کورونا وائرس: اوکاڑہ کے نوجوان نے کیسے گھر پر سینیٹائزر بنا کر اپنے گاؤں میں عام کیے

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad
- مصنف, فیضان احمد
- عہدہ, صحافی
پاکستان میں کورونا وائرس کے خلاف میڈیا کے ذریعے آگہی مہم مسلسل جاری ہے لیکن کئی دیہی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ذرائع ابلاغ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو کووِڈ-19 اور اس کے باعث کیے گئے تاریخی لاک ڈاؤن کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
معمولی ذرائع آمدن کے ساتھ زندگی گزارنے والے دیہاتیوں کو روزانہ اپنی فصلوں کی نگرانی اور مویشیوں کے لیے چارہ کاٹنے کی غرض سے اپنے محفوظ گھروں سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔
انھیں گندم کی کٹائی کے بارے میں بھی فکر ہے اور اپنی سبزیوں کی دوسرے شہروں تک رسائی کی بھی جو آج کل معطل ہیں۔
زیادہ تر دیہاتی اپنی گزر بسر کے لیے انھی فصلوں پر گزارا کرتے ہیں۔

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

جب پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق ہوئی تو میڈیکل کے طالبعلم عبداللہ اپنے گاؤں واپس آگئے۔
ان کا بصیر پور نامی گاؤں پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں واقع ہے اور اپنے دینی مدارس کے لیے مشہور ہے جہاں سینکڑوں طلبا چھوٹی چھوٹی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad
عبداللہ کہتے ہیں کہ 'جب میں اپنے گاؤں واپس لوٹا تو دیکھا کہ لوگ کورونا وائرس کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ گھر واپس جاتے ہوئے میں نے جب اپنے ایک پڑوسی سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا تو انھوں نے کہا کہ 'کورونا وائرس مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔''
'اگلے دن 17 مارچ کو جب میں نے پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی خبر سنی تو میں نے ارادہ کر لیا کہ گاؤں کی ہر مسجد میں جا کر لوگوں کو کورونا کے خلاف آگہی دوں گا اور بتاؤں گا کہ موجودہ صورتحال میں گھر پر رہنا کیسے ان کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔'
عبداللہ بتاتے ہیں کہ ان کے گاؤں میں مسجد ہی وہ جگہیں ہیں جہاں وہ لوگوں کی اکثریت سے بیک وقت مخاطب ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اٹلی اور چین سے کورونا وائرس کے بارے میں خبریں دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے چند ریسرچ پیپر پڑھے اور یوٹیوب ویڈیوز دیکھیں کہ گھر پر ہینڈ سینیٹائزر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad
'اسی دن میں نے اپنے دوستوں کی مدد سے کوار گندل (ایلو ویرا) کے پودے، آئسوپروپائل الکوحل، اور دیگر اجزا خریدیں۔ میں نے فارمیسی پڑھنے والے اپنے چند دوستوں سے بھی بات کی اور سینیٹائزر بنانا شروع کر دیا۔'
پھر عبداللہ اور ان کے دوست جمعے کی نماز سے قبل مسجد گئے اور مساجد کے آئمہ سے کہا کہ وہ لوگوں کو صرف سینیٹائزر سے ہاتھ صاف کرنے کے بعد ہی مسجد میں داخل ہونے دیں۔

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad
وہ کہتے ہیں کہ 'آدھی مساجد نے تو مجھے لوگوں سے خطاب کرنے نہیں دیا لیکن اچھی بات یہ ہے کہ انھوں نے سینیٹائزر لینے سے انکار نہیں کیا۔'
انھوں نے بتایا کہ 'جمعے کی نماز سے قبل ان کے مختصر سے خطاب کے بعد لوگ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سوالات پوچھا کرتے۔'

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad
عبداللہ نے مقامی سرکاری ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کو سینیٹائزر فراہم کیے جن کے پاس ویسے سینیٹائزر موجود نہیں تھے۔ 'باقی بچ جانے والی بوتلیں ہم نے تھانے، ڈاکخانے، ٹاؤن کمیٹی اور ریلوے سٹیشن میں تقسیم کر دیں۔ چند افسران نے تو مزید سینیٹائزر بنانے میں ہماری مدد بھی کی۔'
اس کے بعد وہ سینیٹائزر کی تقسیم کے ساتھ ساتھ لوگوں کو وائرس سے بچنے کے بارے میں بھی آگاہ کرتے رہے۔ 'چونکہ ہمارے گاؤں میں زیادہ تر لوگوں کے پاس ٹی وی نہیں ہیں، اس لیے انھیں اس سے پہلے معلوم نہیں تھا کہ کورونا وائرس کس قدر خطرناک ہے۔'

،تصویر کا ذریعہfaizan ahmad

،تصویر کا ذریعہFaizan Ahmad
عبداللہ کہتے ہیں کہ 'جب میں واپس جا رہا تھا تو کافی اداس تھا، مگر جب مجھے ایک 64 سالہ کاشتکار نے بتایا کہ وہ اپنی بھینسوں کے لیے گھاس کاٹنے کے بعد اپنے ہاتھ سینیٹائز کر رہی ہیں اور دوسروں سے فاصلہ بھی رکھیں گی، تو مجھے چین آ گیا۔'
تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔












