مصباح الحق کو مداحوں کی شاباشیاں اور کچھ کھری کھری بھی

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نئے کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ کے بارے کیا گیا فیصلہ صحیح ہے یا غلط اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر ہی کیا جا سکے گا۔ لیکن پی سی بی کے فیصلے پر مداحوں اور ماہرین نے اپنا فیصلہ ابھی ہی سے سنا دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے اعلان میں بابر اعظم کو ایک روزہ کرکٹ ٹیم کا نیا کپتان مقرر کیا اور ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے والے فاسٹ بولر محمد عامر اور وہاب ریاض کے علاوہ میڈیم فاسٹ بولر حسن علی کو اس مرتبہ سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا۔

اس اعلان کے بعد سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والوں، بی سے ایک کیٹگری میں ترقی پانے والے پاکستانی کھلاڑیوں کے نام تو سو شل میڈیا پر ٹرینڈ کر ہی رہے ہیں لیکن ان میں فواد عالم لا نام بھی شامل ہے۔

جہاں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر ہونے کے ناطے مصباح الحق کو لوگ کھری کھری سنا اور شاباشیاں بھی دے رہے ہیں، وہیں ایک بار پھر مداحوں کا ایک دیرینہ شکوہ کہ فواد عالم کو کنٹریکٹ نہیں دیا گیا۔

ٹوئٹر پر صارف عدیل اظہر لوگوں کی اس حیرانی پر حیران ہیں کہ پی سی بی نے فواد عالم کو کنٹریکٹ نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتے ہیں ’میرے خیال میں فواد، مصباح کے مستقبل کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں۔ اُنھیں بس مصباح پر سے کچھ دباؤ کم کرنے کے لیے ٹیم میں ڈالا گیا تھا۔ ورنہ اُنھیں ایک بھی میچ کھلانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔‘

مصباح پر تنقید کے تیر صرف فواد عالم کے لیے نہیں چلے۔

بہت سوں کو شکایت ہے کہ محمد عامر، وہاب ریاض اور حسن علی کو کنٹریکٹ کیوں نہیں دیا گیا اور سرفراز کی کیٹگری اے سے کیٹگری بی میں تنزلی کی کیا تُک ہے۔

اظہر علی کی بھی کیٹگری اے میں شمولیت پر کچھ کو شکوہ ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف فخر کو سرفراز کو ون ڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے اور بابر اعظم کے کندھوں پر یہ بوجھ ڈالنے کے فیصلے پر بھی غصہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بہت برا فیصلہ ہے۔ اُن کی بیٹنگ کافی دباؤ میں آجائے گی۔۔ سرفراز کا کپتان کے لیے انتخاب بہتر ہوتا۔۔ کیا فیصلہ ہے یہ۔۔ عامر اور وہاب کہاں ہیں۔ مصباح کی منصوبہ بندی پورے کرکٹ سٹرکچر کو تباہ کر دے گی۔‘

کھیلوں کی تجزیہ کار اور اینکر فضیلہ صبا کاشف کہتی ہیں کہ ’مصباح الحق اور اُن کی مینجمنٹ نے ارادہ کر لیا ہے کہ نوجوان نسل کے ساتھ آگے جانا ہے لیکن تین تیز پیسرز کو اپنے بولنگ اٹیک سے نکالنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں لگتا۔‘

لیکن ہر کوئی نا خوش نہیں ہے۔

حمزہ کلیم بٹ کہتے ہیں ’مصباح الحق نے محمد عامر، وہاب ریاض اور حسن علی کو کنٹریکٹ نہ دینے کے بہت ہی اچھے فیصلے کیے ہیں۔ شاہین شاہ کی کیٹگری اے میں پروموشن اور نوجوان حیدر علی کو کنٹریکٹ ملنے پر خوش ہوں۔‘

اسد قاسم نے محمد عامر کو کنٹریکٹ نہ دینے کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ ’اب محمد عامر کو مکمل آزادی ہے کہ وہ دنیا بھر میں ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیلیں۔‘

محمد عامر کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے عثمان قریشی نے کہا کہ ’محمد عامر کو صرف اس لیے نکالا گیا کیونکہ وہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے ہیں۔۔۔محمد عامر اب بھی ون ڈے رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہیں اور ٹاپ ٹین میں پاکستان کی طرف سے کھیلنے والوں میں صرف اُن کا نام ہے۔‘

بابر اعظم کو باقاعدہ ون ڈے ٹیم کا کپتان بنانے پر بہت سے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کئی مداحوں نے اُن کی بیٹنگ خاص کر ’کور ڈرائیوز‘ کی ویڈیوز پوسٹ کیں اور اس فیصلے کو سراہا۔

یاد رہے کہ بابر اعظم اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی بھی سنبھال چکے ہیں جبکہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت اظہر علی کے پاس ہے۔

صحافی افرا فیروز نے ٹویٹ کی کہ ’اپنی کارکردگی کے ساتھ ساتھ وہ دباؤ بھی جھیل سکتے ہیں۔ بابر کو ون ڈے کا کپتان بنانے کا فیصلہ 2023 کے ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔‘

کچھ کو پریشانی بھی ہے کہ بابر اعظم پر زیادہ بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور اس سے اُن کی بیٹنگ متاٽر ہوگی۔

بابر اعظم کے علاوہ نوجوان کھلاڑی حیدر علی کا نام بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔ انھیں ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی کیٹگری میں شامل کرنے کے فیصلے پر بہت سے کرکٹ شائقین نے خوشی کا اظہار کیا۔ حیدر علی نے پچھلے انڈر 19 ورلڈ کپ میں اچھی پرفارمنس دی تھی اور شائقین اُن کے بیٹنگ سٹائل سے بہت متاٽر نظر آئے۔ بہت سے ماہرین نے ان کا موازنہ بابر اعظم سے بھی کرنا شروع کیا۔

سہیل شیخ لکھتے ہیں کہ بابر اعظم اور حیدر علی کو ساتھ بیٹنگ کرتے دیکھنے کا انتظار ہے۔

جہاں نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے وہیں کچھ لوگوں کو اس بات پر شکوہ ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

صحافی صہیب بٹ کہتے ہیں کہ ’قائد اعظم ٹرافی میں پرفارم کرنے کی ضرورت نہیں بس کوشش کریں کہ بی بی ایل میں جگہ مل جائے، وہاں چند میچوں میں پرفارم کریں اور پاکستان ٹیم میں اور پی سی بی کا سنٹرل کنٹریکٹ حاصل کریں۔‘

فیضان خان کہتے ہیں کہ ’اچھا لگا کہ شاہین اور بابر کیٹگری اے میں ہیں جبکہ وہاب، عامر اور حسن علی کا کنٹریکٹ ختم ہوا۔ یہ دلیرانہ فیصلے ہیں لیکن صحیح ہیں۔ حیدر، حارٽ اور حسنین کی ایمرجنگ کیٹگری میں شمولیت پر خوشی ہوئی‘۔

اس وقت پاکستان میں 30 بڑے ٹرینڈز میں سے تقریباً آدھے سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے اور ان میں شامل نہ کیے جانے والے کھلاڑیوں کے بارے میں ہیں۔