آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جسقم آریسر: کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے مطالبات کیا ہیں؟
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کی وفاقی وزارتِ داخلہ نے گزشتہ روز سندھی قوم پرست تنظیم جیئے سندھ قومی محاذ (جسقم) کے آریسر گروپ کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
سرکاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ جیئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ، سندھو دیش ریولوشنری آرمی اور سندھو دیش لبریشن آرمی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے اور یہ تنظیمیں تخریب کاری میں ملوث رہی ہیں۔
قوم پرست رہنما عبدالواحد آریسر کی جماعت جسقم (آریسر) سندھ سے لاپتہ سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لیے بھی سرگرم تھی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں ماؤں کے عالمی دن کے موقعے پر ٹوئٹر پر ’سندھ سے لاپتہ افراد‘ رہا کیے جائیں کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے ایک ہفتہ قبل قوم پرست رہنما عبدالواحد آریسر کو خراج تحسین پیش کرنے کا ٹرینڈ چلا جو ہزاروں تک پہنچا اور پاکستان کے ٹاپ ٹرینڈز میں بھی ابھرا۔
جیئے سندھ تحریک کیا ہے؟
تین مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی میں سندھ کے سینیئر سیاستدان جی ایم سید نے پاکستان کے قیام کے لیے قرارداد پیش کی تھی۔ سندھ یہ قرارداد پیش کرنے والا پہلا صوبہ تھا۔
مگر انھی جی ایم سید نے 1973 میں سندھو دیش یعنی سندھ کے ایک آزاد حیثیت میں قیام کا تصور پیش کیا تھا۔
سندھی ادیب اور تاریخ نویس خادم سومرو کا کہنا ہے کہ یہ وہ ہی وقت ہے جب 1973 کا آئین پیش کیا گیا تھا۔ آئین سازی سے پہلے جی ایم سید نے ذوالفقار علی بھٹو کو صوبائی خود مختاری یقینی بنانے کے لیے اور مذہبی شدت پسندی اور ڈکٹیٹر شپ کا راستہ روکنے کے لیے تجاویز پیش کی تھیں جنھیں نظر انداز کر دیا گیا۔
خادم سومرو کے مطابق آئین منظور ہونے کے بعد جی ایم سید بدظن ہوگئے۔ ان کا خیال تھا کہ اس آئین کے تحت سندھ کو کبھی حقوق نہیں ملیں گے اور آخرکار حیدرآباد میں طلبہ کے ایک پروگرام میں انھوں نے پہلی بار سندھو دیش کا تصور پیش کیا۔
جیئے سندھ قومی محاذ آریسر کی قیادت اور سیاست
جی ایم سید کے بعد سندھ میں عبدالواحد آریسر جیئے سندھ تحریک کے دوسرے بڑے رہنما اور فلسفی تھے جو 2015 میں وفات پا گئے۔
جی ایم سید کے انتقال کے بعد جیئے سندھ کے چھ دھڑوں کے انضمام کے بعد انھیں چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔
سندھ کے نامور ادیب تاج جویو کا کہنا ہے کہ ون یونٹ مخالف تحریک کے بعد تمام ’آزادی پسندوں‘ نے جیئے سندھ محاذ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی اور بطور چیئرمین عبدالواحد آریسر کو منتخب کیا گیا۔
اس کے بعد آریسر نے سندھ کے ہر شہر اور قصبے میں پبلک ٹرانسپورٹ، پیدل یا سائیکل کے ذریعے پر پہنچ کر جیئے سندھ تحریک کا پیغام پہنچایا۔
تاج جویو کہتے ہیں، ’جی ایم سید کی تحریک میں سادگی اور رومانس آریسر ہی لائے، جس سے سندھ میں قوم پرست سوچ کا شعور آیا اور جی ایم سید کے بعد وہ جیئے سندھ تحریک کے دوسرے بڑے رہنما کے طور پر ابھرے۔‘
2007 میں جیئے سندھ قومی محاذ سے علیحدگی اختیار کرکے اپنا گروپ تشکیل دینے والے عبدالواحد آریسر کا شمار ان چند سیاستدانوں میں ہوتا تھا جنھوں نے کسی آمر یا حکومت سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاالحق، نواز شریف اور جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں جیل میں رہے۔
عبدالواحد آریسر 30 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے جن میں چار جیل ڈائریوں سمیت جی ایم سید کی فکر و شخصیت پر بھی کتابیں ہیں۔ ان میں سے 15 سے زائد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
’عدم تشدد‘ پر مبنی جدوجہد
کالعدم جیئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کے چیئرمین اسلم خیرپوری کا کہنا ہے کہ وہ جی ایم سید کے نظریے کے پیروکار ہیں جس کے تحت ان کی منزل سندھو دیش ہے۔
لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت پرامن جدوجہد کر رہی ہے کیونکہ جی ایم سید نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا۔ انھوں نے 32 سال جیل اور نظر بندی میں گزار دیے لیکن تشدد کی حمایت نہیں کی۔
