آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مکان ہتھیانے کے لیے 14 سالہ بچے کا قتل: مقدمے کا مدعی ہی ملزم نکلا
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
تنبیہ: اس خبر کے کچھ پہلو ہمارے قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس کے مطابق 14 برس کے بچے کے قتل کی تفتیش کے دوران مقدمے کے مدعی نے ہی حکام کے سامنے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔
قتل کا یہ واقعہ چند روز قبل لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں پیش آیا تھا جب محمد سلیم نامی شخص کے گھر ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکو گھر میں موجود نقدی اور دیگر قیمتی سامان لے جانے کے ساتھ ساتھ ان کے 14 سالہ بیٹے نبیل کو بھی ہلاک کر گئے تھے۔
ابتدائی طور پر لواحقین کو یہی لگا کہ ڈکیتی کی واردات کے دوران کسی وجہ سے بچے کو مار دیا گیا لیکن مقدمے کی تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ اس ڈکیتی کا اصل مقصد بچے کا قتل ہی تھا۔
یہ بھی پڑھیے
’فون پر اطلاع ملی کہ آپ کا بیٹا قتل ہوا ہے‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
35 سالہ محمد سلیم لاہور میں مالی کا کام کرتے ہیں جبکہ ان کی بیوی ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد سلیم نے بتایا کہ وہ اور ان کی بیوی معمول کے مطابق روزانہ ہی اپنے اپنے کام پر جاتے ہیں اور جس دن یہ واقعہ پیش آیا وہ دونوں گھر پر موجود نہیں تھے۔
’ہم دونوں کو محلے کے لوگوں نے ٹیلی فون پر اطلاع دی کہ آپ کا بیٹا قتل ہوا ہے۔
’میرا 14 برس کا بیٹا اور آٹھ سال کی بچی سکول بند ہونے کی وجہ سے گھر پر ہی موجود تھے۔ جب ڈاکو گھر پر آئے تو انھوں نے ان کی بیٹی کو باہر کھلینے کے لیے بھیج دیا۔ تاہم کچھ دیر گزرنے کے بعد جب وہ گھر واپس آئی تو اس نے بھائی کی لاش دیکھی اور محلے والوں کو بتایا۔
’ہم گھر پہنچے اور بیٹی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ بھائی اوپر طوطے دیکھنے گئے تھے۔ ہم نے اوپر جا کر دیکھا تو میرے بیٹا کا گلا کٹا ہوا تھا اور اس کے منہ اور آنکھ کے نیچے بھی چھریوں کے نشان تھے۔ میں اور میری بیوی یہ دیکھ کر بے ہوش ہو گئے۔ اتنی دیر میں رشتہ دار اور محلے دار بھی آگئے اور پولیس کو اطلاع دی۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ پولیس جب پہنچی تو گھر کا معائنہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ گھر میں ڈکیتی ہوئی ہے اور ڈاکو نقدی اور دیگر قیمتی سامان بھی لے گئے ہیں۔
لاعلم تھے کہ واردات کے پیچھے کون ہوگا
محمد سلیم کے مطابق جب مقدمہ درج کرنے کی باری آئی تو مدعی بننے کے لیے بچوں کے خالو نے جو کہ بعد میں ملزم ثابت ہوا خود کو آگے کر دیا۔
’پولیس والوں نے پوچھا کہ کون ہے بچے کا باپ، تو میرا ہم زلف بھاگ کر ان کے پاس گیا اور بولا کہ میں بچے کا ماموں ہوں۔ وہ درحقیقت بچوں کا خالو ہے لیکن پولیس کے سامنے اس نے خود کو بچوں کا ماموں کہا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ میری مدعیت میں مقدمہ درج کریں کیونکہ اس بچے کا باپ بہت بیمار ہے اور چل بھی نہیں سکتا۔‘
محمد سلیم کا کہنا تھا کہ ’میں اس وقت ہوش میں نہیں تھا کیونکہ وہ میرے بھائیوں کی طرح تھا۔ اس لیے میں نے کہا ٹھیک ہے یہ تمام معاملات کو دیکھ لے گا۔‘
انھوں نے مزيد بتایا کہ گھر میں جب ڈکیتی ہوئی تو دو سے ڈیڑھ لاکھ روپے پڑے ہوئے تھے جو میں نے کسی کو ادا کرنے تھے۔ ’اس بات کا علم صرف ہم دونوں میاں بیوی اور ملزم کو تھا کیونکہ وہ ہمارا بہت قریبی تھا اور ہم اس سے اپنے گھر کی ہر بات کرتے تھے۔‘
’پہلے تو مجھے یہی لگا کہ ڈکیتی ہے لیکن جب پولیس نے مجرموں کو پکٹر کر تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ ڈکیتی تو صرف ایک بہانہ تھا۔ مجرموں کا اصل مقصد میرے بیٹے کو قتل کرنا تھا۔‘
آٹھ سالہ بچی نے ملزمان کی نشاندہی کی
اس کیس کے تفتیشی افسر محمد مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو گھر کی چھت پر بچے کی لاش پڑی تھی۔ ابتدائی معلومات اکٹھی کرنے کے بعد بچی سے بیان لیا گیا کیونکہ وہ اس وقت گھر میں موجود تھی۔
’بچی ڈری ہوئی تھی اس لیے پہلے اس نے کچھ نہیں بتایا۔ کچھ دیر بعد اس نے بتایا کہ سلیم ہی کا ایک اور رشتہ دار طیب گھر پر آیا تھا۔
