آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کہتے ہیں کہ انھوں نے اقلیتی کمیشن میں شامل ہونے کی درخواست نہیں کی
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی کوئی ایسی درخواست نہیں کی کہ انھیں اقلیتی کمیشن میں شامل کیا جائے اور یہ کہ اس بحث سے متعلق حکومتی عہدیداروں کے بیانات سے انھیں مزید امتیازی سلوک اور نفرت کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
جماعت احمدیہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل احمدی برادری کو اقلیتی کمشین میں شامل کرنے سے متعلق تجویز کابینہ کے ایک اجلاس میں سامنے آئی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان کے آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان کے مطابق وہ آئینِ پاکستان اور اس میں دی گئی مذہبی آزادی کو تو مانتے ہیں لیکن اس میں خود کو غیر مسلم قرار دیے جانے کو تسلیم نہیں کرتے۔
احمدی برادری کا موقف
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ حکومت کی جانب سے احمدی برادری کو اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا تھا کہ 'ہم نے اس کمیشن میں شامل ہونے کی درخواست نہیں کی تھی اور اس معاملے پر نہ ہی حکومت کی جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقلیتی کمیشن میں شامل نہ کیے جانے پر وہ کہتے ہیں 'ہماری کوئی مرضی تھی نہ ہمیں اس کا افسوس ہے۔۔۔ کسی بھی ملک کی پارلیمان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کے ایمان کا فیصلہ کریں کیونکہ یہ انسان اور اس کے خدا کا معاملہ ہے۔'
ان کے مطابق ملک میں اقلیتی کمیشن کی اتنی اہمیت اور اختیارات نہیں جتنے ہونے چاہییں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس آئینِ پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں جو مذہبی آزادی دیتا ہے لیکن اس میں ترامیم کر کے احمدی برادری کو اقلیت قرار دیے جانے کو تسلیم نہیں کرتے۔
'ہم لوگ اپنے آپ کو اقلیت تسیلم نہیں کرتے اور ہمیں پارلیمان نے ناجائز طور پر 1974 میں ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ کابینہ کے اجلاس میں احمدیوں کے بارے میں کیا بات کی گئی اور پھر ٹیلی ویژن پر آکر وزیر نے کیا بات کی۔ اس سے انھیں تو کوئی فرق نہیں پڑا۔۔۔ ہمارے لوگ پہلے ہی غیر محفوظ ہیں اور اس معاملے کے بعد ہم مزید غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'ہمارے خلاف پہلے ہی نفرت اور اشتعال انگیزی پائی جاتی ہے اور حکومتی عہدیداروں کی ان باتوں کی وجہ سے ان کو مزید ہوا مل گئی ہے۔'
ان کے مطابق ایسے مسائل صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اٹھائے جاتے ہیں۔ 'آئین کی جس شق کے مطابق ہمیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ہم (اقلیت ہونے کا) اعلان کریں۔ اس لیے ہم اس بات کو تسیلم ہی نہیں کرتے۔'
حکومت احمدی برادری کی رضا مندی یا پوچھے بغیر انھیں اقلیتی کمیشن میں شامل کر سکتی ہے؟
اس معاملے کے قانونی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اسد جمال کا کہنا ہے کہ 'آئین کا سب سے اعلیٰ اور بنیادی حصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے پاکستان میں موجود ہر شخص کو اس کے بنیادی حقوق دیے جائیں۔
'حکومت کے چند وزرا نے کہا کہ وہ (احمدی) آئین کو نہیں مانتے، اس لیے انھیں وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو آئین کے تحت (اقلیتوں سمیت) تمام پاکستانیوں کو حاصل ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ 'آئین کو نہ ماننے والے لوگوں کے بھی حقوق ہیں جو پورے کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی آئین کی شقوں سے اختلاف کرتا ہے تو پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔'
اسد جمال اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اقلیتی کمیشن کے پاس اتنے اختیارات نہیں ہیں۔
'جس اقلیتی کمیشن پر یہ ساری بحث کی جا رہی ہے، وہ ایک نام نہاد کمیشن ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور کمیشن صرف کاغذوں تک ہی محدود ہے۔ یہ کمیشن 1990 میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بنا تھا۔۔۔ ان کی بات یا مسائل آگے وزارت مذہبی امور تک پہچانے کے لیے یہ کمیشن بنایا گیا تھا۔
