس کلب کا افتتاح رواں ہفتے کیا گیا ہے اور اس کی رکنیت کو صرف افواج پاکستان کے موجودہ اور ریٹائرڈ ارکان، بیوروکریسی، کاروباری شخصیات اور سفارتکاروں تک محدود رکھا گیا ہے۔

افواج پاکستان کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے ممبرشپ فیس دس ہزار، بیوروکریٹس کے لیے ڈیڑھ لاکھ جبکہ تاجروں اور سفارتکاروں کے لیے چھ لاکھ روپے تک ہے۔

کیا پولیس نیوی کے خلاف سی ڈی اے کی مدد کرے گی؟

13 جولائی کو بھیجے گئے نوٹس کے ذریعے سی ڈی اے نے بحریہ کے حکام کو متنبہ کیا تھا کہ اگر وہ قانون کے مطابق تعمیرات فوری طور پر نہیں روکتے تو پھر وفاقی ترقیاتی ادارے کو حق حاصل ہو گا کہ وہ یہ غیر قانونی تعمیرات گرا دے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سی ڈی اے کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نیوی کو راول ڈیم پر ان مقاصد کے لیے کوئی جگہ الاٹ نہیں کی گئی ہے اور جو تعمیرات کی گئی ہیں وہ سب غیر قانونی ہیں۔

سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان نیوی کو متعدد بار نوٹس بھیجے گئے مگر انھوں نے غیر قانونی تعمیرات نہیں روکیں اور اب اس کلب کا کاروباری مقاصد کے لیے افتتاح کر دیا گیا۔

بلڈنگ سیکشن کے مطابق اگر پاکستان نیوی اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹتی تو پھر قانون کے مطابق سی ڈی اے اسلام آباد انتظامیہ سے مدد طلب کرے گی اور پولیس کی نفری کے ساتھ غیر قانونی تعمیرات کو گرا دیا جائے گا۔

کیا اسلام آباد پولیس پاکستان نیوی کے خلاف آپریشن میں حصہ لے گی؟ اس سوال کے جواب میں سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ قانون میں تو یہی لکھا ہے کہ وہ غیرقانونی کام کے خلاف ادارے کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔

ترجمان سی ڈی اے مظہر حسین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس معاملے پر ابھی گفت و شنید ہو رہی ہے اور سی ڈی اے قانون کے مطابق اس کا حل تلاش کرے گی۔

’نیوی نے کلب پیشہ وارانہ مقاصد کے لیے بنایا‘

ترجمان بحریہ کے مطابق بحری افواج کبھی بھی غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات پر یقین نہیں رکھتی۔

ان کے مطابق اسلام آباد میں یہ ایک ’ڈائیونگ فسیلِیٹی‘ قائم کی گئی تھی تاکہ یہاں پیشہ ورانہ مقاصد کے حصول کے لیے کام کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کلب کا نام ’نیشنل سیلنگ کلب راول لیک‘ رکھا گیا ہے اور اس جگہ موجود نیوی کے اہلکار ہنگامی حالات میں گلگت بلتستان تک ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کے لیے جاتے رہے ہیں اور مصیبت میں گھری درجنوں قیمتی انسانی جانیں بچائی گئی ہیں۔

کلب کے قانونی پہلوؤں سے متعلق ترجمان کا کہنا تھا اس سے قبل بھی پاکستان نیوی نے سی ڈی اے چیئرمین عامر احمد علی کو تفصیل سے لکھ کر بھیجا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں یہ جگہ پاکستان نیوی کو الاٹ کی گئی تھی۔

ان کے مطابق اس جواب کے بعد سی ڈی اے نے خاموشی اختیار کر لی تھی اور پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ اس کلب کی بہتری کے لیے نیوی اپنا کام جاری نہ رکھتی۔

پاکستان نیوی نے کلب کی رکنیت سازی کیوں شروع کی؟

پاکستان نیوی کے ترجمان کے مطابق کلب کی رکنیت کھولنے کا مقصد کوئی تجارت یا مالی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ ایسا کلب کی بہتری کے لیے کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ سویلینز کے لیے اس کلب کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق یہ رکنیت بالکل بھی امتیازی نہیں ہے بلکہ آگے چل کر عام شہری بھی اس کلب سے مستفید ہو سکیں گے۔ ان کے مطابق افواج پاکستان کو تو کنٹونمنٹ علاقوں کے اندر بھی تمام سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔ بحریہ ترجمان کے مطابق اس وقت سی ڈی اے سے مذاکرات چل رہے ہیں اور تمام امور کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے گا۔

سی ڈی اے ترجمان نے بھی اس حوالے سے اعلیٰ سطحی رابطوں کی تصدیق کی ہے۔

'یہ ماحولیات کا بھی مسئلہ ہے‘

سی ڈی اے حکام کے مطابق راول ڈیم پر کلب نہ صرف ایک غیر قانونی تعمیر ہے بلکہ یہ ماحولیات کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس ڈیم سے راولپنڈی کے باشندوں کو پانی کی فراہمی کی جاتی ہے۔

وفاقی ترقیاتی ادارے کے پلاننگ، بلڈنگ اور ماحولیات کے شعبوں نے پاکستان نیوی کے اس منصوبے کو ہر لحاظ سے دارالحکومت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

ان شعبوں کے حکام کے مطابق رکنیت حاصل کرنے کے بعد جب یہاں زیادہ لوگ آ کر رکیں گے تو اس سے نہ صرف راول ڈیم کا پانی آلودہ ہو گا بلکہ نیشنل پارک ایریا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