’2017 سے ہماری تنظیم کے خلاف ایک غیر اعلانیہ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے کئی کارکن جبری لاپتہ ہوئے اور اس وقت بھی ان کی تعداد 17 کے قریب ہے۔ اس طرح ہماری جدوجہد میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تھیں۔‘
جیئے سندھ تحریک سے وابستہ اکثر گروہ غیر فعال ہیں اور جی ایم سید کی سالگرہ، برسی اور چند دیگر مواقع پر ان کی سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔ سب سے بڑا گروہ جیئے سندھ قومی محاذ بشیر قریشی گروپ تھا جو 2012 میں بشیر قریشی کی پراسرار ہلاکت کے بعد غیر فعال ہوتا گیا۔
اسلم خیرپوری کا کہنا ہے کہ سندھ کی قوم پرست سیاست میں ایک طویل خاموشی کے بعد 14 اپریل 2019 سے انھوں نے کراچی سے پرامن سیاسی جدوجہد شروع کی جو پانچ نکات پر مشتمل تھی۔
یہ پانچ نکات تھے کہ 1964 کے بعد جو سندھ میں غیر مقامی لوگ آئے ہیں انھیں بے دخل کیا جائے، دریائے سندھ پر مزید کوئی ڈیم منظور نہیں ہے، انڈس ڈیلٹا میں پانی فراہم کیا جائے، سندھ کے جو معدنی وسائل ہیں اس پر سندھ اور یہاں کے لوگوں کا حق تسلیم کیا جائے، اور جبری گمشدہ کارکنوں کو رہا کیا جائے۔
اسلم خیرپوری نے دعویٰ کیا کہ وہ پرامن سیاسی جدوجہد کر رہے تھے لیکن یہ بھی ریاستی اداروں کو ناگوار گزرا اور انھیں کالعدم قرار دے دیا گیا۔
انھوں نے الزام لگایا کہ اس فیصلے کے ذریعے انھیں اپنے حقیقی مطالبات اور شکایات عالمی ضمیر تک پہنچانے سے روکا جا رہا ہے، اور اسے ’بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
کیا قوم پرست سیاست میں پرتشدد رجحانات رہے ہیں؟
سندھ میں جیئے سندھ قومی محاذ، جیئے سندھ محاذ، جیئے سندھ تحریک، جیئے سندھ قوم پرست پارٹی سمیت کئی جماعتیں قوم پرست سیاست کر رہی ہیں اور خود کو جی ایم سید کی پیروکار قرار دیتی ہیں، مگر ان میں سب سے مختلف انداز جیئے سندھ متحدہ محاذ (جسمم) نے اختیار کر رکھا ہے، جس کی بلوچ عسکریت پسند تحریک سے بھی ہم آہنگی موجود ہے۔
شفیع برفت کی زیرِ قیادت جیئے سندھ متحدہ محاذ پہلے ہی کالعدم قرار دی جا چکی ہے۔
سندھ میں ریلوے کی پٹڑیوں اور بجلی کے ہائی ٹرانسمیشن کھمبوں اور لائنوں پر دھماکوں کے بعد پولیس جائے وقوعہ سے سندھو دیش ریولوشنری آرمی اور سندھو دیش لبریشن آرمی کے پمفلٹ برآمد کرنے کے دعوے کرتی رہی ہے۔
اس کے علاوہ 2013 میں کراچی میں چین کے سفارتخانے کے باہر ایک ہلکی نوعیت کے دھماکے، 2016 میں کراچی کے علاقے گلشن حدید میں چینی انجینیئر کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے علاوہ سکھر کے قریب سی پیک منصوبے کے اہلکاروں پر حملے کی بھی ذمہ داری یہ گروپ قبول کرتے رہے ہیں۔
اس سے قبل حیدرآباد میں 1987 میں اس وقت کے میئر آفتاب شیخ پر حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ اس حملے کا الزام جیئے سندھ کے کارکنوں پر ہی عائد کیا گیا اور پولیس نے مقدمہ بھی درج کیا، آفتاب شیخ کا تعلق مہاجر قومی موومنٹ سے تھا۔
اگلے سال ستمبر 1988 میں حیدرآباد میں نامعلوم مسلح افراد نے سڑکوں پر عام لوگوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 150 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے اور اس کا مقدمہ ڈاکٹر قادر مگسی، شفیع برفت اور دیگر کے خلاف دائر کیا گیا۔
بعد میں عدالت نے قادر مگسی کو بری کر دیا اور شفیع بُرفت مفرور رہے۔ قادر مگسی اس وقت سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ہیں اور شفیع برفت کالعدم جیئے سندھ متحدہ محاذ کی سربراہی کر رہے ہیں اور اس وقت جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے۔
جیئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ اور کالعدم جیئے سندھ متحدہ محاذ کا مقصد ایک یعنی سندھ کی آزادی لیکن طریقہ کار مختلف رہا ہے۔ دونوں ہی جماعتیں پاکستان چین اقتصادی راہداری کی مخالف اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی حامی رہی ہیں۔
جی ایم سید نے ایم کیو ایم سے مذاکرات کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی تھی اس کے سربراہ عبدالواحد آریسر تھے جن کے کامیاب مذاکرات کے بعد دونوں فریقین کے گلے شکوے ختم ہوئے، اور زندگی کے آخری ایام تک وہ ایم کیو ایم کے حامی رہے۔