آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس: ’اس ملک میں بہت سے کام غیب سے ہی ہوتے ہیں‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اُٹھایا ہے کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر کی درخواست پر مذکورہ جج کے خلاف تحقیقات کی اجازت کس نے دی۔
اُنھوں نے یہ سوال بھی اُٹھایا کہ اثاثوں کی ریکوری کرنے والے ادارے یعنی اے آر یو نے اس شکایت پر فوری انکوائری کا آغاز کیسے کر دیا۔
اُنھوں نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ آے آر یو نے اب تک کتنی عوامی شکایات پر عوامی عہدہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل جسٹس سجاد علی شاہ نے بھی سوال اٹھایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی جائیداد کی تفصیلات انٹرنیٹ پر کیسے آ گئیں جبکہ مذکورہ جج کے خلاف شکایت کنندہ وحید ڈوگر کو تو قاضی فائز عیسی کے نام کے سپلینگ بھی نہیں آتے۔
عدالت نے ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ کیا شکایت کنندہ کی درخواست پر کارروائی کرنے سے پہلے ان کی ساکھ کا جائزہ لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ شکایت کو دیکھا جاتا ہے جبکہ شکایت کنندہ کی ساکھ اہمیت کی حامل نہیں ہوتی۔
اُنھوں نے کہا کہ وحید ڈوگر نے 10 اپریل سنہ 2019 کو اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو شکایت بھیجی اور 8 مئی سنہ 2019 کو لندن میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی جائیداد کے بارے میں اے آر یو کو خط لکھا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس خط میں شکایت کنندہ نے لندن کی جائیداد، جس قیمت پر خریدی گئی اور اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے بارے میں بتایا تھا۔
وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ کابینہ کے رولز آف بزنس کے تحت اے ار یو کو کارروائی کرنے کے لیے قانون کی حمایت حاصل ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر کا ماضی کیا ہے اور وہ کس میڈیا گروپ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وحید ڈوگر کی درخواست پر بڑی تیزی سے کام شروع کر دیا گیا، جس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اُنھیں گذشتہ سماعت کے دوران جن سوالات سے متعلق جواب دینے کے بارے میں کہا گیا تھا وہ صرف اسی پر توجہ رکھیں۔
جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا شکایت کنندہ وحید ڈوگر کو غیب سے معلومات ملتی تھیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ملک میں بہت سے کام غیبی مدد سے بھی ہوتے ہیں۔
وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں سنہ 1988 کے بعد ہر جائیداد کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے بچوں اور اہلیہ نے لندن میں اپنی جائیدادوں کو ظاہر نہیں کیا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ جج کی اہلیہ نے چند سال قبل اپنی آمدن چند ہزاروں میں ظاہر کی تھی جبکہ سنہ 2011-13 میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے بچے تعلیم سے فارغ ہو گئے اور اس مختصر عرصے کے دوران اُنھوں نے کیسے اتنی مہنگی جائیدادیں خرید لیں۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ بلاشبہ قاضی خاندان امیر ہے لیکن زرعی اراضی پر ٹیکس ظاہر نہیں کرتا۔
جسٹس مقبول باقر نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ایسا ہے تو پھر ایف بی آر نے اس معاملے پر کارروائی کیوں نہیں کی جس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے حکام نے خوف کی وجہ سے سپریم کورٹ کے جج کے خلاف کارروائی نہیں کی کیونکہ ایف بی آر کے حکام کو خوف تھا کہ اگر اُنھوں نے ایسا کیا تو اُنھیں کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے گا۔
جسٹس مقبول باقر نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ذہن میں رکھیں کہ ہر ایک کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی نکتے کو جائزہ لیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اہلیہ اور بچے جسٹس قاضی فائز عیسی کے زیر کفالت تھے بھی یا نہیں۔
بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ منی ٹریل کی بات کر رہے ہیں لیکن یہ بظاہر ٹیکس کی ادائیگی کا معاملہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ریفرنس پر جسٹس قاضی فائز عیسی پر بدعنوانی کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔
وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان جائیدادوں کی خریداری سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسی بینک ٹرانزیکشن دکھا دیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کا صرف ایک لائن کا جواب ہے کہ منی لانڈرنگ سنگین جرم ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ اگر پیسے بینکوں کے ذریعے بھیجے گئے تو پھر منی لانڈرنگ کی تعریف کیا ہو گی۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ایک تاثر یہ تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس فیض آباد پر ایک مذہبی جماعت کی طرف سے دیے گئے دھرنے پر فیصلے کی بنیاد پر دیا گیا لیکن اگر ایسا ہے تو پھر دوسرے جج کے خلاف حکومت نے ریفرنس کیوں فائل کیا جبکہ اُنھوں نے تو فیض آباد دھرنے کے بارے میں فیصلہ نہیں دیا۔
واضح رہے کہ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف بھی بیرون ممالک اثاثے چھپانے کا ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قاضی فائز عیسی کا مؤقف ہے کہ یہ جائیداد ان کے بچوں کی ہے جبکہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس کا جواب بچوں کی بجائے خود جسٹس قاضی فائز عیسی دیں۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جج کے بارے میں ریفرنس ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ انڈیا میں اثاثے جج کی اہلیہ کے بچوں کے نام تھے اور اُن کے خلاف تحقیقات شروع ہوئیں تو اس جج نے استعفیٰ دے دیا۔
بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انڈیا کے قانون کو چھوڑیں اور پاکستان کے قانون کی بات کریں۔
اُنھوں نے کہا کہ ایسا قانون دکھا دیں جس میں جج کو اپنی اور اپنے خاندان کے دیگر افراد کی جائیداد ظاہر کرنا ضروری ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی کے خلاف مناسب مواد کی موجودگی کو قانون سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ وہ ہر سوال کا جواب دیں گے لیکن پہلے اُنھیں حقائق بیان کرنے دیں۔
وفاق سے جواب طلب
سپریم کورٹ نے وفاق کے وکیل سے مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب مانگے ہیں:
- ریفرنس کی بدنیتی اور اے آر یو کی قانونی حثیت کے بارے میں بتائیں۔
- اگر صدارتی ریفرنس میں نقائص ہوں تو کیا سپریم جوڈیشل کونسل از خود کارروائی کر سکتی ہے۔
- اگر کوئی کمزور یفرنس ہو جس کے پس پردہ مقاصد ہوں تو کیا کونسل ایسے ریفرنس پر کارروائی کرنے کی پابند ہے یا پھر کونسل کمی کوتاہی کو نظر انداز کر کے کارروائی کر سکتی ہے۔
ان درخواستوں کی سماعت چار جون تک ملتوی کردی گئی ہے۔