آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وبا کے دنوں میں کراچی اور لاہور میں جون کے مہینے میں اموات کی تعداد میں 2019 کے مقابلے میں واضح اضافہ
- مصنف, سکندر کرمانی، عثمان زاہد اور عابد حسین
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
پاکستان میں کووڈ 19 کی وبا کے آغاز کے بعد سے ہی ملک بھر میں اموات (کورونا اور کورونا کے علاوہ) میں اضافے کے بارے میں دعوے اور قیاس آرایاں کی جاتی رہی ہیں۔
بی بی سی کو حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے دو بڑے شہروں، لاہور اور کراچی میں گذشتہ سال جون اور اس سال جون میں ہونے والے اموات میں واضح فرق ہے۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی جانب سے فراہم کیے گئے شہر میں کے ایم سی کے زیر انتظام 32 سرکاری قبرستانوں کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2019 میں 2375 میتیں دفنائی گئی ہیں جبکہ اس سال جون میں 3594 افراد کو سپردِ خاک کیا گیا۔
دوسری جانب میٹروپولیٹن کارپوریشن آف لاہور کے مطابق جون 2019 میں لاہور شہر میں رجسٹرڈ اموات کی تعداد 1744 تھی جبکہ رواں برس جون میں 3723 اموات درج کی گئی ہیں۔
ادھر حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے کورونا وائرس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا کے آغاز کے بعد سے لے کر جون 2020 کے اختتام تک کراچی میں کُل 1117 جبکہ لاہور میں 686 اموات ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے صرف جون کے مہینے میں صوبہ سندھ میں کل اموات کی تعداد 896 جبکہ پنجاب میں 1265 ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کراچی میں بڑھتی ہوئی اموات
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کورونا وائرس بڑی تعداد میں پھیلا ہوا ہے اور شہر میں اب تک 1100 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
کے ایم سی کے مطابق جون کے مہینے میں شہر کے سرکاری قبرستانوں میں 118 میتیں دفنائی گئی تھیں جن کی موت مصدقہ طور پر کورونا وائرس سے ہوئی تھی۔
کے ایم سی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بہت ممکن ہے کہ ان قبرستانوں میں دفنائے گئے دیگر افراد میں سے کئی ایسے ہوں جو کورونا وائرس سے متاثر ہوں۔
اس اہلکار کے مطابق اکثر اوقات لواحقین قبرستان کی انتظامیہ کو موت کی وجہ بتانے والا سرٹیفیکٹ نہیں دیتے کیونکہ وہ اس مرض کی باعث ہونے والی بدنامی سے بچنا چاہتے ہیں۔
یہاں پر یہ واضح کرنا ضروری ہو گا کہ کے ایم سی کی جانب سے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اموات کی تعداد میں واضح فرق صرف جون 2019 اور جون 2020 کی تعداد میں آیا ہے۔
اس سال کے دیگر مہینوں کا گذشتہ سال سے موازنہ کریں تو اضافہ نظر آتا ہے لیکن اس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم کراچی میں جون 2020 میں ہونے والی اموات میں اضافے پر ایدھی فاؤنڈیشن سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کے اعداد و شمار سے کے ایم سی کے مواد کی تصدیق ہوئی ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق انھوں نے کراچی میں جون 2019 میں 1090 افراد کی میتوں کی تدفین اور منتقلی کی جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 3064 تک جا پہنچی ہے۔
کراچی کے جناح ہسپتال کی ڈائریکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھی اس خیال کا اظہار کیا کہ شہر میں لاک ڈاؤن لگ جانے کی وجہ سے مریضوں کو نہ صرف ہسپتال تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا تھا بلکہ انھیں یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں وہاں جانے سے انھیں وائرس نہ لگ جائے۔
’لاک ڈاؤن کی وجہ سے مریض صرف اس وقت ہسپتال جا رہے تھے جب بالکل ہی زندگی اور موت کا سوال ہوتا جبکہ دوسری جانب کورونا وائرس ایک بدنامی کی علامت بن گیا ہے اور لوگ اس سے ڈرتے ہیں، بھاگتے ہیں اور چھپاتے ہیں۔‘
لاہور میں کیا صورتحال ہے؟
حکومت پنجاب کی جانب سے دیے گئے یومیہ اعداد و شمار کو دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے لاہور شہر میں جون میں 487 اموات ہوئی ہیں جو کہ شہر میں جون کے مہینے میں ہونے والی کُل اموات (3723) کا 13 فیصد بنتی ہیں۔
گذشتہ سال جون میں ہونے والی اموات (1744) کے مقابلے میں اس سال دوگنا اضافہ نظر آتا ہے۔
گو کہ اس سال اور گذشتہ سال کے بقیہ مہینوں کے اعداد و شمار نہیں موجود تاہم لاہور میں بڑی تعداد میں اموات کی تصدیق شہر کے سب سے بڑے قبرستان کے اعداد و شمار سے کی جا سکتی ہے۔
میانی صاحب قبرستان میں جون 2019 میں 696 میتوں کو دفنایا گیا تھا جبکہ اس سال جون میں یہ تعداد 1176 تھی، جن میں سے صرف 48 وہ تھیں جنھیں سرکاری طور پر کووڈ 19 اموات قرار دیا گیا تھا۔
ملک کے باقی حصوں میں کیا ہو رہا ہے؟
پاکستان میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ شرح اموات خیبر پختونخوا میں ہے جہاں صرف جون کے مہینے میں 478 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں اور مجموعی طور پر 30 جون کے اختتام پر صوبے میں کُل 951 اموات ہوئی ہیں۔
لیکن جب بی بی سی نے موازنے کے لیے صوبائی حکام سے گذشتہ سال کے اعداد و شمار مانگے تو بتایا گیا کہ وہ ڈیٹا موجود نہیں ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ماضی کے اعداد و شمار تو نہیں دیے لیکن انھوں نے بتایا کہ اس سال فروری میں 220، مارچ میں 260، اپریل میں 315، مئی میں 667 اور جون میں 641 اموات ہوئی ہیں۔
لیاقت شاہوانی نے واضح کیا کہ جون میں اموات کی تعداد میں صوبے کے سب سے بڑے اور متاثرہ شہر کوئٹہ میں ہونے والی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔
اگرچہ یہ اعداد و شمار ملک میں رواں برس جون کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں واضح اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن اگر مجموعی طور پر ان اموات کا کورونا وائرس سے براہ راست تعلق ہے تب بھی یہ شرح اموات یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں کم ہے۔
اب یہ دیکھنا ہوگا کہ جولائی کے دوران اموات کی تعداد میں اضافے کا رحجان متوقع اموات سے زیادہ رہے گا یا نہیں۔
پاکستان میں کووڈ 19 کی وبا کے آغاز سے ہی کئی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ مختلف افواہوں، ڈر اور خوف اور عوام کے خراب رویے کی وجہ سے کئی لوگ ہسپتال جانے سے اجتناب کر رہے ہیں۔
ساتھ ساتھ کورونا سے ہونے والی اموات کے حوالے سے سخت حکومتی ایس او پیز کی وجہ سے ان اموات کو چھپایا بھی جا رہا ہے۔
بی بی سی نے اس معاملے پر ردعمل لینے کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ وفاقی وزیر اسد عمر سے رابطہ کیا تاہم ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