ان کے مطابق ’بچی نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ میں اور بھائی گھر میں تھے تو کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ بھائی نے پوچھا کون ہے۔ تو وہ بندہ بولا کہ طیب ہوں، دروازہ کھو لو۔ جس کے بعد بھائی نے دروازہ کھول دیا۔ جب دروازہ کھولا تو وہ طیب نہیں کوئی اور تھا لیکن میں نے اسے دیکھا ہوا ہے!‘
تفتیشی افسر نے یہ بھی بتایا کہ ’اس سے قبل بچوں کا خالو ایف آئی آر میں یہ لکھوا چکا تھا کہ میں اپنی بہن کو ملنے اس کے گھر آیا تو سلمان نامی شخص جو ان کے ہی علاقے کا ہے وہ اوپر چھت پر موجود تھا اور اس نے نبیل کا گلا کاٹا اور جب میں نے اسے دیکھا تو وہ موقع سے فرار ہو گیا‘۔
پولیس نے اپنا ریکارڈ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ سلمان نامی شخص پہلے بھی چوری کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ’ہم نے اس کی تصوير لے جا کر بچی کو دکھائی تو اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ وہی شخص ہے جو گھر آیا تھا۔‘
پولیس نے سلمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے اور اسے پکڑ لیا۔ مزید تفتیش کرنے پر سلمان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس واردات میں وہ اکیلا نہیں تھا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اس کے ساتھ طیب اور قیوم (مقتول کا خالو) بھی شامل تھے اور یہ کارروائی مقدمے کے مدعی اور مقتول بچے نبیل کے خالو کی ایما پر ہوئی۔
سلمان کی اس نشاندہی پر پولیس نے نبیل کے خالو اور دو قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کر کے ان سے آلہ قتل چھری، پستول اور دو لاکھ روپے نقدی، چیک بُک، پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور ایک ’پیچ کس‘ برآمد کر لیے۔
بچے کو قتل کیوں کیا گیا؟
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنے سالی کا دو مرلے کا گھر ہتھیانے کے لیے اس کے بیٹے نبیل کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اورلالچ دے کر اپنے دو قریبی رشتہ دار ساتھیوں کو بھی ساتھ ملا لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم قیوم نے بتایا کہ ’طیب میرا چچا زاد بھائی ہے۔ اس لیے ہم نے باہر سے سلمان کو لالچ دی کہ ہم اسے بچے کو قتل کرنے کے تیس سے چالیس ہزار دیں گے۔ مجھے علم تھا کہ مقتول نبیل کا والد مالی اور والدہ اور لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور بچے دن بھر گھر پر اکیلے ہوتے ہیں۔‘
ملزم نے اپنے اعتراف میں بتایا کہ انھوں نے ’موقع دیکھ کر طیب اور سلمان کو طوطے خریدنے کے بہانے مقتول نبیل کے گھر بھیجا۔ گھر پہنچنے پر طیب آواز دے کر پیچھے ہٹ گیا اور سلمان قتل کرنے کے لیے اندر چلا گیا۔
’جب بچی گھر سے باہر نکلی تو میں اور طیب اندر گئے۔ ہم پیسے اور سامان چوری کر کے موقع سے فرار ہو گئے۔‘
مقدمے کے تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ جب قیوم نے اعترافِ جرم کیا تو انھوں نے بچے کے والدین کی ان تینوں ملزمان سے ملاقات کروائی۔
’اس دوران قیوم نے اپنی سالی اور ہم زلف کو بتایا کہ اس نے یہ منصوبہ کافی عرصہ پہلے تیار کیا کہ وہ سلیم کے بیٹے کو قتل کرنے کے بعد اپنے بیٹے کی شادی سلیم کی بیٹی سے کر دے گا اور یوں تمام جائیداد خود اس کے پاس آجائے گی۔‘
’بیٹے کو پولیس کا بڑا افسر بنانا چاہتا تھا‘
بچے کے والد سلیم نے بتایا کہ انھوں نے سخت محنت کر کے اپنے بیٹے کے لیے دو مرلے کا گھر بنایا اور ایک تین مرلے کا پلاٹ خریدا۔
’ہم دونوں میاں بیوی اپنی چادر سے بڑھ کر اپنے بچوں کو اچھے سکول میں پڑھا رہے تھے۔ میں نے آج تک جو جمع کیا تھا وہ میرے بچوں کے لیے تھا۔‘
ان کا خیال تھا کہ جب ان کا بیٹا بڑا ہوگا تو یہ تمام چیزیں بیچ کر وہ یہ پیسے اُس کی پڑھائی پر لگا دیں گے ’تاکہ وہ پولیس کا بڑا افسر بن سکے۔ (لیکن) میرے تمام خواب ٹوٹ گئے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے ہمیشہ قیوم کو اپنا بھائی سمجھا اور اسے تمام باتوں سے آگاہ رکھا۔
’وہ جانتا تھا کہ ہم دونوں میاں بیوی یہ سب محنت اپنے بیٹے کے مستقبل کے لیے کر رہے ہیں۔ اس نے اپنے حسد میں میرے بیٹے کو قتل کر کے ہم سب کا مستقبل ختم کر دیا۔‘
پولیس کے مطابق ملزمان ان کی حراست میں ہیں اور ان کے چالان تیار ہونے کے بعد انھیں جلد عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