طلبا کے احتجاج پر چیئرمین ایچ ای سی کا ردعمل: ’احتجاجی طلبا مفت میں پاس ہونا چاہتے ہیں جو کہ نہیں ہو گا‘

    • مصنف, بلال کریم مغل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کورونا لاک ڈاؤن کے باعث ہونے والے تعلیمی حرج کا مداوا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلبا نمائندوں کا کہنا تھا کہ آن لائن کلاسز کے باعث طلبا مشکلات کے شکار ہیں مگر پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے نگراں ادارے ایچ ای سی اور وزارتِ تعلیم کی جانب سے ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔

پریس کانفرنس میں طلبا نے تین بنیادی مطالبات پیش کیے جن میں سمیسٹر فیس معاف کرنا، سکولوں اور کالجوں کی طرح یونیورسٹی طلبا کو بھی اگلے سمیسٹر میں پروموٹ کرنا، اور آن لائن کلاسوں کا ایک بہتر نظام شامل ہیں۔

طلبا نے کہا کہ انھوں نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کو خطوط بھی لکھے ہیں لیکن ان کی جانب سے انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم کے شکایت پورٹل پر بھی ملک بھر سے شکایات درج کی گئیں لیکن وہاں سے بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔

طلبا رہنما اسد بن اعظم نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث یونیورسٹیوں میں کلاسیں نہیں ہو رہیں لیکن اس کے باوجود انھیں ہاسٹل، ٹرانسپورٹ، لائبریری، طلبہ سوسائٹیز اور دیگر فیسیں ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ٹیوشن فیس لیے جانے کے مخالف نہیں ہیں لیکن جب طلبا یونیورسٹی کیمپس کی سہولیات سے استفادہ نہیں کر رہے تو اس کی فیسں ان سے کیوں لی جا رہی ہیں۔

اسد نے کہا کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایچ ای سی کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے کے بعد انھیں ایچ ای سی کے ایک ڈائریکٹر نے بلایا اور ان کے مسائل سنے۔

’انھوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے مطالبات درست ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس اختیار نہیں اور وزارتِ تعلیم کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اختیار نہیں، تو آخر ہم کہاں جائیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی دستیابی میں مسائل رہتے ہیں ایسے علاقوں کے رہنے والے طلبہ فیسیں بھی ادا کر رہے ہیں اور تعلیم بھی حاصل نہیں کر پا رہے۔

انھوں نے کہا کہ جب حکومت نے دفاتر، بازار اور ٹرانسپورٹ کھول دیے ہیں تو تعلیمی ادارے بھی کھولے جائیں کیونکہ طلبہ ایس او پیز کی پابندی کرنا جانتے ہیں۔

اسد بن اعظم کا کہنا تھا کہ ان کے احتجاج کے بعد نو جون کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے چیئرمین ایچ ای سی کو طلب کیا ہے، اور اس اجلاس میں طلبا رہنماؤں کی نمائندگی بھی یقینی بنائی جائے۔

طلبا کے مطالبات پر بی بی سی اردو کی جانب سے وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود سے رابطے کی کوشش کی گئی ہے تاہم فوری طور پر ان کا مؤقف حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

’جسے نہیں پڑھنا نہ پڑھے، دوسروں کو نہ روکے‘

دوسری جانب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین طارق بنوری کا کہنا ہے کہ احتجاجی طلبا اقلیت میں ہیں اور اُس اکثریت کی نمائندگی نہیں کر رہے جو محنت سے علم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ احتجاجی طلبا مفت میں پاس ہونا چاہتے ہیں جو کہ نہیں ہو گا۔

طارق بنوری نے مزید کہا کہ آن لائن تعلیم سے نہ ہم خوش ہیں نہ طلبہ خوش ہیں، لیکن یہی واحد آپشن ہے۔

تعلیمی اداروں کی جانب سے فیسوں کے مطالبے پر انھوں نے کہا کہ جن طلبا کو آن لائن پڑھنا پسند نہیں ہے، وہ اپنا سمیسٹر منجمد کروا دیں اور یونیورسٹی واپس کھلنے پر اسی فیس پر دوبارہ آ جائیں۔

تاہم جب ان کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ طلبہ سے کیمپس کی سہولیات استعمال نہ کرنے کے باوجود لائبریری، ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل وغیرہ کی فیسوں کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس حوالے سے علم نہیں کہ طلبہ صرف مذکورہ فیسوں کی ادائیگی سے انکاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو انھیں دوسروں کو نہیں روکنا چاہیے۔

ایس او پیز کی پاسداری کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انھوں نے حکومت سے ہدایات طلب کی ہیں اور جو فیصلہ حکومت کرے گی، اس کے مطابق ہی عمل کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر ٹرینڈ

پاکستان میں اتوار کی شام کو ٹوئٹر پر #NoClassesNoFees کا ٹرینڈ سرِفہرست رہا جس میں طلبا مذکورہ بالا مطالبات پر مبنی ٹویٹس پوسٹ کرتے رہے۔

آکاش بلال نامی ایک صارف نے لکھا کہ فیس کا مطالبہ تعلیمی اداروں کی تنگ نظری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انھوں نے تعلیمی اداروں سے کہا کہ انھوں نے اس کاروبار سے جتنا کمایا ہے، اس میں سے خرچ کر کے سٹاف اور طلبہ کا خیال رکھیں۔

ایک طالبعلم مہر احمد نے لکھا کہ جب اسمبلیوں میں اجلاس ہو سکتے ہیں تو تعلیمی اداروں میں کلاسیں منعقد کرنے میں کیا حرج ہے۔

چوہدری سعود احمد نامی ایک صارف نے اس جانب توجہ دلائی کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے والدین بھی مالی مشکلات کے شکار ہیں جبکہ دوسری جانب تعلیمی اداروں کی جانب سے مسلسل فیس ادا کرنے کے مطالبے کیے جا رہے ہیں۔

اویناش نامی ایک صارف نے لکھا کہ ان کی ساڑھے 45 ہزار کی فیس میں صرف ساڑھے 13 ہزار روپے ٹیوشن فیس ہے، باقی تمام فیسیں دیگر مد میں لی جاتی ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ جب آن لائن پڑھایا جا رہا ہے تو صرف ٹیوشن فیس ہی لی جانی چاہیے۔ انھوں نے مزید لکھا کہ طلبہ آن لائن پڑھائی کے لیے اپنی بجلی، اپنا لیپ ٹاپ، اپنا انٹرنیٹ پیکج استعمال کر رہے ہیں۔