ثانیہ نشتر کے برقعے میں دورے پر سوشل میڈیا پر ردِعمل: ’اصل ریاست مدینہ اور آج کی ریاست میں فرق صرف کیمرے کا رہ گیا ہے‘

ثانیہ

،تصویر کا ذریعہ@SaniaNishtar

بچپن سے اب تک پرانی فلموں اور ڈراموں میں جاسوسی کرنے والوں کو اکثر برقعے میں بھیس بدل کر دشمن کے علاقے میں جاتے دیکھا یا پڑھا تو ضرور ہو گا۔ اور اگر میری طرح آپ بھی جیمز بانڈ فلموں کے شیدائی ہیں تو یقیناً منی پینی کو تو جانتے ہی ہوں گے لیکن پاکستانی سوشل میڈیا پر جاسوسی کرداروں اور منی پینی کا کیا کام؟

دراصل ہوا کچھ یوں کہ گذشتہ روز وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر برقع میں بھیس بدل کر احساس ایمرجنسی کیش سنٹر پہنچ گئیں۔

اس دوران انھوں نے مستحق افراد کی لائن میں لگ کر رقوم کی تقسیم کا جائزہ بھی لیا۔

آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہو گا ’تصویر دکھاؤ، ورنہ ہم نہیں مانتے‘ شاید اسی لیے ثانیہ بھی اس مشن پر اپنے ہمراہ کیمرہ مین لے گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اب کورونا وائرس کے خدشے سے جہاں زیادہ تر افراد گھروں میں بند ہیں یا گھر سے دفتری امور سرانجام دے رہے ہیں ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ثانیہ کی اس بہادری کی تعریف کی جاتی۔ لیکن پاکستانی سوشل میڈیا صارفین تو بس موقعے کی تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ثانیہ نے اپنی تصاویر پوسٹ کرکے انھیں یہ موقع خود ہی دے دیا۔

ثانیہ کے دورے کی عکاسی کرتے رضا احمد کہتے ہیں ’برقع پہن کر حلیہ بدل لیا، اپنی ٹیم کا ایک کیمرہ مین میرے پیچھے پیچھ تھا، مجھے لگا کوئی مجھے نہیں دیکھ سکتا۔‘

رضا

،تصویر کا ذریعہ@razaahmad

ثانیہ پر تنقید کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’کم از کم انسپکٹر جمشید ہی پڑھ لیتیں۔‘

اب برقعے کا ذکر آئے اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو یاد نہ کیا جائے، ایسا کیسے ممکن ہے۔ یار رہے لال مسجد میں آرمی آپریشن کے دوران مولانا عبدالعزیز نے برقعے میں فرار کی کوشش کی تھی۔

برقعہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/nadirdaman

جہاں کچھ صارفین ثانیہ کو مشہور جاسوسی فلم ڈبل او سیون کے کردار منی پینی سے تشبیہ دیتے اور یہ کہتے نظر آئے کہ عمران خان کو ڈبل او سیون کی کیا ضرورت کیونکہ منی پینی خود ایک سیکرٹ ایجنٹ (یعنی جاسوس) ہیں، وہیں کئی افراد نے انھیں اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ ’آپ نے ماسک اور داستانے تک نہیں پہن رکھے اور آپ دو میٹر سے بھی کم فاصلے پر کھڑی ہیں۔ شاید آپ خود ہی کورونا کیرئیر ہوں۔ ایسے میں کون سے حفاظتی اقدامات کی بات کر رہیں ہیں آپ؟‘

ثانیہ کے دورے نے کئی صارفین کو ریاستِ مدینہ کی یاد دلا دی تاہم ایک صارف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اصل ریاست مدینہ اور آج کی ریاست میں فرق صرف کیمرے کا رہ گیا ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@zefaranjum

ایک صارف سلمیٰ جمفر کہتی ہیں ’مجھے تو یہ خود کی مشہوری والی مہم لگی، ورنہ یہاں شئیر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔‘

جہاں کئی افراد نے ثانیہ کو جاسوسی کرداروں سے تشبیہ دے کر ان پر تنقید کی وہیں انھیں ایک سپر ماڈل اور رول ماڈل قرار دینے والے افراد کی بھی کمی نہیں۔

ثانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے بابر عباسی کہتے ہیں ’آپ کی اس محنت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ عمران خان کے ویژن کو صحیح سمت میں آگے لے کر جانے پر آپ کو مبارک۔‘

ایک من چلے نے تو اس موقع پر میر تقیٰ میر کا ایک شعر بھی ثانیہ کے نام کر دیا۔

کاش کے برقع رہے اس رخ پہ میرؔ

منھ کھلے اس کے چھپا جاتا ہے جی