'یہ قانونی بنیادوں پر بنا ہوا ادارہ نہیں ہے۔ انسانی حقوق کے قومی کمیشن کی قانونی حیثیت ہے لیکن اقلیتی کمیشن کی نہیں ہے۔'
انھوں نے بتایا کہ سنہ 2016 میں انسانی حقوق کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومتِ پاکستان نے اقوام متحدہ سے معاہدہ کیا تھا کہ اقلیتی کمیشن کو قانون کے تحت قائم کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
انھوں نے مزید کہا کہ 'اختلاف رائے کی آزادی، مذہبی آزادی اور ضمیر کی آزادی کا بنیادی حق جو آئین پاکستان ہر شہری کو دیتا ہے اس کی بنیاد پر احمدی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم صرف خود کو غیر مسلم قرار دینے والی شق کو نہیں مانتے اور باقی آئین کو مانتے ہیں۔ کیونکہ قانونی طور پر اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔
'آئین کی شقوں پر بحث کی جاسکتی ہے۔ اصولی طور پر جب ریاست پاکستان انھیں غیر مسلم قرار دیتی ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں سے جڑے ہر معاملے پر احمدیوں کو دعوت دیں۔‘
اسد جمال کے مطابق 'جہاں تک بات ہے کہ کیا قانونی طور پر حکومت انھیں خود سے ایسے کمیشن یا اقلیتوں میں شمار کر سکتی ہے، تو ابھی تک تو ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ لیکن اگر پارلیمان ایسا کوئی قانون منظور کرتی ہے تو پھر یہ کیا جا سکتا ہے، ورنہ نہیں۔'
اس معاملے پر صدر لاہور بار جی اے خان طارق نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری پابند ہے کہ وہ آئین کو مانے اور اس پر عمل کرے۔
وہ کہتے ہیں ’آئین پاکستان نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے اس لیے میرے خیال میں تو جو اقلتیوں کے حقوق ہیں وہ انھیں ملنے چاہییں لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بھی خود کو اقلیت مانیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور اپنے آپ کو اقلیت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے تو وہ کیسے اقلتیوں کی کسی سیٹ پر آ سکتے ہیں۔
'احمدی آئین کی شق میں مذہبی آزادی کی بات کرتے ہیں ہے تو انھیں یہ بھی یاد ہونا چاہیے کہ جب انھیں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا تو آئین میں ہی ان کی مذہبی رسومات کے حوالے سے کوڈ آف کنڈکٹ بھی بتایا گیا تھا۔ جس میں یہ باتیں شامل تھیں کہ یہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح کی گئی کہ ان کا عبادت کا طریقہ کار مسلمانوں سے ملتا جلتا ہوگا لیکن اس کے باوجود بھی یہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'جب تک احمدی آئین کے مطابق اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں مانتے تب تک وہ کیسے اسی آئین کی حقوق مانگ سکتے ہیں۔'
'تاہم قانونی طور پر دیکھا جائے تو اگر کوئی بھی شخص جو آئین کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کے خلاف فوجداری قوانین موجود ہیں اور آئین پاکستان میں بھی ایسے شخص کو غدار کہا گیا ہے جو آئین کی کسی بھی شق سے انکار کرتا ہے۔'
اقلیتی کمیشن کب اور کیوں بنایا گیا تھا؟
تاریخ دان یعقوب بنگش کے مطابق پاکستان میں سنہ 1990 سے کئی ایڈ ہاک اقلیتی کمیشنز کام کر رہے تھے تاکہ غیر مسلم آبادی کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔
اگر کسی اقلیت کو مسائل یا امتیازی سلوک کا سامنا ہے تو وہ اپنی شکایات لے کر اس کمیشن کے پاس آسکتی ہیں۔
تاہم اس اقلیتی کمیشن کے پاس اس بات کا اختیار موجود نہیں ہے کہ وہ اقلیتوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ خود سے لے سکے۔ اگر انھیں اقلیتوں کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنا ہوگا تو وہ اپنی سفارشات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھجوائیں گے۔
اگر اقلیتوں کی طرف سے کوئی شکایت آتی ہے تو اس کے حل کے لیے بھی کمیشن کو پہلے متعلقہ محکمے کو بتانا ہوگا تاکہ اس کے حل کے لیے کوئی اقدام اٹھایا جا سکے۔ تاہم اس کمیشن کی کارکردگی، اختیارات، کام کے طریقہ کار اور اس کے وجود پر بہت سے لوگوں کو اب بھی اعتراضات ہیں۔