پشاور میں شہری پر پولیس تشدد کا معاملہ: ’امید ہے پولیس اہلکاروں کو کلین چِٹ نہیں دے دی جائے گی‘

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں ایک شہری پر پولیس کی جانب سے تشدد اور اسے نیم برہنہ کر کے ویڈیو بنانے کے معاملے میں پشاور ہائی کورٹ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پولیس افسران اس واقعے کے کرداروں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور ایسا نہیں ہوگا کہ انکوائری میں پولیس اہلکاروں کو کلین چٹ دے دی جائے گی۔

یہ معاملہ چند روز قبل پشاور کے ایک شہری کی ویڈیو سے شروع ہوا تھا جس میں اس نے پولیس اہلکاروں کے بارے میں نازیبا گفتگو کی تھی۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تھانہ تہکال کی پولیس نے اس شخص کو حراست میں لے لیا تھا اور پھر اس کی نیم برہنہ حالت میں ویڈیو سامنے آئی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لے کر جمعرات کو سماعت کا آغاز کیا۔ سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث مقامی تھانے کے ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ اہلکاروں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عدالت کو بتایا گیا پشاور کے ایس ایس پی آپریشن ظہور بابر آفریدی کو ان کے عہدے سے ہٹا کر سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

سماعت کے دوران انسپیکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا اور سی سی پی او عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر جسٹس قیصر رشید کا کہنا تھا کہ پولیس کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور دوسری طرف ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔

انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’اس واقعے نے معاشرے کے بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عوام کو صدمے سے دوچار کیا ہے۔ چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورا محکمہ بدنام ہوا ہے۔‘

جسٹس قیصر رشید کا کہنا تھا کہ کسی بھی تھانے کے ایس ایچ او پر بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، ’ایس ایچ او بنانے سے پہلے اُن کا ٹیسٹ کیا کریں کہ آیا امیدوار کا ذہنی توازن ٹھیک ہے بھی یا نہیں‘۔

انھوں نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ اس معاملے میں انکوائری مکمل کی جائے لیکن ’ایسا نہ ہو کہ انکوائری میں پولیس اہلکاروں کو کلین چٹ دے دی جائے‘۔

پولیس افسران کی جانب سے بتایا گیا کہ اس معاملے میں مبینہ طور پر ایس ایس پی کا کردار بھی تھا جنھیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ’انکوائری میں پیٹی بند بھائیوں کو کلین چٹ دے دی جائے‘۔

جسٹس قیصر رشید کا کہنا تھا کہ امید ہے پولیس افسران اس واقعے کے کرداروں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

وائرل ویڈیو کا معاملہ کیا ہے؟

چند روز پہلے سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چند لڑکے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور ان میں ایک اپنا تعارف پشتو زبان میں یہ کہہ کر کرواتا ہے کہ ’میں تہکال کا عامر ہوں۔‘

تہکال پشاور کی یونیورسٹی روڈ پر ایک علاقہ ہے جہاں بیشتر آبادی ارباب خاندان کی ہے۔

اس ویڈیو میں مذکورہ لڑکا پولیس افسران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پولیس اس کا کیا کر سکتی ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مقامی پولیس نے ایس ایچ او کی زیر نگرانی کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کو گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد ان کی ایک تصویر اور مختصر ویڈیو سامنے آئی جس میں عامر کے چہرے پر تشدد کے نشان دیکھے جا سکتے تھے اور ویڈیو میں وہ معافی مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔

یہ ویڈیو اور تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوئی جس میں کچھ لوگ عامر کے رویے پر سخت تنقید کرتے رہے لیکن بیشتر لوگوں کا موقف تھا کہ عامر نے جو حرکت کی اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی اور پولیس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو تھانے لے جا کر اس پر تشدد کرے اور خود ہی اسے سزا دے۔

یہ معاملہ سوشل میڈیا پر پولیس پر تنقید اور کچھ بحث کے بعد ٹھنڈا پڑا ہی تھا کہ ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں عامر کو نیم برہنہ دیکھا جا سکتا ہے اور اہلکار اس پر آوازیں کستے سنے جا سکتے ہیں۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس حکام متحرک ہوئے اور اس بارے میں پہلے انسپکٹر جنرل پولیس اور اس کے بعد ایس ایس پی کی جانب سے کارروائی کرنے کے بیانات سامنے آئے اور پھر ان متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔

عامر کے بارے میں ایسی اطلاعات ہیں کہ وہ پشاور میں ایک شادی ہال میں بیرے کے طور پر کام کرتا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے شادی ہالوں کی بندش کے بعد وہ تین ماہ سے بیروزگار تھا۔

اس بارے میں تصدیق کے لیے عامر یا اس کے خاندان کے افراد سے رابطے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

تہکال کے رہائشی عامر کی ویڈیو کے بعد پشاور کے نواحی علاقے رشید گڑھی سے بھی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں ایک نوجوان اپنا موقف دیتے ہوئے عامر کے موقف کی تائید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ عامر کے ساتھ پولیس نے جو کچھ کرنا ہے کر لے۔

پولیس نے بعدازاں اس شہری کو بھی گرفتار کیا اور اس کی بھی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں اسے پولیس اہلکاروں کے سامنے معافی مانگتا ہوا دکھایا گیا ہے اور وہ بھی کہہ رہا ہے کہ اس نے غلطی کی ہے۔

پولیس اہلکاروں کے تشدد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مثالی پولیس کے الفاظ استعمال کر کے خیبر پختونخوا پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات کا ایجنڈا صرف دفاتر کی تزئین و آرائش اور مہنگی گاڑیوں کی خریداری تک محدود تھا اور تھانے اصلاحات کا حصہ نہیں تھے۔

خیبر پختتونخوا بار کونسل کا صوبہ بھر میں ہڑتال کا اعلان

دوسری جانب پشاور میں پیش آئے تشدد کے اس واقعے کے خلاف خیبرپختونخوا بار کونسل نے صوبے بھر میں کل (جمعہ) ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بار کونسل کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے پولیس کی جانب سے شہری کے ساتھ انتہائی غیرانسانی فعل روا رکھا گیا جو قابل مذمت ہے۔

انھوں نے اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے اور تمام وکلا کو درخواست کی ہے کہ وہ کل عدالتوں میں پیش نہ ہوں۔